The Voice of Chitral since 2004
Thursday, 18 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

عالمِ اسلام کا حسینی شیر – رہبرِ انقلاب شہید کون تھے؟ – تحریر: مبشرالملک

Chitral Times

عالمِ اسلام کا حسینی شیر – رہبرِ انقلاب شہید کون تھے؟ – تحریر: مبشرالملک

عالمِ اسلام کا حسینی شیر – رہبرِ انقلاب شہید کون تھے؟ – تحریر: مبشرالملک

عالمِ اسلام کا حسینی شیر – رہبرِ انقلاب شہید کون تھے؟ – تحریر: مبشرالملک

تاریخِ اسلام گواہ ہے کہ ہر دور میں حق و باطل کی کشمکش جاری رہی۔ کبھی یہ معرکہ بدر و اُحد کی صورت میں سامنے آیا، کبھی کربلا کے میدان میں، اور کبھی سیاسی و فکری محاذوں پر۔ موجودہ عہد میں عالمِ اسلام کی مزاحمتی سیاست میں جس شخصیت کو ان کے چاہنے والے استقامت، جرأت اور مزاحمت کی علامت سمجھتے ہیں، وہ رہبرِ انقلاب ایران آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای ہیں، جنہیں ان کے پیروکار استعارتی طور پر “شہیدِ مزاحمت” بھی قرار دیتے ہیں۔

شجرۂ نسب — اہلِ بیتؑ سے نسبت
رہبرِ انقلاب کا تعلق ساداتِ حسینی خاندان سے ہے۔ مستند تاریخی و انسائیکلوپیڈیا مصادر کے مطابق ان کا نسب یوں ملتا ہے:
حضرت محمد ﷺ
→ حضرت فاطمہ الزہراءؓ
→ حضرت علی المرتضیٰؓ
→ امام حسینؓ
→ امام علی زین العابدینؒ
→ ساداتِ حسینی سلسلہ
→ سید حسین خامنہ‌ای
→ سید جواد خامنہ‌ای
→ سید علی حسینی خامنہ‌ای
اسی نسبتِ رسول ﷺ کی بنا پر انہیں “سید” کہا جاتا ہے۔

مختصر حالاتِ زندگی
سید علی حسینی خامنہ ای 1939ء میں مشہد (ایران) کے ایک علمی و دینی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد آیت اللہ سید جواد خامنہ ای سے حاصل کی۔ بعد ازاں قم کے علمی مراکز میں فقہ، تفسیر اور اسلامی فلسفہ کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔
ایران میں شاہی نظام کے خلاف تحریک کے دوران متعدد مرتبہ قید و بند اور جلاوطنی کا سامنا کیا۔ 1979ء کے انقلابِ ایران کے بعد ریاستی و دینی قیادت میں نمایاں کردار ادا کیا۔ 1989ء میں امام خمینیؒ کے بعد انہیں رہبرِ انقلاب منتخب کیا گیا۔

بین الاقوامی سیاست میں وہ مسلم خودمختاری، استعماری دباؤ کے مقابل مزاحمت اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کے داعی سمجھے جاتے ہیں۔

امتِ مسلمہ اور موجودہ عالمی منظرنامہ
آج عالمِ اسلام بظاہر ستاون ریاستوں پر مشتمل ہے، مگر عملی طور پر انتشار، کمزوری اور باہمی اختلافات کا شکار دکھائی دیتا ہے۔ ایسے ماحول میں مزاحمت کی ہر آواز کو بعض حلقے امت کی غیرت کی علامت قرار دیتے ہیں — گویا او آئی سی کی ستاون بہنوں کا ایک غیرت مند بھائی۔

عالمی طاقتوں کی بدلتی حکمت عملی، مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی، افغانستان کی صورتحال، جنوبی ایشیا کے توازن اور خطے میں نئی صف بندیوں نے مسلم دنیا کو سیاسی بصیرت، اتحاد اور دفاعی شعور کی ضرورت کا احساس دلایا ہے۔ آج ضرورت جنگ کی نہیں بلکہ حکمت، خود انحصاری، علمی قوت اور قومی وحدت کی ہے تاکہ کوئی بیرونی قوت مسلم دنیا کے مستقبل کا فیصلہ نہ کر سکے۔

کربلا — ایک جاری حقیقت
کربلا صرف عراق کی سرزمین تک محدود واقعہ نہیں رہا۔ یہ ایک فکر بن چکا ہے۔
ہر زمانے میں سوال وہی رہتا ہے:
کون حق کے ساتھ کھڑا ہے؟
اور کون طاقت کے ساتھ؟
یہ فیصلہ تاریخ نہیں، کردار کرتا ہے۔
قربِ قیامت کے آثار اور امت کیلئے پیغام
احادیث میں ایسے ادوار کا ذکر ملتا ہے جب امت آزمائشوں، فتنوں اور باہمی کمزوریوں سے گزرے گی۔

اگر اسرایل امریکہ ایران میں رجیم چنچ کرنے میں کامیاب ہوے تو اسرایل کی اپنی مکاریوں سے لیس ہوکے ہمارے تفتان بارڈر تک پہنچ جاے گا ۔اپنے بچے طالبان کو ہم نے دشمن بنا دیے انڈیا مسلسل جنگی تیاریوں میں سرگرم عمل ہے ۔۔۔ مین اف پیس ۔۔۔ کا چہرہ سب نے دیکھ لیا لہزا سید عاصم منیر ۔۔۔فیلڈ مارشل کو بھی ایک سید ذادے کا کردار ادا کرنا چاہیے ۔۔۔۔ ٹرمپ کے پھندے سے نکل کر کیونکہ مایوسی اہلِ ایمان کا شیوہ نہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ قربانی، صبر اور استقامت ہی امتوں کو زندہ رکھتی ہے۔
آج بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان علم، اخلاق، اتحاد اور عدل کو اپنا ہتھیار بنائیں۔ ظلم کے خلاف آواز بلند کریں مگر حکمت اور انسانیت کے دائرے میں رہتے ہوئے۔
کربلا کا پیغام یہی ہے کہ حق کی راہ مشکل ضرور ہوتی ہے، مگر شکست خوردہ نہیں ہوتی۔
طالبِ دعا
حقیرو فقیر