پولیو کے خاتمے کی مہم: منزل قریب، مگر راستہ کٹھن – تحریر: قریش خٹک
.
پولیو سے پاک پاکستان کا خواب ایک ایسی منزل ہے جس کی جستجو میں ہم نے ایک طویل اور دشوار گزار سفر طے کیا ہے، مگر منزل ابھی پوری طرح سامنے نہیں آئی۔ حال ہی میں 2025 میں پولیو کے 31 کیسز اور رواں سال سندھ کے ضلع سجاول میں ایک نئے کیس کی رپورٹ نے ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کر دیا ہے کہ اس موذی وائرس کا معمولی سا وجود بھی ہمارے مستقبل کے معماروں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ یہ محض اعداد و شمار نہیں، بلکہ ایک سنگین انتباہ ہے کہ جب تک وائرس کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا، ہماری کامیابیاں غیر یقینی رہیں گی۔ امید اور خدشات کے اس سنگم پر کھڑے ہو کر ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اس جنگ میں معمولی سی غفلت بھی برسوں کی محنت کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
پولیو، جسے طبی زبان میں پولیومائیلائٹس کہا جاتا ہے، ایک نہایت متعدی بیماری ہے جو زیادہ تر پانچ سال سے کم عمر بچوں کو متاثر کرتی ہے۔ یہ وائرس انسانی اعصابی نظام پر حملہ آور ہو کر چند گھنٹوں میں بچے کو عمر بھر کی معذوری سے دوچار کر سکتا ہے۔ اس بیماری کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اس کا کوئی مؤثر علاج موجود نہیں، اور صرف حفاظتی ویکسین ہی اس سے بچاؤ کا واحد ذریعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر پولیو کے خاتمے کی مہم کو صحت عامہ کی تاریخ کی سب سے طویل اور پیچیدہ مہمات میں شمار کیا جاتا ہے۔
تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان میں پولیو کے کیسز کی شناخت 1940 کی دہائی کے اواخر اور 1950 کی دہائی کے اوائل میں سامنے آئی۔ ابتدائی طور پر یہ بیماری شہری علاقوں تک محدود تھی، اور کراچی اس کے بڑے مراکز میں شامل تھا۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ یہ وائرس دیہی علاقوں تک پھیلتا گیا اور 1974 میں ایک بڑی وبائی لہر نے ملک بھر میں ہزاروں بچوں کو متاثر کیا۔ طبی مشاہدات سے یہ بھی واضح ہوا کہ پاکستان میں پولیو کے پھیلاؤ میں موسمی تبدیلیاں اہم کردار ادا کرتی ہیں، جہاں مئی سے اکتوبر کے دوران کیسز میں اضافہ دیکھا جاتا ہے، خاص طور پر ایسے علاقوں میں جہاں صفائی ستھرائی اور صاف پانی کی فراہمی کا نظام کمزور ہے۔
پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی باقاعدہ قومی مہم کا آغاز اپریل 1994 میں شہید بے نظیر بھٹو کے دور حکومت میں ہوا۔ اس مہم کو عوامی سطح پر پذیرائی دلانے کے لیے شہید بے نظیر بھٹو نے اپنی صاحبزادی آصفہ بھٹو زرداری کو پولیو کے قطرے پلا کر اس مہم کا افتتاح کیا۔ یہ ایک علامتی قدم تھا جس کا مقصد والدین میں اعتماد پیدا کرنا اور ویکسین سے متعلق خدشات کو دور کرنا تھا۔ اس وقت ملک میں ہر سال ہزاروں بچے اس بیماری کے باعث عمر بھر کی معذوری کا شکار ہو رہے تھے۔ صحت کے بنیادی ڈھانچے کی کمزوری، آگاہی کی کمی اور دور دراز علاقوں میں ویکسین کی محدود رسائی نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا تھا، تاہم اس دور میں پولیو کے خاتمے کو قومی ترجیح بنایا گیا۔ اس کے بعد حفاظتی ویکسین اور ٹیکوں کے قومی ایام اور مؤثر نگرانی کے نظام کے ذریعے کیسز میں نمایاں کمی آئی۔ 1997 میں جہاں پولیو کے 1155 کیسز رپورٹ ہوئے تھے، وہیں 2005 تک یہ تعداد کم ہو کر صرف 28 رہ گئی۔ یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت تھی کہ مسلسل اور مربوط کوششیں اس بیماری کے خاتمے کو ممکن بنا سکتی ہیں۔
تاہم 2014 میں پاکستان ایک بار پھر ایک سنگین صورتحال سے دوچار ہوا جب پولیو کے 306 کیسز رپورٹ ہوئے اور ملک میں قومی صحت ایمرجنسی نافذ کرنا پڑی۔ اس اچانک اضافے کی بڑی وجوہات میں سیکیورٹی خدشات، جغرافیائی رکاوٹیں، نقل مکانی، اور بعض علاقوں میں ویکسین سے انکار شامل تھے۔ پولیو ٹیموں پر حملوں نے بھی مہم کو متاثر کیا اور انسداد پولیو مہم کے کئی کارکنان قتل ہوئے۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے 2016 میں قومی سطح پر حفاظتی ٹیکوں کے نظام کو مضبوط بنانے کے اقدامات کیے گئے اور آگاہی مہمات میں تیزی لائی گئی۔
پولیو کے خاتمے کی راہ میں حائل رکاوٹیں صرف طبی نوعیت کی نہیں بلکہ سماجی، ثقافتی اور سیکیورٹی سے متعلق مسائل بھی اس مہم کو متاثر کرتے رہے ہیں۔ بعض علاقوں میں غلط معلومات اور افواہوں نے والدین میں خدشات پیدا کیے، جبکہ دور دراز علاقوں تک رسائی بھی ایک بڑا چیلنج رہی۔ ان تمام مشکلات کے باوجود پولیو کے خلاف جنگ جاری رہی، جس میں فرنٹ لائن ورکرز کا کردار نہایت اہم رہا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان کارکنان میں تقریباً 68 فیصد خواتین شامل ہیں، جو گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کے ساتھ ساتھ والدین کا اعتماد بھی بحال کرتی ہیں۔
موجودہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں اب بھی ایک بڑی تعداد میں بچے حفاظتی ویکسین اور ٹیکوں کے مکمل کورس سے محروم ہیں۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق صرف تقریباً 70 فیصد بچوں کو مکمل ویکسینیشن حاصل ہے، جو کہ ایک تشویشناک خلا کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہی خلا پولیو وائرس کے پھیلاؤ کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتا ہے۔اسی تناظر میں پیر کے روز شروع ہونے والی حالیہ قومی انسدادِ پولیو مہم 19 اپریل تک جاری رہے گی، جس کا ہدف ملک بھر میں پانچ سال سے کم عمر ساڑھے چار کروڑ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانا ہے۔ اس مہم کے دوران چار لاکھ سے زائد صحت کارکنان پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور اسلام آباد میں گھر گھر جا کر بچوں کو قطرے پلائیں گے تاکہ دور دراز اور زیادہ خطرے والے علاقوں سمیت ہر بچے تک رسائی کو یقینی بنایا جا سکے۔
عالمی سطح پر اب صرف پاکستان اور افغانستان وہ دو ممالک رہ گئے ہیں جہاں پولیو وائرس اب بھی موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر انسدادِ پولیو کی کوششوں میں ان دونوں ممالک کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔ دہائیوں کی مسلسل محنت کے بعد پاکستان اس موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں پولیو کا مکمل خاتمہ ممکن دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کے لیے مسلسل توجہ، مؤثر حکمت عملی اور قومی سطح پر مشترکہ عزم کی ضرورت ہے۔دہائیوں کی جدوجہد کے بعد منزل قریب ضرور دکھائی دیتی ہے، مگر راستہ ابھی بھی کٹھن ہے۔ سجاول میں سامنے آنے والا حالیہ کیس اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ وائرس ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس قومی مہم کو محض ایک طبی سرگرمی نہیں بلکہ قومی ذمہ داری کے طور پر دیکھا جائے۔کیونکہ ایک صحت مند، محفوظ اور خوشحال پاکستان کا خواب اسی وقت حقیقت بنے گا جب ہر بچہ پولیو سے محفوظ ہوگا۔ ہماری آج کی تھوڑی سی توجہ اور اجتماعی کوشش ہمارے بچوں کے مستقبل کو معذوری سے پاک اور روشن بنا سکتی ہے۔
