آٹھ دیہات کا واحد بی ایچ یو میڈیکل آفیسر اور ڈینٹل ٹیکنیشن سے محروم، فوری تعیناتی کا مطالبہ
اپر چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) اپر چترال کے تاریخی علاقہ سنوغر میں واقع بنیادی مرکز صحت (BHU) گزشتہ کئی سالوں سے میڈیکل آفیسر اور ڈینٹل ٹیکنیشن جیسے اہم عملے سے محروم ہے، جس کے باعث علاقے کے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ یہ بی ایچ یو ایک وسیع علاقے کے آٹھ دیہات سرغوز، نصر، نصرگول، پرواک بالا، پرواک پائیں، میراگرام اور سنوغر گاوں کے لیے واحد طبی سہولیات کا مرکز ہے، جہاں ہزاروں افراد علاج معالجے کے لیے انحصار کرتے ہیں۔
مقامی افراد کے مطابق سیاسی رہنماؤں کی عدم دلچسپی اور متعلقہ اداروں کی غفلت کے باعث اس بنیادی مرکز صحت میں کئی برسوں سے میڈیکل آفیسر اور ڈینٹل ٹیکنیشن تعینات نہیں کیے جا سکے، حالانکہ ایک بی ایچ یو میں بنیادی طبی سہولیات کے ساتھ ساتھ زچگی، ایکسرے اور دیگر سہولیات بھی موجود ہونی چاہئیں۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ عملے کی عدم دستیابی کی وجہ سے معمولی بیماریوں، دانتوں کے درد یا بلڈ پریشر جیسے مسائل کے علاج کے لیے بھی مریضوں کو دور دراز علاقوں، خصوصاً بونی یا لوئر چترال کے ہسپتالوں کا رخ کرنا پڑتا ہے، جس سے غریب عوام کو شدید مالی اور ذہنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
علاقے کے عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت اور محکمہ صحت کے پی فوری طور پر اس بی ایچ یو میں میڈیکل آفیسر اور ڈینٹل ٹیکنیشن تعینات کرے تاکہ علاقے کے عوام کو بنیادی طبی سہولیات میسر آ سکیں۔بصورت دیگر علاقے کے عوام احتجاج پر مجبور ہوجائیں گے۔
علاقہ مکینوں نے امید ظاہر کی ہے کہ کسی ناخوشگوار صورتحال سے پہلے حکومت اور متعلقہ حکام فوری اقدامات کرتے ہوئے بی ایچ یو سنوغر میں مطلوبہ طبی عملہ تعینات کریں گے تاکہ عوام کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ہو سکے۔


