اپرچترال : بونی ہسپتال کی نجکاری سے قبل عوامی خدشات دور کیے جائیں: آل پارٹیز اپر چترال کا مطالبہ
اپر چترال(نمائندہ چترال ٹائمز ) آل پارٹیز اپر چترال کے نمائندگان کا ایک خصوصی اجلاس آج تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال بونی کی مجوزہ آؤٹ سورسنگ/نجکاری کے حوالے سے امیر جمعیت علمائے اسلام اپر چترال مولانا محمد یوسف کی زیر صدارت بونی میں منعقد ہوا۔
اجلاس میں تحصیل چیئرمین مستوج سردار حکیم، صدر پاکستان پیپلز پارٹی اپر چترال شیر حسین، انفارمیشن سیکریٹری امجد علی، امیر جماعت اسلامی اپر چترال اسد الرحمن، پاکستان مسلم لیگ (ن) اپر چترال کے سینئر نائب صدر پرویز لال، جنرل سیکریٹری پرنس سلطان الملک، سابق تحصیل ناظم شمس الرحمن لال، سردار عجب، وور بلی، پیر ممتاز، وزیر شاہ، عبدالسلام سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے عہدیداران نے شرکت کی۔
اجلاس کا مقصد تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال بونی کو نجی تحویل میں دینے کے حوالے سے پیدا ہونے والی تشویش کے تناظر میں پیش رفت کا جائزہ لینا اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنا تھا۔ شرکاء کو بتایا گیا کہ چند روز قبل ڈپٹی اسپیکر خیبرپختونخوا اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) اپر چترال کے ساتھ ایک اہم نشست میں اس معاملے پر تفصیلی گفتگو ہوئی تھی، جس میں اصل صورت حال جاننے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ متعلقہ حکام کی موجودگی میں طے پایا تھا کہ عوامی تحفظات دور کرنے کے لیے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر اپر چترال حکومت اور نجی اداروں کے درمیان طے شدہ معاہدے (ٹی او آر) کی نقل فراہم کریں گے اور آل پارٹیز کمیٹی کے ساتھ ایک تفصیلی اجلاس منعقد کیا جائے گا، جس کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ مزید یہ کہ اگر معاہدہ عوامی مفاد میں ہوا تو اسے تسلیم کیا جائے گا، بصورت دیگر اسے مسترد کر دیا جائے گا۔
تاہم اجلاس کے شرکاء نے افسوس کا اظہار کیا کہ ایک ہفتے سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کی جانب سے معاہدے کی کوئی تحریری دستاویز فراہم نہیں کی گئی، جس کے باعث عوامی خدشات بدستور برقرار ہیں۔ شرکاء کے مطابق اس صورتحال سے یہ تاثر تقویت پکڑ رہا ہے کہ ہسپتال کی نجکاری عوامی مفاد کے خلاف ہو سکتی ہے، کیونکہ کوئی بھی نجی ادارہ اپنے مفاد کے بغیر سرمایہ کاری نہیں کرتا۔
اجلاس کے بعد آل پارٹیز نمائندگان نے مزید تفصیلات کے لیے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر سے ملاقات بھی کی، جہاں انہیں آؤٹ سورسنگ پالیسی اور ممکنہ سہولیات کے بارے میں بریفنگ دی گئی، تاہم معاہدے (ٹی او آر) یا مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی کوئی تحریری نقل پیش نہیں کی جا سکی، جس سے تحفظات مزید بڑھ گئے۔
آخر میں آل پارٹیز اجلاس نے متفقہ قرارداد کے ذریعے صوبائی حکومت کی آؤٹ سورسنگ پالیسی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ عوامی خدشات دور ہونے تک اس عمل کو اگلے مرحلے تک مؤخر کیا جائے۔
اجلاس نے ڈپٹی اسپیکر خیبرپختونخوا، صوبائی وزیر صحت اور سیکریٹری صحت سے مطالبہ کیا کہ تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال بونی کو فوری طور پر کیٹیگری “سی” میں اپ گریڈ کیا جائے، مطلوبہ عملہ تعینات کیا جائے اور ہسپتال کی عمارت کی تعمیر جلد مکمل کی جائے، تاکہ علاقے کے عوام کو بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

