بھٹو کی شہادت: ایک لیڈر کی موت یا ایک وژن کا قتل؟ – تحریر: قریش خٹک
.
پاکستان کی تاریخ میں کچھ ایام ایسے ہیں جو محض وقت کی گرد میں گم نہیں ہوتے، بلکہ ریاست کے مقدر کا دھارا موڑنے والے سیاہ سنگِ میل بن جاتے ہیں۔ 4 اپریل 1979 کی وہ منحوس اور لرزہ خیز ساعت بھی ایسی ہی تھی، جب راولپنڈی کی فضاؤں میں چھائی موت جیسی خاموشی نے ایک ایسے المیے کو جنم دیا جس کی بازگشت آج نصف صدی گزرنے کے باوجود پاکستان کے گلی کوچوں اور اقتدار کے ایوانوں میں سنائی دیتی ہے۔ رات کے پچھلے پہر، جب دنیا خوابِ خرگوش کے مزے لے رہی تھی، عوامی سیاست کے ایک درخشاں عہد، عالمی افق پر چمکنے والے بے مثال مدبر اور ملک کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر چڑھا دیا گیا۔ وہ پھانسی محض ایک جسدِ خاکی کی موت نہ تھی، بلکہ وہ پاکستان کے جمہوری سفر، عوامی شعور، غریب کی آواز اور قومی وقار کے سینے میں اتارا گیا وہ زہریلا خنجر تھا جس کے زخم آج بھی ریاست کی بنیادوں سے رستے محسوس ہوتے ہیں۔
تاریخ کی عدالت میں اب یہ کوئی ڈھکا چھپا راز نہیں رہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کا خاتمہ ایک سوچی سمجھی سازش اور عدالتی قتل تھا، جو ایک غاصب آمرِ وقت کی بقا اور عوامی طاقت کی تذلیل کے لیے رچایا گیا۔ شہید بھٹو محض ایک فرد، ایک نام یا ایک روایتی سیاستدان کا عنوان نہیں تھا، بلکہ وہ اس شکست خوردہ اور لہولہان پاکستان کا وژن تھے جسے 1971 کے ہولناک سانحے نے دولخت کر دیا تھا۔ جب قوم مایوسی کے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی، جب 90 ہزار فوجی بھارت کی قید میں تھے اور جب دنیا یہ سمجھ رہی تھی کہ بچا کھچا پاکستان شاید اب زیادہ دیر اپنا وجود برقرار نہ رکھ سکے، تب شہید بھٹو نے بکھرے ہوئے اعصاب کو مجتمع کیا۔ انہوں نے شملہ معاہدے کی صورت میں سفارتی محاذ پر وہ معرکہ سر کیا جس کی مثال تاریخ میں کم ملتی ہے، اپنے قیدیوں کو باعزت وطن واپس لائے اور سب سے بڑھ کر 1973 کا وہ متفقہ آئین دیا جو آج بھی وفاقِ پاکستان کو جوڑنے والی آخری اور مضبوط ترین زنجیر ہے۔ ان کا قتل درحقیقت اسی آئینی بالادستی پر شب خون تھا جس کی بھاری قیمت یہ قوم آج تک سیاسی عدم استحکام اور آئینی بحرانوں کی صورت میں ادا کر رہی ہے۔
قائد وعوام ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت سے پیدا ہونے والے خلا کا گہرائی سے ادراک کرنے کے لیے ان کثیر الجہتی نقصانات کا جائزہ لینا ضروری ہے جنہوں نے ملک کی سمت کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ اس المیے کا پہلا اور سب سے بڑا نقصان سیاسی شعور کی بیخ کنی اور عوامی حاکمیت کی تذلیل تھا۔ بھٹو وہ پہلے لیڈر تھے جنہوں نے سیاست کو بند کمروں، اشرافیہ کےڈرائنگ رومز اور جاگیرداروں کے ڈیروں سے چھین کر فٹ پاتھوں، کھیتوں کی منڈیروں اور کارخانوں کے پسینے میں شرابور مزدور تک پہنچایا۔ انہوں نے معاشرے کے کچلے ہوئے طبقات، ہاریوں اور دہقانوں کو یہ احساس دلایا کہ وہ بھی انسان ہیں اور ان کا بھی اس ریاست پر برابر کا حق ہے۔ انہوں نے طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں کا نعرہ لگا کر بے زبانوں کو وہ زبان دی جس نے وقت کے فرعونوں کے ایوان ہلا دیے۔ لیکن تختہ دار سے دیا جانے والا پیغام نہایت تلخ اور ہولناک تھا: یہ کہ اس ملک میں عوامی مینڈیٹ کی حیثیت بوٹوں کی دھمک اور آمرانہ انا کے سامنے ہیچ ہے۔ اسی واقعے نے ملک میں سیاسی رواداری کو دفن کر کے انتقام، نفرت اور فرقہ واریت کا وہ بیج بویا جس کی زہریلی فصل آج ایک منقسم اور ہیجانی معاشرے کی شکل میں ہمارے سامنے کھڑی ہے۔
دوسرا ناقابلِ تلافی نقصان خارجہ پالیسی کی خود مختاری اور عالمی سطح پر پاکستان کے بلند قامت وقار کا زوال تھا۔شہید ذوالفقار علی بھٹو ایک ایسے عالمی لیڈر تھے جن کی آنکھوں میں تیسری دنیا کے عروج کا خواب بستا تھا۔ انہوں نے عالمِ اسلام کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے کی جسارت کی اور 1974 کی تاریخی اسلامی سربراہی کانفرنس کے ذریعے پاکستان کو مسلم دنیا کا دھڑکتا ہوا دل بنا دیا۔ یہ شہید بھٹو ہی تھے جنہوں نے بھوکا رہ کر بھی پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا عہد کیا تاکہ ملک کا دفاع ہمیشہ کے لیے ناقابلِ تسخیر ہو جائے اور ہم کسی عالمی طاقت کے سامنے کشکول نہ پھیلائیں۔ ان کی شہادت کے بعد پاکستان کی خارجہ پالیسی طویل عرصے تک کرائے کی سٹرٹیجی اور بیرونی آقاؤں کے بیساکھیوں کی محتاج ہو گئی، جس نے ہمیں سٹریٹجک گہرائی جیسے مبہم تجربات کے ذریعے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے اس مہیب دلدل میں لا کھڑا کیا جہاں سے نکلنے کا راستہ آج بھی دھندلا دکھائی دیتا ہے۔ اگر بھٹو زندہ ہوتے، تو شاید پاکستان آج معاشی طور پر کسی کا محتاج نہ ہوتا اور نہ ہی ہم عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہوتے۔
تیسرا اور سب سے مہلک وار عدل و انصاف کے نظام اور ریاستی اداروں کے تقدس پر کیا گیا۔ بھٹو کا متنازعہ ٹرائل اور اس کے نتیجے میں دی جانے والی سزا عدلیہ کے ماتھے پر وہ کلنک کا ٹیکہ ہے جسے تاریخ کا کوئی صابن نہیں دھو سکتا۔ اس مقدمے نے یہ ثابت کر دیا کہ جب آمریت اپنے پنجے گاڑتی ہے تو انصاف کے ترازو بھی جانبداری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جب ریاست کا مقبول ترین لیڈر، جس نے ملک کو آئین دیا، خود انصاف کے حصول میں ناکام رہا اور ایک آمر کی اقتدار پسندی کی بھینٹ چڑھ گیا، تو عام آدمی کے دل سے قانون کی بالادستی کا یقین ہمیشہ کے لیے اٹھ گیا۔ اسی بے یقینی نے اداروں کو کھوکھلا کیا، میرٹ کا جنازہ نکالا اور نظامِ عدل کو طاقتور کے ہاتھوں یرغمال بنانے کی راہ ہموار کی۔ آج ہم جس عدالتی بحران اور قانونی پیچیدگیوں کا رونا روتے ہیں، ان کی جڑیں اسی 4 اپریل کے واقعے میں پیوست ہیں۔
بھٹو کی موت درحقیقت ملکی معاشی خود انحصاری کے خواب کا قتل بھی تھی۔ انہوں نے روٹی، کپڑا اور مکان کا جو نعرہ دیا، وہ محض ایک انتخابی نعرہ نہیں تھا بلکہ ایک سوشل کنٹریکٹ تھا جس کا مقصد دولت کی چند ہاتھوں میں گردش کو روکنا اور غریب کو معاشی تحفظ فراہم کرنا تھا۔ اگرچہ ان کی پالیسیوں پر تنقید کی گنجائش موجود ہے، مگر ان کے خلوص پر شک نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے بعد پاکستان کی معیشت اشرافیہ پرور اور قرضوں پر مبنی ماڈل کی طرف مائل ہو گئی، جس نے غریب کو مزید غریب اور طاقتور کو مزید بااختیار بنا دیا۔ آج جب مہنگائی اور معاشی بدحالی نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، تو عوام کو بھٹو کا وہ عہد یاد آتا ہے جب ریاست کم از کم ان کے بنیادی حقوق کی ضامن تو تھی۔
آج جب ہم 4 اپریل کو شہید ذوالفقار علی بھٹو کی عظیم قربانی کو یاد کرتے ہیں، تو یہ سوال ہمیں کسی تازیانے کی طرح جھنجھوڑتا ہے کہ کیا ہم نے اس عظیم قومی نقصان سے کوئی سبق سیکھا؟ شہید بھٹو کو مٹانے والوں نے گمان کیا تھا کہ وہ ایک شخص کے وجود کو ختم کر کے اس کے نظریے اور وژن کو ہمیشہ کے لیے منوں مٹی تلے دفن کر دیں گے، مگر تاریخ گواہ ہے کہ نظریات کو تختہ دار پر لٹکایا نہیں جا سکتا۔ مٹی میں رلائے جانے والے نظریات کے بیج ہی وقت گزرنے کے ساتھ قد آور اور تناور درخت بنتے ہیں۔ شہید بھٹو آج بھی زندہ ہے یہ محض ایک جذباتی سیاسی نعرہ نہیں، بلکہ یہ اس ادھورے وژن کی مسلسل دہائی ہے جو عوامی حاکمیت، آئینی بالادستی، سماجی انصاف اور قومی غیرت پر استوار تھا۔
پاکستان آج جن شدید دستوری، معاشی اور سیاسی بحرانوں کی آغوش میں ہے، ان سے نجات کا واحد اور سیدھا راستہ شہید بھٹو کےاسی فلسفے میں پنہاں ہے کہ اقتدار کا اصل وارث صرف اور صرف عوام ہیں اور ریاست کا استحکام کسی فردِ واحد کی انا میں نہیں بلکہ منصفانہ اور مسلسل جمہوری عمل میں ہے۔ شہید بھٹو کی پھانسی وہ تاریخی موڑ تھا جہاں سے ہم اپنی منزل سے بھٹک کر اندھیری راہوں پر نکل گئے تھے؛ آج اگر ہمیں واپسی کی جستجو ہے اور ہم پاکستان کو دوبارہ ایک باوقار ریاست بنانا چاہتے ہیں، تو اس کا راستہ ایوانِ اقتدار کی راہداریوں سے نہیں، بلکہ عوام کے اس ٹوٹے ہوئے اعتماد کی بحالی سے ہو کر گزرتا ہے جسے 4 اپریل کی اس تاریک رات میں مجروح کیا گیا تھا۔
ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ لیڈر وہی ہے جو اپنے نظریے کے لیے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مسکرا سکے اور تاریخ کے پنوں پر اپنا نام خون سے رقم کر دے۔ وہ تو تاریخ کے ہیرو بن گئے، مگر وہ خلا جو ان کی جدائی سے پیدا ہوا، وہ آج بھی ایک قوم کے طور پر ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ کیا ہم ان کے خوابوں کا پاکستان بنانے کی ہمت رکھتے ہیں؟ کیا ہم دوبارہ اس مقام پر پہنچ سکتے ہیں جہاں پاکستان کی آواز دنیا کے بڑے ایوانوں میں گونجتی تھی؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب ہمیں اپنے عمل سے دینا ہوگا۔ شہید بھٹو کا لہو آج بھی انصاف کا طلبگار ہے، اور وہ انصاف صرف اسی صورت ممکن ہے جب اس ملک میں عوام کی مرضی چلے اور آئین کی حکمرانی ہو۔
.
………………….
مصنف کا تعارف: قریش خٹک سابق صحافی اور انتخابی و پارلیمانی امور کے ماہر ہیں۔ وہ سیاست، طرزِ حکمرانی اور گورننس اصلاحات پر لکھتے ہیں۔
