بسم اللہ الرحمان الرحیم
مشرقی اُفق
میر افسر امان
”گریٹر پاکستان“ پاکستانی عوام کی پکار
.
جیسے کہا گیا ہے نا کہ”لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے“۔یہی معاملہ بھارتی نرنیدر دامو داس مودی وزیر اعظم بھارت اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا ہے۔نیتن یا تو اپنی سرکشی کی وجہ سے دنیا میں تنہا ہو گیا۔ مودی کو بھی پہلے مئی۵۲۰۲ء کی جنگ میں شکست اور ابھی پاکستانی حکومت کی امریکا،اسرائیل، ایران جنگ میں بہترین سفارت کاری سے جنگ بند کرانے پر دنیا میں تنہاکر دیا ہے۔بھارتی گودی میڈیا میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے۔
پاکستان ہزار بار کہہ چکا ہے کہ ہم امن سے پڑوسیوں کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ مگر پاکستان کا پڑوسی بھارت پاکستان کو ختم کر کے”اکھنڈ بھارت“ بنانے کے سہنرے خواب اپنی عوام کو یاد کرواتا رہتا ہے۔ بھارتی وزیر اعظم مودی، دہشت گرد تنظیم ”راشرٹیہ سویم سیکوک سنگھ“ (آر ایس ایس) کا بنیادی رکن ہے۔اس لیے مودی سب سے آگے ہیں۔گجرات میں مسلمانوں کو تہ تیغ کروانے والے قصائی مودی وزیر اعظم بھارت نے اپنی پارلیمنٹ کے دیوار پر”اکھنڈبھارت“کا نام نہاد نقشہ بھی کندہ کروایا ہے۔
مودی نے مسلمانوں کا بھارت میں جینا حرام کیا ہوا۔ انتہا پسند دہشت گرد ہندوؤ ں کے لیڈر مسلمانوں کو ہندو بننے یا پاکستان چلے جانے کے طعنے دیتے رہتے ہیں۔ کسی مسلمان کو گھیر کر ”جے شری رام“ کے نعرہ لگانے کا کہتے ہیں انکار پر لاٹھیوں سے مار مار کر شہید کر دیتے ہیں۔ مسلمانوں کے بارہ سو سالہ شاندارتاریخ کو مسخ کر رہے ہیں۔ مسلمان حکمرانوں کو ڈاکو کہتے ہیں۔جبکہ آریہ خود ڈاکو ہیں، وہ بھی مسلمانوں کی طرح باہر سے ہندوستان آئے ہیں۔ دین دار مغل بادشاہ اورنگزیب،جس کی حکومت پورے برصغیر اورکابل تک پچاس سال ہندوستان پر قائم رہی۔متعصب، دہشتگرد،انتہا پسند مودی کے ہندواورنگزیب عالم گیرکی قبر کھودنے کی مہم چلائی ہوئی ہے۔ مودی کے ”اکھنڈ بھارت“ کے نقشے میں پاکستان، بنگلہ دیش،افغانستان، برما، نیپال،سری لنکا،بھوٹان،تبت،انڈویشیا، ملیشیاکے کچھ حصے شامل ہیں۔ تین صدی قبل مسیح چندر گپت موریہ ہندوستان پر پچیس سال حکمران رہے ہیں۔اس طرح یہ پانچ صدی قبل کی بات ہے۔یعنی پانچ صدی قبل کی حکومت کو مودی پھر سے زندہ کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔جبکہ پلوں سے سارا پانی گزر چکا ہے۔اسی طرح ان کا ابّا اسرائیل کا وزیر اعظم نیتن یاہو جوغزہ کا قصائی ہے۔ ڈھائی تین ہزار سال سے زیادہ پرانی”یہودہ“ کی ریاست جوصدیوں پہلے فلسطین میں تھی کو زندہ کرنے کے لیے اپنی دیوار پر نقشہ کندہ کرایا ہے۔ کہ”اے اسرائیل تیری سرحدیں نیل سے فرات تک ہیں“ اس میں اُردن،لبنان،شام،مصر،عراق،سعودی عرب کاحجاز،ترکی کا کچھ حصہ شامل ہیں۔ جبکہ تاریخی طور پر ثابت ہے۔ اسرائیل صرف آٹھ سو سال فلسطین میں آباد رہے۔
اسی لیے بھارت اور اسرائیل جیسے جارح ملکوں کی غیر حقیقی خواہشات پر اقوام متحدہ کا منشور پابندی لگاتا ہے۔ منشور میں لکھا ہے”علاقائی سا لمیت اور خود مختیاری کی دفعہ۲(۴) کے تحت کوئی ملک کسی ملک کو طاقت کا استعمال یا دھمکی نہ دیں“ مگربھارت اور اسرائیل اقوام متحدہ کے فیصلے نہیں مانتے۔ جیسے بھارت مقبوضہ کشمیر میں اقوام متحدہ کی رائے شماری کی قراردادوں سے منحرف ہو گیا ہے۔اسرائیل فلسطین بارے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو نہیں مانتا۔ ان دونوں کا مشترکہ بڑا ابّا امریکا مسلمانوں سے دشمنی کی وجہ سے ویٹو پاور استعمال کر کے ان دونوں کی پیٹھ ٹھوکتا رہتا ہے۔
بھارت مسلمان ملکوں کو طاقت کے زور پر اکھنڈ بھارت میں شامل کرنا چاہتا ہے۔ جبکہ بھارت کو یاد رکھنا چاہیے کہ مسلمانوں نے محمد بن قاسم سے لے کر بہادر شاہ ظفر مغل بادشاہ تک تقریباً بارہ سو سال حکومت کی ہے۔ اورنگزیب عالم گیر کے زمانے میں ”اکھنڈ بھارت“ والے سارے ملک مسلمانوں کی حکومت رہی ہے۔ ہندوستان پر حکومت کیا؟ مدینہ کی اسلامی ریاست،خلفائے راشدینؓ کادور، اموی دور، عباسی دور،ترکی عثمانی دور تو ۴۲۹۱ء تک، اُس وقت دنیا کے معلوم پونے چار براعظموں پر مسلمانوں کی حکومت تھی۔ اس طرح تو مسلمان ہندوستان کیا، پوری دنیا پر حکومت کا حق جتا سکتے ہیں۔
عربوں نے اسپین پر آٹھ سو سال سے زیادہ حکومت کی ہے۔اسرائیل نے ”گریٹر اسرائیل“ کا خواب دیکھنا شروع کیا تھا تو فلسفی شاعر علامہ شیخ محمد اقبالؒ نے کہا تھا کہ:۔
ہے خاک فلسطین پر یہودی کا اگر حق
ہسپانیہ پر حق کیوں نہیں اہل عرب کا
مودی تیرے بھارت کی اِرد گرد تو سارے اسلامی ملک ہیں۔بھارت تو مسلمانوں کے سمندر کے اندر ایک جزیرے کی شکل میں ہے۔یہ پاکستانی عوام میں جو تحریک اُٹھی ہے کہ بھارت کے”اکھنڈ بھارت“ کے مقابلے میں پاکستان کو”گریٹر پاکستان“ بنانا چاہیے۔ بھارت تو پہلے بارہ سو سال مسلمانوں کا غلام رہا ہے۔پھر تمھاری مسلم دشمنی کی وجہ سے ہندوستان پر سمندر پار سے انگریز آئے اور ہندوستان پر سو سال سے زیادہ حکومت کی۔ مسلمان تو شروع سے انگریز شروع سے لڑتے رہے۔۷۵۸۱ ء کی جنگ آزادی بھی میرٹھ
چھاونی میں مسلمان فوجیوں نے شروع کی تھی۔ بیرسٹر محمد قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی بصیرت افروز جد وجہد کی وجہ سے انگریز کو ہندوستان سے نکل جانا پڑا۔مودی،تیرا معاشرہ مایا کی پوجا کرنے والا ہے۔ دولت یعنی لکشمی کی پوجا۔ پاکستان کا معاشرہ جہادی معاشرہ ہے، تمھارااور تمھارے ابّا اسرائیل ایک ایک ہزار سال جینے کے تمنا رکھنے والے معاشرے ہیں۔ پاکستان شہیدوں اورغازیوں والا معاشرہ ہے۔ جہادی مسلمانوں سے دنیا کی پوجا کرنے والے ہندو نہیں لڑ سکتے۔ تمھارے غزہ کی جنگ سے کان کھڑے ہونے چاہییں۔ اسرائیل، امریکا، بھارت، سارا مغرب مل کر بھی، مٹھی بھر جہادی حماس کو شکست نہ دے سکے۔ دو سال میں غزہ کا سب کچھ تباہ کر دینے کے باوجود حماس سے جنگ کے زریعے یرغمالی نہ چھڑا سکے۔ مزاکرات پر ہی یرغمالی رہا ہوئے۔
مگر مودی تم خواب غفلت میں رہ کر”اکھنڈ بھارت“ کے خواب کو اپنی عوام کو دکھا رہے ہو۔تمھاری یہ منطق کسی پیمانے پر بھی پوری نہیں اُترتی۔ پاکستان پہلے بھی بھارت کو ۵۶۹۱ء میں شکست دے چکا۔ تم نے بالا کوٹ پر حملہ کرنے کی غلطی کی تھی۔اپنے دو جہاز اور ایک پائلٹ کی قید کا نقصان اُٹھایا۔ ابھی گزشتہ سال مئی ۵۲۰۲ء پاکستان کیخلاف جارحیت کی تو چار رافیل سمیت چھ ہوائی جہازوں کا نقصان برداشت کیا۔ پاکستان کی فضائی فوج نے تمھارے فضاؤں پر کنٹرول حاصل کر کے تمھاری دفاعی انسٹالیشن سمیت ایس ۰۰۴ تک کو تباہ کیا۔پاکستان کی بری فوج نے تمھارے اندر گھس کر نقصان پہنچایا۔تمھارے مورچہ بند فوجیوں نے سفید جھنڈے لہرا کر اپنی جانیں بچائیں۔ اور تم نے مئی۵۲۰۲ء کو پاکستان پر حملہ کر کے بدترین شکست کھائی۔
امریکی صدر ٹرمپ سے درخواست کر کے جنگ بندکرواکر پاکستان سے جا چھڑائی۔ لہٰذا”اکھنڈ بھارت“ کا نقشہ اپنی پارلیمنٹ کے دیوار سے ہٹاؤ۔ امن سے رہو اور امن سے رہنے دو کی پایسی پر عمل کرو۔ورنہ ”گریٹر پاکستان“ پاکستانی عوام کی پکار کے سامنے تیار ہو جاؤ۔پھر دیکھتے ہیں مایا یعنی دولت کی پوچا کرنے والاہندو د معاشرہ”اکھنڈ بھارت“ بناتا ہے۔یا پاکستان کا جہادی معاشرہ جو شہید وں یا غازیوں والا معاشرہ ہے۔”گریٹر پاکستان“ بنانے میں میں کامیاب ہوتا ہے۔”گریٹر پاکستان“ میں تیرے”اکھنڈ بھارت“ میں شامل ہ ونے والے سارے ملک شامل ہوں۔ بھارت کے عوام کو ویسا ہی امن و سکون نصیب ہو گا جو ہندوستان میں مسلم دور میں حاصل تھا۔
