The Voice of Chitral since 2004
Tuesday, 23 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

بجلی کی بچت کیلئے خیبرپختونخوا حکومت کے نئے اوقاتِ کار نافذ، صوبہ بھر میں کمرشل سرگرمیوں پر پابندیاں عائد

Chitral Times

بجلی کی بچت کیلئے خیبرپختونخوا حکومت کے نئے اوقاتِ کار نافذ، صوبہ بھر میں کمرشل سرگرمیوں پر پابندیاں عائد

بجلی کی بچت کیلئے خیبرپختونخوا حکومت کے نئے اوقاتِ کار نافذ، صوبہ بھر میں کمرشل سرگرمیوں پر پابندیاں عائد

بجلی کی بچت کیلئے خیبرپختونخوا حکومت کے نئے اوقاتِ کار نافذ، صوبہ بھر میں کمرشل سرگرمیوں پر پابندیاں عائد

۔

پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) حکومت خیبرپختونخوا نے موجودہ علاقائی صورتحال اور ایندھن کی فراہمی پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیشِ نظر صوبہ بھر میں بجلی کے مؤثر اور محتاط استعمال کو یقینی بنانے کے لیے اہم اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد عوام کو بڑھتی ہوئی بجلی کی قیمتوں سے محفوظ رکھنا اور توانائی کی مسلسل دستیابی کو برقرار رکھنا ہے۔

حکومت کے مطابق بجلی کی پیداوار کا انحصار بڑی حد تک ایندھن پر ہے، اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے بجلی مہنگی ہو جاتی ہے۔ اسی تناظر میں غیر ضروری بجلی کے استعمال کو کم کرنے کے لیے عارضی طور پر نئی پابندیاں نافذ کی گئی ہیں تاکہ خاص طور پر شام کے اوقات میں توانائی کی بچت ممکن بنائی جا سکے، جبکہ ضروری خدمات اور معاشی سرگرمیاں بغیر کسی تعطل کے جاری رہیں۔

حکام کی منظوری سے صوبے بھر میں نئے اوقاتِ کار نافذ کیے گئے ہیں، جن کے تحت ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں تمام بازار، شاپنگ پلازے، کمرشل مراکز اور رات کے کھیلوں کی سرگرمیاں رات 9 بجے تک بند کی جائیں گی، جبکہ دیگر اضلاع میں بازار اور کمرشل سرگرمیاں رات 8 بجے تک محدود ہوں گی۔ اسی طرح تمام ریسٹورنٹس، کیفے اور کھانے پینے کے مراکز رات 10 بجے تک بند ہوں گے، تاہم ہوم ڈیلیوری اور ٹیک اوے سروس جاری رہ سکے گی۔ شادی ہالز، مارکیز اور دیگر تقریبات بھی رات 10 بجے تک اختتام پذیر کرنا لازمی ہوگا۔

ان ہدایات کا اطلاق نجی دفاتر، کنسلٹنسیز، ایجنسیاں، بینکس، تعلیمی اکیڈمیز، ٹیوشن سینٹرز، دکانوں، شو رومز، جیولری شاپس، بیکریز، جم، فٹنس سینٹرز، گیسٹ ہاؤسز اور کیٹرنگ سروسز سمیت تمام کمرشل اداروں پر ہوگا۔ تاہم زرعی و تعمیراتی سرگرمیوں، میڈیکل اسٹورز (مخصوص شرائط کے ساتھ 24 گھنٹے)، ہسپتالوں، لیبارٹریز، ایمرجنسی ہیلتھ سروسز، تنور اور پیٹرول پمپس کو ان پابندیوں سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔

حکومت نے عوام، تاجروں اور تمام متعلقہ طبقات سے اپیل کی ہے کہ وہ ان ہدایات پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنائیں تاکہ قومی مفاد میں توانائی کی بچت ممکن ہو سکے اور عوام کو اضافی مالی بوجھ سے بچایا جا سکے۔