بدلتا پاکستان اور منجمد این ایف سی فارمولہ – تحریر: قریش خٹک
.
پاکستان کے وفاقی ڈھانچے میں مالیاتی وفاقیت محض وسائل کی تقسیم کا نام نہیں، بلکہ یہ ریاست کے استحکام، صوبوں کے درمیان ہم آہنگی اور سماجی و معاشی عدل کا بنیادی ستون ہے۔ وفاق اور اکائیوں کے مابین وسائل کی منصفانہ تقسیم ایک آئینی تقاضا ہونے کے ساتھ ساتھ قومی یکجہتی اور متوازن ترقی کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ اس ضمن میں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کو پاکستان کے مالیاتی انتظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔ 2010 میں نافذ العمل ہونے والا ساتواں این ایف سی ایوارڈ ملک کی مالیاتی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا، جس نے نہ صرف صوبائی حصص میں اضافہ کیا بلکہ وسائل کی تقسیم کے لیے محض آبادی کے بجائے ایک کثیرالجہتی فارمولہ متعارف کرایا۔ تاہم، اس سنگ میل کو گزرے ڈیڑھ دہائی سے زائد عرصہ بیت چکا ہے، اور اس دوران ملک کی آبادیاتی ترکیب، انتظامی ڈھانچے اور معاشی حرکیات میں ایسی بنیادی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں جن کا تقاضا ہے کہ اب اس فارمولے کو دورِ حاضر کے حقائق کے مطابق ڈھالا جائے۔
ساتویں این ایف سی ایوارڈ نے صوبوں کے حصے کو 47.5 فیصد سے بڑھا کر 57.5 فیصد تک پہنچا کر صوبائی مالی خودمختاری کی راہ ہموار کی۔ اس ایوارڈ میں پہلی بار غربت و پسماندگی، محصولات کی وصولی اور معکوس کثافتِ آبادی جیسے عوامل کو شامل کر کے تقسیم کو زیادہ حقیقت پسندانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ لیکن یہاں ایک بڑا علمی اور انتظامی خلا یہ پیدا ہو چکا ہے کہ یہ تمام تر حسابی عمل اب بھی 1998 کی مردم شماری اور پرانے انتظامی نقشوں پر مبنی ہے۔ گزشتہ سولہ برسوں میں پاکستان کی جغرافیائی اور سیاسی حدود میں بڑی تبدیلیاں آئی ہیں، جن میں سابقہ وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں کا خیبر پختونخوا میں ادغام سب سے نمایاں ہے۔ اس ادغام سے صوبے کی آبادی میں تقریباً پچاس لاکھ افراد کا اضافہ ہوا اور اس کی ترقیاتی و حفاظتی ذمہ داریاں کئی گنا بڑھ گئیں، مگر این ایف سی کے تحت ملنے والے وسائل اب بھی پرانے ڈھانچے کے مطابق ہیں۔ اس تضاد نے خیبر پختونخوا کے مالیاتی انتظام کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے، جس کا براہ راست اثر ضم شدہ اضلاع کی تعمیر و ترقی پر پڑ رہا ہے۔
اس صورتحال میں فرسودہ اعداد و شمار پر انحصار نہ صرف معاشی جمود کا باعث بن رہا ہے بلکہ ان علاقوں کی حق تلفی کا سبب بھی بن رہا ہے جو حالیہ برسوں میں اضافی انتظامی بوجھ تلے آئے ہیں۔اگر سیاسی اتفاقِ رائے کی کمی کے باعث نئے فارمولے کی تشکیل میں تاخیر ہو، تو کم از کم موجودہ فارمولے کی نئے اعداد و شمار کی روشنی میں ازسرنو ترتیب فوری طور پر کی جانی چاہیے۔ کیونکہ، اب ہمارے پاس 2023 کی ڈیجیٹل مردم شماری، 2024-25 کے غربت کے نئے تخمینے اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے حالیہ ریکارڈ موجود ہیں۔ یہ حقائق واضح کرتے ہیں کہ پاکستان کی معاشی تقسیم بدل چکی ہے۔ سوشل پالیسی اینڈ ڈیولپمنٹ سینٹر (ایس پی ڈی سی) کے ایک حالیہ تحقیقی مقالے میں بھی اسی ضرورت پر زور دیا گیا ہے کہ فارمولے کے بنیادی اوزان کو چھیڑے بغیر صرف اعداد و شمار کو جدید کر دیا جائے تو نظام میں موجودہ خامیاں بڑی حد تک دور کی جا سکتی ہیں۔
اگر ہم موجودہ فارمولے کے اجزاء کا جائزہ لیں تو آبادی کا عنصر 82 فیصد وزن کے ساتھ سب سے زیادہ اہم ہے۔ 2023 کے اعداد و شمار کے مطابق پنجاب کی آبادی میں اضافے کی شرح دیگر صوبوں کے مقابلے میں نسبتاً کم رہی ہے، جبکہ خیبر پختونخوا (ضم شدہ اضلاع کی وجہ سے) اور بلوچستان میں آبادی کا بوجھ بڑھا ہے۔ اسی طرح غربت اور پسماندگی (10.3 فیصد وزن) کے نئے اشاریے ظاہر کرتے ہیں کہ بلوچستان میں غربت کی شرح 47 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ محصولات کی وصولی (5 فیصد) کے لیے آج بھی 2007-08 کے ڈیٹا کا استعمال تکنیکی لحاظ سے غیر مناسب ہے، کیونکہ صوبوں کی محصولات جمع کرنے کی صلاحیت میں گزشتہ دہائی میں نمایاں تبدیلیاں آ چکی ہیں۔ مزید برآں، معکوس کثافتِ آبادی (2.7 فیصد) کا فائدہ سب سے زیادہ بلوچستان کو ملتا ہے اور مزید ملنا چاہیے تاکہ وہاں کی وسیع جغرافیائی حدود میں بنیادی ڈھانچہ فراہم کیا جا سکے۔
اعداد و شمار کی اس ترتیبِ نو کے اثرات دور رس ہوں گے۔ ماہرین کے مطابق نئے ڈیٹا کی بنیاد پر بلوچستان کے حصے میں 1.03 فیصد اور خیبر پختونخوا کے حصے میں 0.55 فیصد اضافے کا امکان ہے، جبکہ پنجاب اور سندھ کے حصص میں بالترتیب 1.86 فیصد اور 0.15 فیصد کی فنی کمی واقع ہو سکتی ہے۔ مالیاتی اعتبار سے یہ تبدیلی بلوچستان کے لیے تقریباً 142.8 ارب روپے اور خیبر پختونخوا کے لیے 75.5 ارب روپے کے اضافی وسائل فراہم کر سکتی ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اس ایڈجسٹمنٹ سے وفاقی حکومت کو بھی تقریباً 58.6 ارب روپے کی اضافی مالیاتی گنجائش میسر آ سکتی ہے۔
اعداد و شمار کی اس طرح کی تجدید کوئی غیر آئینی یا غیر معمولی قدم نہیں ہے۔ ماضی میں 2002 سے 2006 کے درمیان بھی 1998 کی مردم شماری کے بعد این ایف سی سیکرٹریٹ نے صوبائی حصص کو نئے اعداد و شمار کی بنیاد پر اپ ڈیٹ کیا تھا۔ لہٰذا ڈیٹا کو جدید بنانا ایک خالصتاً انتظامی اور تکنیکی عمل ہے، جسے سیاسی رنگ دینا قومی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے مترادف ہے۔
جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے، پاکستان کا وفاقی ڈھانچہ اب 2010 کے حقائق سے بہت آگے نکل چکا ہے۔ آبادیاتی تبدیلیوں، انتظامی ادغام اور معاشی تفاوت کے نئے حقائق نے این ایف سی فارمولے کی موجودہ حیثیت کو ناکافی بنا دیا ہے۔ اس تناظر میں مستقبل کے این ایف سی ایوارڈ کے لیے ایک ایسے وسیع البنیاد قومی مکالمے کی ضرورت ہے جو شمولیت، شفافیت اور معروضی شواہد پر مبنی ہو۔ اس مکالمے میں موسمیاتی تبدیلی اور صنفی مساوات کے دو جدید پہلو خصوصی توجہ کے طالب ہیں۔
پاکستان عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ وہ خطے جو سیلاب، برفانی تودوں کے پگھلنے اور خشک سالی کی زد میں رہتے ہیں، انہیں ماحولیاتی مدافعت اور بحالی کے لیے اضافی مالیاتی گنجائش درکار ہے۔ اسی طرح سماجی ترقی کے لیے صنفی اشاریوں، جیسے خواتین کی شرح خواندگی، صحتِ زچہ و بچہ، اور لیبر فورس میں خواتین کی شرکت کو بھی تقسیم کے فارمولے کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔ یہ اقدام صوبوں کے لیے ایک مثبت ترغیب ثابت ہوگا کہ وہ موسمیاتی تبدیلی کے خلاف موثر پیش بندی کریں اور اپنی نصف آبادی کی فلاح و بہبود پر سرمایہ کاری کریں، جو بالآخر قومی پیداوار میں اضافے کا باعث بنے گا۔
اگر ہم ایک مستحکم وفاق اور متوازن ترقی کے خواہاں ہیں تو سیاست سے بالاتر ہو کر حقائق پر مبنی فیصلہ سازی کو اپنانا ہوگا۔ این ایف سی فارمولے کی فوری ازسرنو ترتیب محض ایک فنی ضرورت نہیں بلکہ یہ وفاقی اکائیوں کے درمیان اعتماد اور سماجی انصاف کی علامت ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ موجودہ مالیاتی نظام کو جدید حقائق کے سانچے میں ڈھالا جائے تاکہ کوئی بھی اکائی خود کو محروم تصور نہ کرے۔کیونکہ مالیاتی وفاقیت کا مقصد صرف وسائل کی تقسیم نہیں بلکہ قومی یکجہتی اور متوازن ترقی کو یقینی بنانا ہے۔ اگر پاکستان کو مضبوط اور مستحکم وفاق بنانا ہے تو این ایف سی فارمولے کو موجودہ حقائق کے مطابق اپ ڈیٹ کرنا ناگزیر ہے۔ یہ صرف ایک تکنیکی ضرورت نہیں بلکہ قومی مفاد کا تقاضا ہے
