ٹیوٹا اجلاس؛ نوجوانوں کی مہارت اور روزگار ترجیح، اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام پر مؤثر عملدرآمد کی ہدایت، وزیراعلیٰ
۔
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے وزیر اعلیٰ ہاوس پشاور میں ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی ( ٹیوٹا) کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اسکلز ڈویلپمنٹ اینڈ ایمپلائمنٹ پروموشن پروگرام پر موثر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی اور کہا کہ صوبائی حکومت نوجوانوں کی فلاح و ترقی پر اربوں روپے خرچ کر رہی ہے ، اس سرمایہ کاری کے نتائج واضح نظر آنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں، انہیں مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ ہنر اور روزگار دینا حکومت کی ترجیح ہے۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ٹیوٹا کے تحت جاری اقدامات دور رس نتائج کے حامل ہیں، ان پر ٹھوس حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔
وزیر اعلیٰ نے رورل اکنامک ٹرانسفارمیشن پراجیکٹ پر عید کے فوری بعد اجلاس منعقد کرنے اور تفصیلی بریفنگ کی ہدایت کی ہے۔ ٹیوٹا حکام کی جانب سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ رورل اکنامک ٹرانسفارمیشن پراجیکٹ کے تحت 42 ہزار نوجوانوں کو اوسطاً 73 ہزار روپے فی کس اسٹارٹ اپ گرانٹ فراہم کی جا رہی ہے جبکہ اب تک 5,445 اہل نوجوانوں میں 39.7 کروڑ روپے تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ 750 تربیت یافتہ نوجوانوں کی ملازمتوں کے مواقع تک رسائی میں پیش رفت جاری ہے جبکہ پراجیکٹ کے تحت مجموعی طور پر 25 ہزار نوجوانوں کی انٹرن شپ اور پلیسمنٹ کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
علاوہ ازیں ، تین ارب روپے کے احساس ہنر پروگرام میں نوجوانوں کو پانچ لاکھ روپے تک بلاسود قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں جبکہ پروگرام کے تحت اب تک 1,211 درخواست گزاروں میں 58.5 کروڑ روپے تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ ٹیوٹا سے فارغ التحصیل نوجوانوں کی مہارتوں میں اضافے کے لیے خصوصی پروگرام شروع کیا گیا ہے جس میں فی ٹرینی 15 ہزار روپے ماہانہ وظیفہ شامل ہے۔اب تک 88 پاس آوٹ نوجوانوں کو مختلف صنعتی یونٹس میں آن جاب ٹریننگ کی سہولت فراہم کی گئی جبکہ 560 نوجوانوں کی 85 مختلف صنعتی یونٹس میں پلیسمنٹ مکمل کی جا چکی ہے۔ ضم اضلاع بارے بتایا گیا کہ 685 ملین روپے کی لاگت سے ضم اضلاع کے لیے تیز رفتار اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت تین ہزار نوجوانوں کو مالی اور تکنیکی معاونت کی فراہمی پر پیش رفت جاری ہے جبکہ پروگرام کے تحت 800 نوجوانوں کی ٹریننگ مکمل، 520 نوجوانوں کی نیشنل لاجسٹکس سیل (این ایل سی) جبکہ 1,400 نوجوانوں کی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں پلیسمنٹ یقینی بنائی گئی ہے۔
