پاکستان کی عالمی سفارتی کوششیں: صلح، امن اور ترقی کے امکانات – تحریر: قریش خٹک
.
پاکستان کی موجودہ سول اور عسکری قیادت اس وقت مشرقِ وسطیٰ کے بدلتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی منظرنامے میں ایک نہایت فعال اور کثیر الجہتی سفارتی رابطہ کاری میں مصروف ہے۔ یہ محض روایتی خارجہ پالیسی کا تسلسل نہیں بلکہ ایسی سفارت کاری ہے جس کے اثرات علاقائی استحکام اور عالمی سیاست پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ایسے نازک وقت میں جب خلیج کی فضاؤں میں جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں اور وقفے وقفے سے کشیدگی میں اضافہ بھی دیکھنے میں آ رہا ہے، اسلام آباد کا واشنگٹن، تہران اور دیگر علاقائی طاقتوں کے ساتھ رابطہ کاری کا عمل پاکستان کو ایک اسٹریٹجک پل کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ یہ کردار نہ صرف کشیدگی میں کمی بلکہ فریقین کے درمیان بامعنی مکالمے کی راہ ہموار کرنے کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔
سفارتی ماہرین اور میڈیا رپورٹس کے مطابق، پاکستان کی ان کوششوں کا بنیادی محور امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی اور عدم اعتماد کی خلیج کو کم کرنا ہے۔ اگرچہ بین الاقوامی سیاست میں ایسے پیچیدہ معاملات کے نتائج فوری طور پر سامنے نہیں آتے، تاہم پاکستان کی یہ کاوشیں عالمی سطح پر دیکھی اور سراہی جا رہی ہیں۔ امریکی وائٹ ہاؤس سے لے کر تہران تک ان رابطوں کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے، کیونکہ خطے میں کسی بھی ممکنہ پیش رفت کے اثرات براہِ راست عالمی توانائی کی قیمتوں اور بحری تجارت کی سلامتی سے جڑے ہوئے ہیں۔
اس تناظر میں وزیراعظم شہباز شریف کے سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کے حالیہ دورے محض رسمی نوعیت کے نہیں بلکہ وسیع تر علاقائی مشاورت اور اتفاقِ رائے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔ دوسری جانب، سپہ سالارِ پاکستان، فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ایران کے ساتھ دفاعی و سفارتی روابط اس مجموعی عمل کو وہ اسٹریٹجک تقویت فراہم کرتے ہیں جو کسی بھی پائیدار سفارتی پیش رفت اور علاقائی استحکام کے لیے ناگزیر سمجھی جاتی ہے۔
اسلام آباد میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران مختلف ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود کی آمد و رفت، بالخصوص ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات، اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان ایک اہم سفارتی رابطہ کار کے طور پر نمایاں ہوا ہے۔ بعض تجزیہ کار اسے پاکستان کی خارجہ پالیسی کی پختگی سے تعبیر کرتے ہیں، جس کے تحت وہ بیک وقت دو متصادم قوتوں کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگرچہ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ یہ سفارتی کوششیں کسی بڑے بریک تھرو کا سبب بنیں گی یا نہیں، تاہم یہ امر واضح ہے کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمی نے عالمی سطح پر اس کی اہمیت کو دوبارہ اجاگر کیا ہے۔ یہ صورتحال پاکستان کے لیے محض ایک سیاسی پیش رفت نہیں بلکہ اپنی ریاستی حکمت عملی کو جیو پولیٹکس سے جیو اکنامکس کی سمت منتقل کرنے کا ایک اہم موقع بھی ہو سکتی ہے۔
اگر مستقبل میں واشنگٹن اور تہران کے مابین تعلقات میں کسی حد تک بہتری آتی ہے، تو اس کے معاشی ثمرات پورے خطے، بالخصوص پاکستان کے لیے انقلابی ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس ضمن میں یہ امر نہایت حوصلہ افزا ہے کہ گزشتہ برس کی رپورٹوں کے مطابق پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم 3 ارب ڈالر کی سطح تک پہنچ چکا ہے، جبکہ دونوں ممالک نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا ہے کہ مشترکہ مساعی اور عوامی سطح پر روابط کو مستحکم بنا کر باہمی تجارت کو 10 ارب ڈالر تک باآسانی بڑھایا جا سکتا ہے۔ ایران کے ساتھ اقتصادی تعلقات کی یہ بحالی نہ صرف پاکستانی مصنوعات کے لیے 10 کروڑ کی آبادی پر مشتمل ایک وسیع ہمسایہ منڈی تک رسائی فراہم کرے گی، بلکہ توانائی کے شعبے میں سستی گیس اور بجلی کی فراہمی ملکی صنعتوں کی پیداواری لاگت کو کم کر کے قومی معیشت کو ایک پائیدار سہارا بھی دے سکتی ہے۔ مزید برآں، خطے میں امن و استحکام کی صورت میں خلیجی ممالک، بالخصوص سعودی عرب اور قطر کے جاری ترقیاتی منصوبوں میں پاکستانی افرادی قوت کی طلب میں اضافہ ہوگا، جو زرمبادلہ کی ترسیل میں نمایاں بہتری کا باعث بنے گا۔
خارجہ محاذ پر اس فعال کردار نے پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ میں بھی بہتری کی گنجائش پیدا کی ہے۔ پاکستان اپنی سافٹ پاور کو مزید مستحکم کر رہا ہے اور ایک ایسے ملک کے طور پر ابھر رہا ہے جو عالمی تنازعات کو ہوا دینے کے بجائے ان کے حل میں معاون کردار ادا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ داخلی سطح پر بھی اس کے ممکنہ مثبت اثرات ہو سکتے ہیں؛ علاقائی امن کی صورت میں ریاست کو یہ موقع مل سکتا ہے کہ وہ اپنے محدود وسائل کو دفاعی ترجیحات کے بجائے انسانی ترقی، تعلیم اور صحت جیسے سماجی شعبوں کی جانب منتقل کرے۔
مجموعی طور پر، پاکستان عالمی سفارتی بساط پر ایک متحرک اور کلیدی کھلاڑی کے طور پر ابھرا ہے۔ اگرچہ اس غیر معمولی مشن کی حتمی کامیابی کا دارومدار بڑی حد تک عالمی طاقتوں کے سیاسی ارادوں اور بدلتے ہوئے علاقائی حالات پر ہے، تاہم پاکستان نے اپنی اسٹریٹجک سمت کا تعین کر لیا ہے، جو دور اندیشی پر مبنی اور وقت کی اہم ضرورت دکھائی دیتی ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سفارتی اثر و رسوخ اور حاصل شدہ سیاسی کارناموں کو طویل المدتی معاشی ثمرات میں تبدیل کیا جائے، تاکہ مستقبل کا پاکستان محض ایک جغرافیائی گزرگاہ نہیں بلکہ ایک مستحکم، پرامن اور خوشحال معیشت کے طور پر دنیا کے سامنے آ سکے۔
