چترال کی مثالی آمن کو برقرار رکھنا، یہاں سے منشیات کاخاتمہ ہمارے اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ آر پی او ملاکنڈ سید فداحسن شاہ
۔
چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) ریجنل پولیس آفیسر ملاکنڈ ڈی آئی جی سید فدا حسن شاہ (PSP) نے کہا ہے کہ چترال کی پرآمن ماحول، ثقافت اور روایا ت کو برقرار رکھنا ہماری اولین ترجیح ہے، جبکہ یہاں سے منشیات کی لعنت کو ختم کرنے کیلئے ٹھوس اور مربوط اقدامات اُٹھائے جائیں گے۔ تاکہ نوجوان نسل کو اس زہر سے نجات دلایا جاسکے۔ ان خیالات کا اظہار نے انھوں نے ڈی پی او آفس چترال لوئیر میں عمائدین چترال کیلئے منعقدہ ایک جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جس کا مقصد علاقے میں امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لینا اور عوامی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ حکمت عملی وضع کرنا تھا۔
جرگے میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر لوئر چترال رفعت اللہ خان ، سابق ضلع ناظم حاجی مغفرت شاہ ، مولانا عبدالشکور جے۔ یو۔ائی ، صدر عوامی نیشنل پارٹی حاجی , تحصیل چیئر مین دروش فرید حسین جان ,عیدالحسین، شہزادہ خالد پرویز ، قاری عبدالجمال ناصر ، ڈسٹرکٹ خطیب مولانا خلیق الزمان ،سابق ایم پی اے سید احمد، عبدالولی خان عابد ایڈوکیٹ ،شریف حسین پی پی پی، امیر جماعت اسلامی وجہیہ الدین ، صدر تجار یونین نور احمد خان چارویلو، پریس کلب ممبران ،سابقہ ڈی ای او صمد گل اسماعیلی کونسل , ثراوت خان نمائندہ کالاش ویلی جبکہ مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے معززین، عمائدین اور سماجی شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
اس موقع پر ریجنل پولیس آفیسر ملاکنڈ سید فدا حسن شاہ نے عمائدینِ علاقہ سے کھل کر تبادلہ خیال کیا اور امن و امان ، جرائم کی روک تھام ، منشیات کے خاتمے، نوجوانوں کی اصلاح اور کمیونٹی پولیسنگ جیسے اہم امور پر تفصیلی گفتگو کی۔ عمائدینِ چترال نے بھی اپنے اپنے علاقوں کے مسائل، عوامی خدشات اور تجاویز پیش کیں، جنہیں آر۔پی۔او ملاکنڈ نے نہایت توجہ اور سنجیدگی سے سنا۔
آر۔پی۔او ملاکنڈ نے یقین دہانی کرائی کہ عوامی مسائل کے بروقت اور مؤثر حل کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے، اور پولیس فورس کو مزید فعال، جوابدہ اور عوام دوست بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ چترال ایک پُرامن علاقہ ہے اور اس امن کو برقرار رکھنے کے لیے پولیس اور عوام کے درمیان قریبی رابطہ اور باہمی اعتماد نہایت ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت چترال کا سب سے بڑا مسلئہ منشیات ہے اور اس سلسلے میں نے ڈی۔پی۔او لوئر چترال کو خصوصی ٹاسک دیا ہے منشیات فروشوں کے خلاف سخت کاروائیاں عمل میں لائی جائے گی اور عوام کے تعاون سے چترال کو منشیات کی لعنت خصوصاً آئس سے مکمل پاک کیا جائے گا ۔
آر۔پی۔او ملاکنڈ نے یقین دہانی کی لوئر چترال پولیس کوٹے میں اضافے کے لئے اپنی طرف سے بھرپور کوشش کریں گا ۔
اس موقع پر عمائدین چترال نے پولیس کے حوالے سے درپیش مسائل بھی آر پی او کو گوش گزار کیا، مقرریں نے چترال پولیس کو ایک مثالی پولیس قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر کہیں پولیس رشوت سے پاک ہے تو وہ چترال کی پولیس ہے۔ مقرریں نے چترال سے منشیات کی لغنت کو ختم کرنے کیلئے آر پی او سے پرزور اپیل کی ، اور کہا کہ چرس اور آفیون سے بڑھ کر اب ہیروئین اور آئس چترال پہنچ چکے ہیں، جن کے مین ڈیلروں کو پکڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انھوں نے کہا کہ چترال رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا علاقہ ہے مگر پولیس بھرتی کرتے وقت اس کو نظرانداز کیا جاتا ہے، اور دوسرے اضلاع کے مقابلے میں چترال کیلئے ویکنسی بالکل نہیں دی جاتی ۔ لہذا اس کوٹے کو بڑھایا جائے ، انھوں نے چترال کے مختلف علاقوں میں تھانوں کے قیام، موجودہ تھانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنے، چترال بازار میں کسی قسم کی ٹیکس کی اجرا کو ختم کرنے کے ساتھ سوشل میڈیا کے غلط استعمال کو روکنے کیلئے موثر اقدامات پر زور دیا گیا ۔
اس موقع پر عمائدین نے آر پی او سے مطالبہ کیا کہ دیر اپر اور لوئیر کے بعض بازاروں میں سڑک کے دونوں کنارے پارکنگ کے باعث چترال پشاورکے درمیان آمدورفت میں انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کے سدباب کے لئے متعلقہ ڈی پی اوز کو ہدایت دی جائے۔
آرپی او نے عمائدین علاقہ کی طرف سے اُٹھائے گئے بعض مسائل کے حل کیلئے موقع پر ڈی پی او کو ہدایت دی اور بعض کے حل کیلئے اپنی بھر کوششوں کا اعادہ کیا۔ جبکہ بے لگام سوشل میڈیا اور فیک آئی ڈی، پیجز اور گروپ کے خلاف موثر کاروائی کیلئے سائبر کرائم کا ڈیسک چترال میں قائم کرنے کا بھی اعادہ کیا۔ تاکہ یہاں کی مثالی آمن کو برقرار رکھا جاسکے۔
جرگے کے اختتام پر علاقے میں امن و امان کے قیام ، جرائم کے سدباب، منشیات کے خلاف مؤثر کارروائیوں اور عوامی مسائل کے فوری حل کے لیے پولیس اور عمائدین کے درمیان باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔


