خیبرپختونخوا حکومت کا ڈیجیٹل گورننس کے فروع کی جانب ایک اور اہم قدم ، لائیو سٹاک منیجمنٹ انفارمیشن سسٹم (LMIS) متعارف کرا دیا
پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز ) خیبر پختونخوا حکومت نے ڈیجیٹل گورننس کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے لائیو سٹاک کے شعبے میں جدید اور عصرِ حاضر کی ضروریات سے ہم آہنگ لائیو سٹاک منیجمنٹ انفارمیشن سسٹم (LMIS) متعارف کرا دیا ہے جس کا مقصد لائیوسٹاک خدمات کی فراہمی کو مؤثر بنانا اور نظام میں شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔
وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے ایل ایم آئی ایس کا باقاعدہ افتتاح وزیر اعلیٰ ہاوس پشاور میں منعقدہ ایک تقریب میں کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ لائیو سٹاک کا شعبہ دیہی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور صوبائی حکومت اس اہم شعبے کو جدید ڈیجیٹل نظام سے ہم آہنگ کر رہی ہے تاکہ سرکاری امور کو تیز، آسان اور شفاف بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ لائیو سٹاک منیجمنٹ انفارمیشن سسٹم کسانوں کو براہ راست فائدہ پہنچانے اور انہیں بااختیار بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ ایل ایم آئی ایس کے ذریعے لائیو سٹاک سروس ڈیلیوری میں شفافیت، جوابدہی اور بہتر گورننس کو یقینی بنایا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ ایل ایم آئی ایس لائیو سٹاک سیکٹر میں اصلاحات کے ایک نئے دور کا آغاز ہے جس کے نتیجے میں عوامی خدمات کے معیار میں نمایاں بہتری آئے گی۔اس موقع پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ایل ایم آئی ایس کے تحت ٹول فری لائیو سٹاک ہیلپ لائن قائم کی جائے گی جس کے ذریعے کسان براہ راست ماہرین سے رہنمائی حاصل کر سکیں گے۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ مویشیوں کی ویکسینیشن، علاج اور مصنوعی افزائشِ نسل کی سروسز کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ کی جائے گی۔لائیو سٹاک منیجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے ذریعے لائیو سٹاک سروس ڈیلیوری کو ایک مرکزی ڈیجیٹل نظام سے منسلک کر دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں کسان، ویٹرنری اسپتال، موبائل کلینکس اور فیلڈ اسٹاف اور تحقیقی ادارے ایک ہی ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر یکجا ہو گئے ہیں۔مزید بتایا گیا کہ صوبے میں پہلی بار جیو ٹیگڈ فارمر اور لائیو سٹاک کا جامع ڈیٹا بیس تیار کیا جائے گا۔
بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ جانوروں کی نسل، عمر اور جنس پر مبنی ریکارڈ کی تیاری کے ساتھ ساتھ ادویات اور ویکسین کی خریداری اور استعمال کی نگرانی بھی ڈیجیٹل نظام کے تحت کی جائے گی۔ اس کے ساتھ جانوروں کی شناخت کیو آر کوڈ (QR Code) کے ذریعے کی جائے گی، جبکہ بیماریوں کی بروقت نشاندہی کے لیے ریئل ٹائم نگرانی کا نظام فعال ہوگا، جس سے بیماریوں کے پھیلاو کی روک تھام اور فوری رسپانس ممکن بنایا جا سکے گا۔