یونس ؑ کا سبق: اندھیروں میں روشنی کی جستجو – از قلم: نجیم شاہ
۔
ہر دور میں انسان کسی نہ کسی اندھیرے میں پناہ لیتا ہے کبھی مایوسی کے اندھیرے میں، کبھی خوف کے، کبھی مفاد کے۔ یہ اندھیرے اُس وقت جنم لیتے ہیں جب سچ کو سننا مشکل ہو جائے اور غلطی ماننا ناممکن۔ یونسؑ کی آزمائش دراصل اسی کیفیت کی علامت ہے وہ لمحۂ جب ایک سچ بولنے والا اپنے ہی لوگوں کی بے حسی سے تھک کر کنارہ کر لیتا ہے۔ وہ لمحۂ جب انسان اپنے یقین کے باوجود خود کو تنہا محسوس کرتا ہے۔ آج کا معاشرہ بھی اُسی کیفیت میں مبتلا ہے روشنی کی بات زبانوں پر ہے مگر اندھیرے دلوں میں ہیں۔ ہم نے مایوسی کو حقیقت، اور اُمید کو افسانہ بنا دیا ہے۔ ہم زندہ ضرور ہیں، مگر بیدار نہیں۔
یونس ؑ نے اپنی قوم کو بلایا، سمجھایا، اور خبردار کیا مگر قوم نے انکار کیا، مذاق اُڑایا، اور سچ کو طنز بنا دیا۔ یونس نے مایوس ہو کر راستہ بدل لیا۔ آج بھی جو شخص سچ بولتا ہے، اصلاح کی بات کرتا ہے، یا نظام کی خرابی پر سوال اُٹھاتا ہے، اُسے تنہا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ہم ہر حق گو کو مایوسی کی طرف دھکیل دیتے ہیں، اور پھر اُسے قصوروار بھی ٹھہراتے ہیں۔ ہم نے اختلاف کو گستاخی، سوال کو بغاوت، اور سچائی کو خطرہ بنا دیا ہے۔ ہم نے معاشرتی بت توڑنے والوں کو منہ موڑ کر سزا دی ہے۔ ہم سب اپنے اپنے نمرود کے دربار میں خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں، مگر کسی میں یونسؑ جیسی ہمت باقی نہیں رہی۔
جب یونس ؑ سمندر کی گہرائیوں میں کودے تو مچھلی نے اُنہیں نگل لیا۔ وہ اندھیرا صرف جسمانی نہیں تھا وہ فکری، روحانی اور جذباتی قید تھی۔ وہ تنہائی کا کرب، احساسِ ناکامی کا بوجھ، اور سماجی لاتعلقی کا گہرا کنواں تھا۔ آج بھی ہم اسی اندھیرے میں ہیں اداروں کی بے حسی، سیاست کی خودغرضی، اور عوام کی خاموشی نے ہمیں اجتماعی طور پر مچھلی کے پیٹ میں قید کر رکھا ہے۔ ہم چیخنا چاہتے ہیں، مگر آواز نہیں نکلتی؛ ہم چلنا چاہتے ہیں، مگر سمت نہیں ملتی۔ ہم زندہ ہیں، مگر بے حس؛ متحرک ہیں، مگر بے مقصد؛ آزاد ہیں، مگر بے وقار۔ ہم نے اپنی قید کو مقدر، اور اپنے اندھیرے کو راحت سمجھ لیا ہے۔
یونس ؑ نے اس اندھیرے میں ایک جملہ کہا ایک دُعا، ایک اعتراف، ایک سچ: ’’میں ظالموں میں سے تھا۔‘‘ یہی وہ لمحۂ تھا جب اندھیرے نے روشنی کو جگہ دی۔ یہی وہ موڑ تھا جہاں شکست، شعور میں بدل گئی، اور ندامت نجات بن گئی۔ آج بھی اگر ہم اپنی غلطیوں کا اعتراف کر لیں — بطور فرد، بطور قوم، بطور نظام تو شاید ہم بھی روشنی کی طرف بڑھ سکیں۔ مگر ہم نے اعتراف کو کمزوری، اور معافی کو شکست سمجھ لیا ہے۔ ہم غلطی پر اصرار کو دلیل، اور سچائی کے انکار کو سیاست بنا بیٹھے ہیں۔ ہم نے ندامت کو شرمندگی، اور اصلاح کو خطرہ سمجھ لیا ہے۔ یہی وہ رویہ ہے جو ہمیں مسلسل اندھیروں میں رکھے ہوئے ہے۔
یونس علیہ السلام کی کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ مایوسی فطری ہے، مگر دائمی نہیں ہونی چاہیے۔ تھک جانا جرم نہیں، رُک جانا ہے۔ آج ہم ہر چیلنج پر ہار مان لیتے ہیں، ہر ناکامی پر قسمت کو کوستے ہیں، اور ہر بحران میں اُمید کھو دیتے ہیں۔ ہم نے دُعا کو رسم، یقین کو تقریر، اور اُمید کو نعرۂ بنا دیا ہے۔ ہم نے روشنی کی بات تو سیکھی ہے، مگر اندھیرے کا مقابلہ کرنا بھول گئے ہیں۔ ہم نے قید کو سکون، اور خاموشی کو دانائی سمجھ لیا ہے۔ ہمارا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ ہم اندھیرے میں رہنے کے عادی ہو چکے ہیں، اور روشنی سے آنکھیں چُرا لیتے ہیں۔
جب یونس ؑ واپس آئے تو اُنکی قوم نے اُنہیں سنا، مانا اور نجات پا لی۔ یہ وہ لمحۂ تھا جب ایک فرد کی واپسی نے پورے معاشرے کو بدل دیا۔ آج بھی اگر کوئی سچ بولنے والا واپس آنا چاہے، ہم اُسے موقع نہیں دیتے۔ ہم اُسے پرانے الزامات میں جکڑ دیتے ہیں، اور پھر دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم اصلاح چاہتے ہیں۔ ہم نے واپسی کو خطرہ، اور رجوع کو کمزوری بنا دیا ہے۔ ہم اصلاح کو شک، اور سچائی کو سازش سمجھنے لگے ہیں۔ ہم اجتماعی طور پر اندھیروں میں رہنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ ہم مچھلی کے پیٹ کو قید نہیں سمجھتے، بلکہ پناہ سمجھتے ہیں اور یہی ہماری اصل ہلاکت ہے۔
یہ صرف ایک نبی کی داستان نہیں، بلکہ ہر اُس انسان کا راستہ ہے جو مایوسی کے اندھیرے میں گم ہو کر بھی روشنی تلاش کرنیکا حوصلہ رکھتا ہے۔ یونس ؑ کی مچھلی آج بھی موجود ہے. ہر اُس نظام میں جو سچ کو نگل لیتا ہے، ہر اُس معاشرے میں جو اختلاف کو جرم سمجھتا ہے، اور ہر اُس ذہن میں جو سوال سے خوف کھاتا ہے۔ مگر روشنی بھی موجود ہے . اگر ہم اپنی غلطیوں کا اعتراف کریں، اپنی خاموشیوں کو توڑیں، اور اپنی بے حسی کو جھٹک دیں۔ یونسؑ کا سبق یہی ہے: نجات کی شرط صرف ایک ہے . سچ کا اعتراف۔ کیونکہ جو اندھیرے کو آرام سمجھ لے، وہ روشنی کا حق دار نہیں رہتا۔ اور جو روشنی کی جستجو میں نکل کھڑا ہو، وہ اندھیروں کا اسیر نہیں رہتا۔
