The Voice of Chitral since 2004
Monday, 27 July 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

پاکستان میں بیانیوں کی جنگ اور قومی مفاد ۔ تحریر: حماد الدین

Chitral Times

پاکستان میں بیانیوں کی جنگ اور قومی مفاد ۔ تحریر: حماد الدین

پاکستان میں بیانیوں کی جنگ اور قومی مفاد ۔ تحریر: حماد الدین

پاکستان میں بیانیوں کی جنگ اور قومی مفاد ۔ تحریر: حماد الدین

پاکستان کا ایک بڑا المیہ یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہاں کی آبادی کا ایک نمایاں حصہ مختلف بیرونی ممالک کے بیانیوں اور مفادات سے متاثر دکھائی دیتا ہے۔ کچھ لوگ افغانستان کی غیر مشروط حمایت کرتے نظر آتے ہیں، کچھ ایران کے مؤقف کے حامی ہوتے ہیں۔ اسی طرح حکمران یا ایلیٹ طبقے پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ مغربی دنیا کے مفادات کو ترجیح دیتا ہے۔

ان حالات میں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے قومی مفاد اور ریاستی وفاداری کا تصور کمزور پڑ گیا ہو اور ایسا فرد تلاش کرنا مشکل ہو جاتا ہے جو صرف اور صرف پاکستان کے مفاد کو مقدم رکھے۔ بعض لوگ مذہبی یا نظریاتی بنیادوں پر دوسرے ممالک کے لیے جذباتی وابستگی رکھتے ہیں، حالانکہ بین الاقوامی تعلقات ایمان و کفر کے بجائے ریاستی مفادات کی بنیاد پر استوار ہوتے ہیں۔

یہ سوال اہم ہے کہ اگر کوئی دوسرا ملک مشکل وقت میں ہماری عملی مدد کے لیے سامنے نہیں آتا تو پھر ہمارے معاشرے میں ایسے جذبات کیوں پیدا ہو جاتے ہیں کہ ہم اپنے ہی ملک کے مفاد کے مقابلے میں بیرونی طاقتوں کے لیے سخت مؤقف اختیار کریں۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ قومی شناخت، داخلی اتحاد اور ریاستی مفاد کو جذباتی یا خارجی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر سمجھا اور مضبوط کیا جائے۔

جب پاکستان اور ہندوستان کے درمیان کشیدگی یا جنگی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو ہم دیکھتے ہیں کہ خطے کے دیگر ممالک اپنی خارجہ پالیسی اور قومی مفادات کو مدِنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایسے مواقع پر افغانستان یا ایران کی قیادت نے کبھی اس شدت سے بھارت کے بائیکاٹ یا اس کے خلاف عملی مؤقف اختیار کرنے کا مطالبہ نہیں کیا، جیسا جذباتی ردِعمل ہمارے معاشرے کے بعض حلقوں میں دیکھا جاتا ہے۔ اس کے برعکس وہ ممالک اپنے اقتصادی اور تزویراتی مفادات کے تحت بھارت کے ساتھ تعلقات اور معاہدوں پر بات چیت جاری رکھتے ہیں۔

ایران کی بندرگاہ چابہار کی تعمیر بھی ایک ایسے ہی تزویراتی اور معاشی مفاد کے تحت کی گئی، جس میں بھارت کی شمولیت اس کے علاقائی تجارتی راستوں کو مضبوط بنانے کی کوشش کا حصہ ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ہر ریاست بین الاقوامی تعلقات میں اپنے مفادات کو ترجیح دیتی ہے، نہ کہ محض نظریاتی یا جذباتی وابستگیوں کو۔

بدقسمتی سے پاکستان کے اندر مختلف ممالک یا نظریات سے وابستہ ایسے گروہ موجود ہیں جو بعض اوقات اپنے نظریاتی، سیاسی یا مذہبی رجحانات کے باعث بیرونی مفادات کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں۔ اس طرزِ فکر سے ریاستی پالیسیوں پر دباؤ بڑھتا ہے اور قومی مفاد کی واضح سمت متعین کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

ہم سب مسلمان ہیں اور یہ حقیقت ہم سب پر واضح ہے کہ مذہبی تفرقہ اور فرقہ واریت نے ہمیں کس قدر کمزور اور مشکلات سے دوچار کیا ہے۔ اسی طرح یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایران اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے اور اس نے بیرونی دباؤ اور ظلم کے مقابلے میں ڈٹ کر مزاحمت کی ہے۔ اس تناظر میں بہت سے لوگ اس کی حمایت کو ایک اصولی مؤقف سمجھتے ہیں اور پاکستانی عوام کے ایک بڑے طبقے میں اس کے لیے ہمدردی پائی جاتی ہے۔

لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ امر نہایت اہم ہے کہ کسی بھی بیرونی مسئلے یا ریاستی تنازعے کے تناظر میں اپنے ہی ملک کے خلاف ایسے بیانات دینا، جیسے کہ اگر پاکستان کوئی خاص فیصلہ کرے تو ہم ملک کو توڑ دیں گے یا کسی خطے کو الگ کر دیں گے، دراصل ریاستی استحکام کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ اس طرح کی گفتگو نہ صرف قومی یکجہتی کو متاثر کرتی ہے بلکہ ریاستی نظام کو اندر سے کمزور کرنے کا باعث بھی بنتی ہے۔

ایک قوم کی حیثیت سے ہمیں یہ فرق سمجھنا ہوگا کہ کہاں مذہبی یا اصولی وابستگی کا تقاضا ہے اور کہاں قومی مفاد کو ترجیح دینا ضروری ہے۔ اگر معاملہ ایمان و کفر کا ہو تو مسلمان ہونے کے ناطے ہمارا مؤقف واضح اور مضبوط ہونا چاہیے، لیکن اگر تنازع صرف قومی مفادات، جغرافیائی سیاست یا ریاستی پالیسیوں کا ہو تو ہمیں اپنے ملک کی خودمختاری اور استحکام کو مقدم رکھنا چاہیے۔

اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ریاستی اداروں، حکومت یا سیاسی فیصلوں پر تنقید نہ کی جائے۔ تنقید ایک جمہوری معاشرے کا بنیادی حق اور ضرورت ہے، لیکن یہ تنقید اس انداز میں ہونی چاہیے جو اصلاح کا باعث بنے، نہ کہ بیرونی وابستگیوں کی بنیاد پر اپنے ہی ملک کو دباؤ میں لانے یا کمزور کرنے کا ذریعہ بن جائے۔ کسی دوسری ریاست سے جذباتی یا نظریاتی وابستگی کے تحت اپنے ملک کے مفادات کو نقصان پہنچانا دراصل قومی ذمہ داری سے انحراف کے مترادف ہے، اور یہ رویہ ملک اور قوم دونوں کے ساتھ ناانصافی کے برابر سمجھا جا سکتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی فکری ترجیحات میں توازن پیدا کریں اور جذباتی یا بیرونی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو سمجھیں۔ نظریات اور مذہبی احساسات اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن ایک ریاست کے شہری ہونے کے ناطے ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ ہم اپنے ملک کی مضبوطی، خودمختاری اور استحکام کے لیے کس حد تک ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔