اسلام آباد؛ قومی بحران پر اجلاس منسوخ، قومی امور پر بند کمروں میں فیصلے ناقابل قبول، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا اسلام آباد میں پریس کانفرنس
۔
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے اسلام آباد میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی حکومت کی جانب سے بلائے گئے اجلاس کی منسوخی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اجلاس قومی اور علاقائی بحران کی صورتحال کے تناظر میں طلب کیا گیا تھا تاہم بغیر وجوہات بتائے اسے منسوخ کر دیا گیا جو اشتراک عمل کے سلسلے میں وفاقی حکومت کی غیر سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ شدید سیاسی اختلافات اور گزشتہ تین سال سے پی ٹی آئی کے خلاف جاری سیاسی انتقام کے باوجود پاکستان تحریک انصاف اور خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت نے قومی مفاد میں اس اجلاس میں شرکت کا فیصلہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم عمران خان، ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی، ان کے اہل خانہ، پارٹی قیادت اور کارکنوں کے ساتھ جو سلوک کیا جا رہا ہے، اس کی سیاسی تاریخ میں مثال نہیں ملتی، مگر اس کے باوجود ہم نے پاکستان اور عوام کے مفاد کو ترجیح دی اور اجلاس میں شرکت کا فیصلہ کیا تھا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ موجودہ علاقائی صورتحال خصوصاً ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے اثرات پاکستان پر مرتب ہو رہے ہیں، مگر اس کے باوجود وزیراعظم نے قوم کو اعتماد میں لینے یا پارلیمان سے رجوع کرنے کی زحمت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ اہم فیصلے بند کمروں میں کیے جا رہے ہیں اور عوام کو ان سے مکمل طور پر لاعلم رکھا جا رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ قومی فیصلوں کے اثرات کسی ایک خاندان یا ادارے تک محدود نہیں ہوتے بلکہ پورے ملک، تمام اداروں اور ہر شہری پر پڑتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ قوم کو اعتماد میں لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام نے عمران خان کو واضح مینڈیٹ دیا ہے، مگر نہ انہیں اور نہ ہی ان کی جماعت کو کسی بھی فیصلے میں شامل کیا جا رہا ہے جو ایک غیر جمہوری طرز عمل ہے۔ وزیراعلیٰ نے ایران اسرائیل جنگ کے تناظر میں ممکنہ بحران سے نمٹنے کے لیے وفاقی حکومت کے کفایت شعاری پر مبنی اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت پہلے ہی کفایت شعاری پر عمل درآمد کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کورونا کے دوران سرکاری عہدیداروں اور وزرائ کے لیے پٹرول میں کٹوتی کی گئی تھی جو آج تک برقرار ہے۔ حال ہی میں مزید 25 فیصد کٹوتی بھی کی گئی ہے۔
مزید برآں، سرکاری افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ آن لائن اجلاسوں میں شرکت کریں تاکہ ایندھن اور قومی وسائل کی بچت ہو۔ انہوں نے کہا کہ نئی گاڑیوں کی خریداری پر پابندی عائد ہے جبکہ بیرون ملک دوروں کے لیے سخت قواعد نافذ ہیں اور صرف کابینہ کی منظوری سے ہی اجازت دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف صوبائی حکومت عوامی وسائل کے تحفظ کے لیے اقدامات کر رہی ہے جبکہ دوسری طرف وفاقی حکومت نے گزشتہ سات ماہ میں پانچ ارب ڈالر سے زائد قرض لیا ہے اور اس کے باوجود 12 ارب روپے کے لگڑری طیارے خریدے گئے اور 70 ہزار ڈالر ماہانہ تنخواہوں پر پائلٹس بھرتی کیے گئے، جو حکومتی غیر سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ملک کی معیشت شدید زوال کا شکار ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب رجیم چینج کے ذریعے حکومت کی تبدیلی سے پہلے پاکستان کی جی ڈی پی شرح نمو 6.1 فیصد تھی جو اب تین فیصد سے بھی کم ہو چکی ہے۔ صنعتی ترقی منفی ہو رہی ہے، ٹیکسٹائل صنعت بند ہو رہی ہے، تجارتی خسارہ 20 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، برآمدات میں کمی آئی ہے، نوجوان روزگار نہ ہونے کے باعث ملک چھوڑنے پر مجبور ہیں جبکہ زرعی شعبہ بھی بحران کا شکار ہے اور کسان مشکلات میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود حکومت اپنی شاہ خرچیاں کم کرنے کو تیار نہیں اور تمام بوجھ عوام پر ڈال رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پٹرول کی قیمت 321 روپے تک پہنچ چکی ہے جبکہ تحریک انصاف کے دور میں عالمی قیمتیں زیادہ ہونے کے باوجود پٹرول 150 روپے فی لیٹر تھا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 75 سالوں میں پٹرول کی قیمت میں جتنا اضافہ ہوا، اس سے زیادہ اضافہ صرف تین سالوں میں ہوا ہے جو باعث تشویش ہے۔
وزیراعلیٰ نے اس موقع پر صوبے کے حقوق پر بات کرتے ہوئے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کے معاملے پر خیبرپختونخوا کے ساتھ مسلسل ناانصافی ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 25ویں آئینی ترمیم کے بعد قبائلی اضلاع کے صوبے میں انضمام کے باوجود ان کا حصہ این ایف سی میں شامل نہیں کیا گیا، جو کہ غیر آئینی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ آٹھ سالوں میں تقریباً 964 ارب روپے جو خیبرپختونخوا اور قبائلی اضلاع کا حق تھا، دیگر صوبوں کو منتقل کیے گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب کو 567.9 ارب روپے، سندھ کو 278.1 ارب روپے اور بلوچستان کو 118.1 ارب روپے دیے گئے، جو کہ خیبرپختونخوا اور قبائلی اضلاع کا حق تھا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ساتویں این ایف سی ایوارڈ کو فوری طور پر آئینی تقاضوں کے مطابق اپڈیٹ کیا جائے تاکہ تمام صوبوں کو ان کا جائز حق مل سکے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے قبائلی اضلاع کے لیے ایکسلریٹڈ امپلیمنٹیشن پروگرام (AIP) کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے سالانہ 100 ارب روپے دینے کا وعدہ کیا تھا مگر سات سالوں میں صرف 168 ارب روپے فراہم کیے گئے جبکہ 532 ارب روپے ابھی بھی بقایا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال وفاق نے ایک روپیہ بھی جاری نہیں کیا جبکہ صوبائی حکومت نے اپنے وسائل سے 26 ارب روپے بطور برج فنانسنگ فراہم کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں قائم کمیٹی کے اجلاس بارہا مو¿خر کیے گئے اور کل ہونے والے اجلاس میں بھی وفاقی نمائندے کی عدم دستیابی ظاہر کی گئی، جو کہ صوبے کے مسائل کے حوالے سے وفاق کی سنجیدگی پر سوالیہ نشان ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ سیاسی طور پر بھی تحریک انصاف کو مسلسل دیوار سے لگایا جا رہا ہے اور عمران خان کو ان کے ذاتی ڈاکٹر اور اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام حالات کے باوجود تحریک انصاف نے ہمیشہ قومی مفاد کو مقدم رکھا ہے اور آج بھی پاکستان کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ وہ بند کمروں میں فیصلے کرنے کے بجائے قوم اور پارلیمان کو اعتماد میں لیں اور ملک کو درپیش چیلنجز سے نکالنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں۔
