سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ لوئیر چترال کے زیر اہتمام افرادِ باہم معذوری میں امدادی سامان اور آلات تقسیم
۔
لوئر چترال (نمائندہ چترال ٹائمز ) ضلعی دفتر سوشل ویلفیئر لوئر چترال میں افرادِ باہم معذوری (PWDs) کے لیے امدادی سامان اور آلات کی تقسیم کی ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی، جس کے مہمانِ خصوصی ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم تھے۔ تقریب میں مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد، سرکاری حکام اور مستحق افراد نے شرکت کی۔
تقریب کے دوران افرادِ باہم معذوری میں مختلف نوعیت کے امدادی آلات وسامان تقسیم کیے گئے، جن میں خواتین کے لیے سلائی مشینیں، وہیل چیئرز، سماعت کے آلات (ہیئرنگ ایڈز)، ٹرائی سائیکلز، وائٹ کینز، بیساکھیاں اور واکرز شامل تھے۔ ان آلات کی فراہمی کا مقصد معذور افراد کی نقل و حرکت میں آسانی پیدا کرنا، انہیں خود کفیل بنانا اور ان کے لیے روزگار کے مواقع میں اضافہ کرنا ہے تاکہ وہ معاشرے کا فعال حصہ بن سکیں۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر راؤ ہاشم نے محکمہ سوشل ویلفیئر کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ افرادِ باہم معذوری کی فلاح و بہبود ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ اس بات کے لیے پرعزم ہے کہ معاشرے کے ہر طبقے کو مساوی مواقع فراہم کیے جائیں اور خصوصی افراد کو کسی بھی صورت نظر انداز نہ کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت بھی خصوصی افراد کے مسائل کے حل اور انہیں بااختیار بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایسے فلاحی پروگرامز کو مزید وسعت دی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق افراد اس سے مستفید ہو سکیں اور ان کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا ہوں۔
ضلعی آفیسر سوشل ویلفیئر خضر حیات نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ آج کی اس تقریب میں مجموعی طور پر 116 مختلف امدادی آلات تقسیم کیے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ امدادی آلات کے حصول کے لیے درخواستیں بدستور کھلی ہیں اور افرادِ باہم معذوری یا ان کے اہلِ خانہ اپنی ضرورت کے مطابق محکمہ سوشل ویلفیئر کی سرکاری ویب سائٹ کے ذریعے درخواست دے سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ محکمہ سوشل ویلفیئر مستقبل میں بھی اس طرح کے فلاحی اقدامات جاری رکھے گا تاکہ خصوصی افراد کو معاشرے میں باعزت مقام دلایا جا سکے اور ان کی زندگی کو آسان بنایا جا سکے۔
تقریب کے اختتام پر مستحق افراد میں امدادی آلات تقسیم کیے گئے جبکہ شرکاء نے حکومت اور محکمہ سوشل ویلفیئر کی اس کاوش کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ آئندہ بھی اس طرح کے اقدامات تسلسل کے ساتھ جاری رہیں گے۔



