وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا دورۂ کوئٹہ، شہداء کے اہلِ خانہ سے تعزیت، پشین جلسے میں حکومت پر شدید تنقید
۔
کوئٹہ (چترال ٹائمز رپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے دورۂ بلوچستان کے دوران کوئٹہ پہنچنے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے شہید کارکن عبدالرشید کے گھر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے اہلِ خانہ سے تعزیت اور فاتحہ خوانی کی، شہید کے درجات کی بلندی اور پسماندگان کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کرتے ہوئے اس مشکل گھڑی میں مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ بعد ازاں وزیراعلیٰ سید احمد ولی شہید کے گھر بھی گئے، جہاں انہوں نے اہلِ خانہ سے تعزیت اور فاتحہ خوانی کی، لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی اور یقین دلایا کہ وہ ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ دونوں مواقع پر پاکستان تحریک انصاف بلوچستان کی قیادت بھی ان کے ہمراہ موجود تھی۔
دورۂ بلوچستان کے دوران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے زیرِ اہتمام پشین میں منعقدہ ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب بھی کیا۔ اپنے خطاب میں وزیراعلیٰ نے یومِ پاکستان کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ 23 مارچ 1940 کو پیش کی گئی قراردادِ پاکستان ایک ایسی ریاست کے قیام کا اعلان تھا جہاں جمہوریت، آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور عوامی اختیار کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے قیامِ پاکستان کے بعد آج تک حقیقی جمہوریت مکمل طور پر قائم نہیں ہو سکی اور نہ ہی آئین و قانون کی بالادستی کو وہ مقام مل سکا جس کا خواب دیکھا گیا تھا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ 14 اگست 1947 کو پاکستان ضرور وجود میں آیا، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج تک ملک میں حقیقی جمہوریت، آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی مکمل طور پر قائم نہیں ہو سکی۔
انہوں نے کہا کہ قوم آج بھی مکمل آزادی کے ثمرات سے محروم ہے اور مختلف ادوار میں عوامی اختیار کو محدود کیا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ایسے حکمران مسلط کیے گئے جو عوام کے حقیقی نمائندہ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان سمیت مختلف علاقوں میں عوام کے ووٹ کا احترام نہیں کیا گیا، جبکہ پنجاب، بلوچستان، سندھ اور آزاد کشمیر میں قائم حکومتیں عوامی مینڈیٹ کے برعکس زبردستی مسلط کی گئیں اور وہ عوام کی امنگوں کی حقیقی عکاسی نہیں کرتیں۔ وزیراعلیٰ نے موجودہ حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پورے پاکستان میں ایک ایسی حکومت قائم ہے جس پر عوام کا اعتماد نہیں، اور جس کے دور میں ظلم، ناانصافی اور بنیادی حقوق کی پامالی عام ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مختلف طبقات، خصوصاً علماء اور عام شہریوں کو دباؤ کا سامنا ہے جبکہ پنجاب میں عوام کی عزتِ نفس، چادر اور چار دیواری کے تقدس کو بھی مجروح کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں شہری آزادیوں کو محدود کیا جا رہا ہے، عوام کے حقوق سلب کیے جا رہے ہیں اور معاشرہ مجموعی طور پر عدم استحکام کا شکار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی معیشت، تاریخ اور قومی مفادات کو نقصان پہنچ رہا ہے کیونکہ حکمرانوں کی ترجیحات عوامی فلاح نہیں بلکہ ذاتی مفادات اور وسائل پر قبضہ کرنا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ موجودہ قیادت کے پاس نہ کوئی واضح پالیسی ہے اور نہ ہی کوئی مربوط منشور، اور وہ صرف اپنے اقتدار کے تحفظ میں مصروف ہیں جبکہ ملک ترقی کی سمت میں آگے بڑھنے کے بجائے تنزلی کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو قوتیں پاکستان میں حقیقی جمہوریت، آئین کی بالادستی، انصاف اور آزاد عدلیہ کی بات کرتی ہیں، انہیں دیوار سے لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسی پالیسیوں کو عوام مسترد کرتے ہیں اور ان کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے۔
وزیراعلیٰ نے خارجہ پالیسی کے تناظر میں بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان کے مفاد میں کسی پالیسی پر تنقید کی جائے تو اسے غلط رنگ دیا جاتا ہے، حالانکہ پاکستان ایک خودمختار ریاست ہے اور اس کے فیصلے عوام کی خواہشات کے مطابق ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی ایک قومیت یا علاقے کا نہیں بلکہ یہ تمام پاکستانیوں کا مشترکہ وطن ہے، جہاں پنجابی، سندھی، بلوچ، پشتون اور کشمیری سب برابر کے شہری ہیں اور سب کو یکساں حقوق حاصل ہونے چاہئیں۔ وزیراعلیٰ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو پاکستان کی قومی شناخت اور وحدت کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان ایک ایسے رہنما ہیں جو واضح وژن رکھتے ہیں، عالمی سطح پر پاکستان کا مؤقف جرات کے ساتھ پیش کرتے ہیں، اسلاموفوبیا کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں اور ملک کو خوددار بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان وہ واحد قیادت ہیں جو پاکستان کو ترقی، خودمختاری اور انصاف کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں اور ایک مضبوط اسلامی فلاحی ریاست کے قیام کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ آج ملک کے ادارے کمزور ہو چکے ہیں، پارلیمنٹ اپنی اصل روح کے مطابق کام نہیں کر رہی اور مجموعی نظام بحران کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں قوم کو بیدار ہونے اور اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ حقیقی آزادی کے حصول، آئین کی بالادستی اور جمہوری نظام کی بحالی کے لیے متحد ہو جائیں اور اس مقصد کے لیے ہر ممکن قربانی دینے کے لیے تیار رہیں۔ انہوں نے کہا کہ پرامن جدوجہد کے ذریعے ہی ملک کو درست سمت میں لے جایا جا سکتا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ عمران خان قوم کی امید ہیں اور وہ عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، جبکہ عوام کو بھی ان کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا تاکہ ملک کو بحرانوں سے نکالا جا سکے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کو ایک ایسا ملک بنایا جائے گا جہاں حقیقی آزادی، انصاف، آئین کی بالادستی اور عوامی حکمرانی یقینی ہو۔
