لوئر چترال میں منشیات کے خاتمے کیلئے اہم اجلاس، سخت اقدامات اور مشترکہ حکمت عملی پر زور، مین ڈیلروں کے خلاف سخت کاروائی کا فیصلہ
۔
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز ) لوئر چترال میں منشیات کی لعنت کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم عظیم کی صدارت میں ڈی سی آفس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں، محکمہ پولیس، ڈسٹرکٹ جیل، سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ اور دیگر متعلقہ اداروں کے ذمہ داران نے شرکت کی۔
اجلاس میں چترال کی نوجوان نسل کو منشیات کی لعنت سے نجات دلانے کے لیے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی غور کیا گیا۔ مقررین نے مطالبہ کیا کہ منشیات فروشوں ( مین ڈیلرز) کے خلاف سخت اور مؤثر کارروائی عمل میں لائی جائے اور چترال میں منشیات کی ترسیل کے تمام راستوں کی کڑی نگرانی کی جائے تاکہ اس ناسور کا جڑ سے خاتمہ ممکن ہو سکے۔
مقررین کا کہنا تھا کہ منشیات چترال پہنچانے والے عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے اور ضلعی انتظامیہ قانونی طریقۂ کار بروئے کار لاتے ہوئے تھری ایم پی او (3-MPO) کے تحت بڑے منشیات فروشوں کو چترال سے باہر، خصوصاً ڈی آئی خان جیل منتقل کرے تاکہ اس گھناؤنے کاروبار کی حوصلہ شکنی ہو۔ انہوں نے اس اقدام کو ایک انقلابی قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے دیگر منشیات فروش بھی باز آنے پر مجبور ہوں گے۔
ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم عظیم نے کہا کہ منشیات کے خاتمے کے لیے علماء کرام، سیاسی و مذہبی رہنماؤں، سول سوسائٹی اور والدین کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ضلعی انتظامیہ اور چترال پولیس علاقے کو منشیات سے پاک کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ منشیات کی سپلائی میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی ناگزیر ہے، جبکہ نشے کے عادی افراد متاثرہ ہوتے ہیں، اس لیے ان کی بحالی (ری ہیبلیٹیشن) پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔
ڈسٹرکٹ جیل سپرنٹنڈنٹ سید سجاد علی شاہ نے اجلاس کو بتایا کہ چترال سینٹرل جیل میں نشے کے عادی افراد کے لیے ایک ری ہیبلیٹیشن سینٹر قائم کیا گیا ہے، جہاں مریضوں کے علاج و بحالی کے لیے تمام بنیادی سہولیات موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مرکز میں کھیلوں کی سہولت بھی فراہم کی جاتی ہے اور ہفتہ وار بنیادوں پر ماہر نفسیات اور دیگر متعلقہ ڈاکٹرز آ کر مریضوں کی کونسلنگ کرتے ہیں۔ اس وقت پانچ افراد زیرِ علاج ہیں جبکہ مرکز میں مجموعی طور پر پندرہ افراد کی گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی ہدایات کے مطابق مرکز میں منشیات کے عادی افراد کو نہ صرف علاج بلکہ مکمل بحالی کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ وہ دوبارہ ایک صحت مند اور مفید شہری کے طور پر معاشرے میں شامل ہو سکیں۔
اجلاس میں نوجوانوں کو منشیات سے دور رکھنے کے لیے مثبت اور صحت مند سرگرمیوں کے فروغ پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ کھیلوں کے انعقاد سے نہ صرف نوجوانوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کیا جا سکتا ہے بلکہ انہیں منفی سرگرمیوں، خصوصاً منشیات جیسی لعنت سے بھی بچایا جا سکتا ہے۔
تاہم بعض مقررین نے خاص طور پر خواتین کے کرکٹ اور دیگر کھیلوں کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مقامی روایات، ثقافت اور سماجی اقدار کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے اقدامات کیے جائیں تاکہ کسی بھی سطح پر معاشرتی حساسیت مجروح نہ ہو۔
اجلاس میں حالیہ دنوں چترال میں منعقد ہونے والے ایک کرکٹ میچ کا بھی ذکر کیا گیا، جس کے حوالے سے مقررین نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس ایونٹ کے دوران ایک مخصوص فرقے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، جو انتہائی قابلِ مذمت عمل ہے۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ چترال ایک پُرامن اور بھائی چارے کی مثال رکھنے والا خطہ ہے، جہاں ہر مکتبۂ فکر کے لوگ باہمی احترام اور ہم آہنگی کے ساتھ رہتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ چترال کسی ایک گروہ یا فرقے کی نہیں بلکہ سب کی مشترکہ سرزمین ہے، اس لیے یہاں فرقہ واریت یا کسی بھی قسم کی نفرت انگیزی کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ مقررین نے مطالبہ کیا کہ ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے جو معاشرے میں تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنائی جائے۔
اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنر چترال ریاض احمد، ایس ڈی پی او سٹی سجاد احمد، ڈسٹرکٹ سوشل ویلفیئر آفیسر خضر حیات، معروف قانون دان عبدالولی خان عابد ایڈووکیٹ، سابق ضلع ناظم حاجی مغفرت شاہ، نیاز اے نیازی ایڈووکیٹ، مولانا عبدالرحمن، قاری جمال عبدالناصر، مولانا جمشید احمد، شریف حسین، مولانا عبدالشکور، ڈاکٹر اعجاز احمد شاہنوی، الحاج عیدالحسین، مولانا سمیع، مولانا فدا احمد، ڈسٹرکٹ خطیب فضل مولا سمیت دیگر مقررین نے بھی اظہارِ خیال کیا اور منشیات کے خاتمے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے پر زور دیا۔

