قیامِ امن میں مصنوعی اضافے کا وبال! – تحریر: ابو سلمان
.
رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
“مَنْ دَخَلَ فِي شَيْءٍ مِنْ أَسْعَارِ الْمُسْلِمِينَ لِيُغْلِيَهَا عَلَيْهِمْ فَإِنَّ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُقْعِدَهُ بِعَظْمٍ مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ”
(جس نے مسلمانوں کی قیمتوں میں اس لیے دخل اندازی کی کہ ان پر مہنگائی کرے تو اللہ پر حق ہے کہ قیامت کے دن اسے آگ کی ہڈیوں پر بٹھائے) مسند احمد
یہ حدیثِ مبارکہ بازار کی دنیا میں ایمان کی روح پھونک دیتی ہے۔ آج جب مصنوعی مہنگائی، ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری نے عام آدمی کی سانسیں تنگ کر دی ہیں، اور خصوصاً رمضان المبارک میں مہنگائی کا طوفان امڈ آتا ہے، یہ فرمانِ نبوی ﷺ ہمیں جھنجھوڑتا ہے کہ تجارت محض لین دین نہیں، امانت اور دیانت کا امتحان بھی ہے۔ افسوس کہ جس مہینے میں رحمتوں کی بارش ہونی چاہیے، اسی مہینے میں قیمتوں کی آگ بھڑکا دی جاتی ہے۔
قرآنِ مجید کی واضح تعلیم
قرآن کریم اعلان کرتا ہے:
“وَيْلٌ لِّلْمُطَفِّفِينَ” (المطففین: 1)
تباہی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے۔
ایک اور مقام پر ارشاد ہے:
“وَأَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْط؛ (الانعام: 152)
ناپ اور تول انصاف کے ساتھ پورا کرو۔
یہ آیات بتاتی ہیں کہ اسلام کی نظر میں معاشی ظلم بھی اتنا ہی سنگین ہے جتنا کوئی اور ظلم۔ قیمتوں میں ناجائز اضافہ، مصنوعی قلت پیدا کرنا اور ذخیرہ اندوزی دراصل اجتماعی حق تلفی ہے۔ خاص طور پر رمضان المبارک میں جب ہر گھر میں افطار و سحر کا اہتمام ہوتا ہے، اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بڑھا دینا عبادت گزاروں کے لیے آزمائش کو دوچند کر دیتا ہے۔
ذخیرہ اندوزی: ایمان کے خلاف جرم
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:مَنِ احْتَكَرَ فَهُوَ خَاطِئٌ (صحیح مسلم)
جو شخص ذخیرہ اندوزی کرے وہ گناہگار ہے۔
ایک اور روایت میں ہے:
“لا يَحْتَكِرُ إِلَّا خَاطِئٌ”
ذخیرہ اندوزی صرف خطاکار ہی کرتا ہے۔
یہ واضح اعلان ہے کہ مارکیٹ میں مصنوعی بحران پیدا کرنا اسلامی تعلیمات سے کھلی بغاوت ہے۔ افسوس کہ رمضان المبارک جیسے بابرکت مہینے میں بھی اشیائے خوردونوش مہنگی کر دی جاتی ہیں، چینی، آٹا، دالیں، پھل اور سبزیاں عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو جاتی ہیں، اور یوں رحمتوں کا مہینہ بہت سوں کے لیے معاشی کرب کا مہینہ بن جاتا ہے۔
دیانتدار تاجر کا مقام
اسلام تجارت کی حوصلہ شکنی نہیں کرتا بلکہ اسے عبادت کا درجہ دیتا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا:
“التَّاجِرُ الصَّدُوقُ الْأَمِينُ مَعَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ” (ترمذی)
سچا اور امانتدار تاجر قیامت کے دن انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔
یہ کیسا عظیم مقام ہے! گویا تاجر اگر دیانت اختیار کرے تو وہ بھی روحانیت کی بلند چوٹیوں تک پہنچ سکتا ہے۔ اور اگر وہ رمضان المبارک میں خصوصی رعایت دے، قیمتیں کم کرے اور غریبوں کا خیال رکھے تو اس کا اجر کئی گنا بڑھ سکتا ہے۔ لیکن اگر وہ اسی مہینے میں ناجائز منافع خوری کرے تو انجام بھیانک ہے۔
معاشرتی اثرات
مصنوعی مہنگائی صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں، یہ اخلاقی بحران ہے۔
اس سے غریب کی تھالی خالی ہو جاتی ہے۔
متوسط طبقہ قرضوں میں ڈوب جاتا ہے۔
معاشرے میں بے چینی اور بداعتمادی جنم لیتی ہے۔
اور رمضان المبارک میں عبادت کا سکون بھی متاثر ہوتا ہے۔
اسلام عدل کا دین ہے۔ اگر بازار میں انصاف قائم نہ ہو تو معاشرہ عدم توازن کا شکار ہو جاتا ہے۔
ریاست اور معاشرے کی ذمہ داری
اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ خلفائے راشدینؓ بازاروں کی نگرانی کیا کرتے تھے۔ حضرت عمرؓ خود بازار میں جایا کرتے اور ناپ تول کی جانچ کرتے۔ مقصد یہ تھا کہ کوئی شخص عوام کا استحصال نہ کرے۔
آج بھی ضرورت ہے کہ!
حکومت رمضان المبارک میں خصوصی نگرانی کرے
علماء منبر و محراب سے مہنگائی کے خلاف آواز بلند کریں
تاجر اپنے ضمیر کو بیدار کریں اور اس بابرکت مہینے کو کمائی نہیں بلکہ کمائیِ آخرت کا ذریعہ بنائیں۔
عوام بھی ذخیرہ اندوزی میں شریک نہ ہوں۔
آخرت کا منظر
سوچئے! اگر چند سکوں کے لیے انسان آخرت کی دائمی رسوائی خرید لے تو یہ کیسا سودا ہے؟ حدیث میں “آگ کی ہڈیوں پر بٹھانے” کا تصور لرزا دینے کے لیے کافی ہے۔ دنیا کی تھوڑی سی کمائی اگر جہنم کا سبب بن جائے تو یہ خسارہ ناقابلِ تلافی ہے۔ اور اگر یہ سب کچھ رمضان المبارک میں ہو تو جرم کی سنگینی اور بڑھ جاتی ہے۔
قیامِ امن اور معاشرتی سکون کا راز انصاف میں ہے۔ جب بازار میں عدل ہوگا تو گھروں میں سکون ہوگا۔ جب تاجر امانتدار ہوگا تو معاشرہ خوشحال ہوگا۔ اور جب رمضان المبارک میں مہنگائی کا طوفان برپا کرنے کے بجائے آسانی پیدا کی جائے گی تو یہی مہینہ حقیقی معنوں میں رحمتوں کا مہینہ بنے گا۔
آئیے عہد کریں کہ ہم
ناجائز منافع خوری سے بچیں گے۔
ذخیرہ اندوزی نہیں کریں گے۔
رمضان المبارک میں خصوصی رعایت اور آسانی پیدا کریں گے۔
دیانت اور خوفِ خدا کو اپنا شعار بنائیں گے۔
کیونکہ اصل کامیابی مال کے انبار میں نہیں، بلکہ اللہ کی رضا میں ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن و سنت کی روشنی میں پاکیزہ معاشی نظام قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
