گاؤں بوڑیوک کو قدرتی آفات سے بچانے کیلئے فوری اقدامات کیئے جائیں ، اکاہ میں منظور شدہ منصوبہ من پسند افراد کو دیا گیا، انکوائری کی جائے۔ عمائدین بوڑیوک کی پریس کانفرنس
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) چترال گرم چشمہ روڈ پر واقع گاوں بوڑیوک کے عمائدین نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آغا خان ایجنسی فار ہبیٹاٹ (اکاہ) کے آر پی ایم ولی محمد پر اقربا پروری اور مبینہ بے ضابطگیوں کے سنگین الزامات لگاتے ہوئے حکام بالا سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے گاوں کو قدرتی آفات سے بچانے کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں۔ منگل کے روز چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بوڑیوک کے عمائدین بخش علی، میر حسین، شیر وزیر، حیات خان، رحمت علی، مفتاح الدین ودیگر نے کہا کہ آکاہ کے ارپی ایم ولی محمد نے اقرابا پروری کرتے ہوئے ہمارے پروجیکٹ کو من پسند افراد کو دیدیا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ 2023ء میں اکاہ کی جانب سے بوڑیوغ لوئیر چترال میں ایک اگاہی سیشن رکھا گیا اور گاوں کو درپیش انتہائی اہم مسئلہ پروٹیکشن وال تعمیر کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی، جبکہ بعد میں جیالوجیکل ٹیم بھی اکر اس منصوبے کو انتہائی اہم قرار دیدیا تھا جہاں ہر دوسال بعد سیلاب آتا ہے اور اسی نالہ میں سیلاب سے تین سو گھرانوں کا بجلی گھر بھی خطرے میں پڑتا ہے ۔ انھوں نے بتایا کہ ہم اس منصوبے کے حوالے سے بار بار اکاہ کے آفس کا وفد کی شکل میں دورہ کیا ہر بار آرپی ایم ہمیں یقین دہانی کراتے رہے کہ ہمارا منصوبہ جلد شروع کیا جائیگا۔
عمائدین نے مذید بتایا کہ 2025میں اسی مقام پر سیلاب اکر دو گاڑیوں کو بھی بہا کر لے گیا، اور دریائے گرم چشمہ کی رخ کو ہماری گاوں کی طرف کردیا ہے۔ ایک بار پھر آر پی ایم کے پاس وفد کی شکل میں آئے تو دسمبر 2025 میں ہمیں خوشخبری دی گئی کہ پروٹیکشن وال کا منصوبہ منظور ہوگیا ہے آپ لوکل میٹریل کے بارے میں ہمیں معلومات فراہم کریں، جو ہم نے فراہم کردی۔ مگر ر فروری 2026میں جب ایک بار پھر وفد کی شکل میں اکاہ آفس سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ ہمارا منصوبہ اپر چترال منتقل کردیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دریا کے کنارے حفاظتی پشتے کی تعمیر کا ورکنگ سیزن بھی ختم ہورہاہے کیونکہ مئی کے بعد دریا میں بہاو کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگا۔ عمائدین نے یہ الزام بھی لگائے کہ اقرباپروری کا یہ عالم کہ ا رپی ایم ولی محمد نے بلچ کے ایک سرکاری سکول میں منصوبہ رکھا ہے جہاں انکی مسز ہیڈ مسٹریس ہیں جو کہ اختیارات کے غلط استعمال کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
انہوں نے اکاہ کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس ادارے کے اندر اقربا پروری کا نوٹس لیکرمن پسند کو نوازنے کا سلسلہ بند کرانے کے ساتھ ہمارے پروجیکٹ کو منسوخ کرنے کے حوالے سے انکوائری کی جائے۔ گاؤں کے عمائدین نے واضح کیا کہ وہ اکاہ ادارے کو عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ان کی شکایت آر پی ایم ولی محمد و دیگر ملوث اہلکاروں کے خلاف ہے۔

