بہار کے تقاضے – تحریر: اقبال حیات اف برغذی
.
گزشتہ جمعہ کے دن شاہی مسجد کے خطیب محترم مولانا خلیق الزمان صاحب نے موسم بہار کی مناسبت سے شجر کاری اور بچوں کی تعلیم سے متعلق سیر حاصل ارشادات کئے۔ اپنی نوعیت کے اعتبار سے یہ دونوں عوامل قابل ذکر اور قابل عمل ہیں۔ کیونکہ اس دنیامیں جنگلات ور دیگر اشجار انسانی زیست کے لئے اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔جہان انسان مختلف رنگ اور ذائقے کے میووں کی لذت سے لطف اندوز ہوتے ہیں وہاں ماحولیات پران کے مثبت اثرات کی اہمیت بھی مسلمہ ہے اور ساتھ ساتھ درخت،دنیاکی زینت اور رونق کو بڑھاوادینے کا بھی باعث بنتے ہیں۔ یہی درخت ہیں جو جلانے کے لئے لکڑی کھانے کے لئے میوے اور استراحت کے لئے سائے کا کام دیتے ہیں سب سے قابل ذکر بات یہ ہے کہ درخت لگانے والا اس کے میووں سے دوسروں کے لطف اندوز ہونے کے سبب ثواب کے حصول سے مستفید ہوتا ہے۔
جہاں تک بچوں کی تعلیم کا تعلق ہے اس حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا کہ قوم کی مستقبل کی امیدیں بچوں سے وابستہ ہوتی ہیں۔ یہ گلستان حیات کے وہ پھول ہیں جن کی ہر یال کا دارومدار صرف اور صرف علم کی آبیاری پر ہے۔ اورجب تک یہ چمن اور گلستان آبادرہے گا۔تو ان پھولوں کی مہک سے پوری قوم کا معطر ہونا یقینی امر ہے۔ حصول علم کے تقاضے اس وقت پورے ہوسکتے ہیں۔جب گھراور تعلیمی ادارے میں باہمی ربط برقرار رہے اور بچے کی تربیت کے یہ دونوں مراکز اپنے فرائض کی ادائیگی میں غفلت اور لاپرواہی کا ارتکاب نہ کریں ۔اس حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا کہ ماں کی گود کو بچے کی تربیت کےلئے اولین درسگاہ کی حیثیت حاصل ہے اور گھر کے ماحول کی اہمیت بھی اس کے ساتھ مربوط ہے۔
بدقسمتی سے ہم فی الوقت ان دونوں عوامل کی حقیقی افادیت سے محروم ہیں کیونکہ ہماری خواتین کی شرح زندگی تناسب کے پیمانے پر پرکھنے کے قابل ہی نہیں ۔جس کی وجہ سے ابتدائی درسگاہ سے ہی علمی ماحول سے محرومی کے اثرات کا اغاز ہوتا ہے۔البتہ اگر تعلیمی اداروں میں مثالی اساتذہ دستیاب ہوں تو گھر کے ماحول کے منفی اثرات سے بچے کو بچایا جاسکتا ہے۔ جس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بہتریں معلم کی حیثیت سے ایک جاہل قوم کو دنیا کی امامت کے منصب تک پہنچایا۔لیکن بدقسمتی کا مقام ہے کہ ہمارے ملک میں فروغ علم کی طرف خصوصی توجہ نہیں دی جاتی۔اور عام طور معاش کے طور پر غیر معیاری صلاحیتوں کے حامل افراد کو ترویج علم جیسے اہم فرائض تفویض کئے جاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے حقیقی معنوں میں قومی سطح پر علم کے انوار نظر نہیں آتے۔ مادی قوت کے اعتبار سے مضبوط ملک امریکہ کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ وہاں قابل ترین افراد کی خدمات محکمہ تعلیم کےلئے وقف کئے جاتے ہیں۔اور خصوصی طور پر پرائمری سطح پر تعلیم کے لئے اس ملک کے نابعئہ روزگار فراد کی خدمات سے استفادہ کیا جاتا ہے ۔علم کی قدردانی کی وجہ سے آج یہ قوم دنیاپر حکمرانی کرارہی ہے۔
بحرحال ہمارے عظیم مذہب کا تصویر یہ ہے کہ بہتریں باپ وہ ہے جو اپنے بچوں کو میراث میں علم کی دولت چھوڑے اور بدتریں باپ وہ ہے جو اپنی اولاد کو میراث میں جاگیر اور مال وزر چھوڑے۔
