زندہ دلوں کے شہر میں بسنت کا پہلا دن – میری بات/روہیل اکبر
لاہور میں 24سال بعد بسنت کا پہلا دن آیا تو یوں لگا جیسے شہر نے برسوں بعد ایک لمبی سانس لی ہو سردیوں کی دھند کے بعد دھوپ کی پہلی کرن کے ساتھ ہی فضا میں رنگ گھل گئے چھتیں آباد ہو گئیں اور زندہ دلانِ لاہور نے ثابت کر دیا کہ خوشی ان کے مزاج میں شامل ہے گذشتہ روز رات 12بجتے ہی لاہور شہر کا آسمان رنگ برنگی پتنگوں سے سج گیا اوراندرونِ شہر سے لے کر گلبرگ، ڈیفنس اور ماڈل ٹاؤن تک چھتوں پر پتنگیں لہرانے لگیں کہیں پیلے دوپٹے، کہیں زرد پرچم اور کہیں سرسوں کے پھولوں کی خوشبو… بسنت صرف ایک تہوار نہیں لاہور کی روح کا اظہار ہے ڈھول کی تھاپ پر نوجوانوں کے قدم تھرکتے نظر آئے تو بزرگ بھی مسکرا کر کہہ اٹھے“اوئے، بسنت آ گئی اے!”اگر ہم بسنت کے پہلے دن کی بات کریں تو اسکی خاص بات یہ تھی کہ جوش کے ساتھ ہوش بھی نظر آیا
انتظامیہ کی موجودگی، ٹریفک کی روانی اور حفاظتی اقدامات اپنی جگہ مگر اصل کمال عوام کا تھا جنہوں نے خوشی مناتے ہوئے احتیاط کو فراموش نہیں کیا یہ وہی لاہور ہے جو زندگی کو پورے ذوق کے ساتھ جیتا ہے مگر دوسروں کے لیے جگہ چھوڑنا بھی جانتا ہے بازاروں میں پیلے کپڑوں، چْوڑیاں، پھول اور روایتی کھانے عروج پر تھے فوڈ اسٹریٹس میں مچھلی، پکوڑوں اور مٹھائیوں کی خوشبو نے بسنت کے رنگ مزید گہرے کر دیے گھروں میں چھتوں پر چولہے جل رہے تھے دوست احباب اکٹھے تھے اور ہر کامیاب کٹ پر قہقہوں کی گونج تھی بسنت کا پہلا دن دراصل ایک پیغام بھی تھا کہ لاہور مایوسی کا شہر نہیں یہ امید، رنگ اور زندگی کا شہر ہے یہاں کے لوگ جانتے ہیں کہ تہوار قوموں کی اجتماعی نفسیات کو زندہ رکھتے ہیں جب خوشیاں بانٹی جاتی ہیں تو دل بھی کشادہ ہوتے ہیں اور فاصلے بھی کم ہو جاتے ہیں زندہ دلانِ لاہور نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ یہ شہر صرف عمارتوں کا مجموعہ نہیں بلکہ احساسات، روایات اور رنگوں کا نام ہے بسنت کا پہلا دن گزر گیا مگر اس کی خوشبو دلوں میں ٹھہر گئی اور یہی لاہور کی اصل جیت ہے
لاہور میں بسنت کو خوبصورت، منظم اور پْرامن بنانے میں اگر کئی اداروں نے اپنا حصہ ڈالا تو اس پورے منظرنامے میں محکمہ اطلاعات پنجاب بالخصوص ڈائریکٹوریٹ جنرل پبلک ریلیشنز (ڈی جی پی آر) کا کردار نمایاں، مؤثر اور قابلِ تحسین رہا یہ کردار محض تشہیر تک محدود نہیں تھا بلکہ رہنمائی، آگاہی اور عوامی رویّوں کی تشکیل میں بھی کلیدی ثابت ہوا بسنت جیسے تہوار ماضی میں بدنظمی، افواہوں اور خوف کی نذر ہوتے رہے ہیں مگر اس بار منظر مختلف تھا اس تبدیلی کے پیچھے ڈی جی پی آر کی وہ حکمتِ عملی تھی جس نے اطلاع کو سنسنی کے بجائے شعور اور خبر کو خوف کے بجائے اعتماد کا ذریعہ بنایا بروقت، درست اور ذمہ دارانہ اطلاعات کی فراہمی نے نہ صرف افواہوں کا راستہ روکا بلکہ عوام اور انتظامیہ کے درمیان اعتماد کی ایک مضبوط فضا بھی قائم کی ڈی جی پی آر نے بسنت سے قبل اور دوران میڈیا مینجمنٹ کو نہایت پیشہ ورانہ انداز میں سنبھالا پرنٹ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے یہ پیغام واضح طور پر دیا گیا کہ بسنت خوشی کا تہوار ہے مگر اس کی خوبصورتی امن اور ذمہ داری سے مشروط ہے یہی وجہ ہے کہ اس بار“دل ہوا بو کاٹا”کے نعروں کے ساتھ“احتیاط”اور“ذمہ داری”کی آواز بھی سنائی دی
خصوصی بات یہ رہی کہ محکمہ اطلاعات نے محض سرکاری بیانات پر اکتفا نہیں کیا بلکہ مثبت بیانیہ تشکیل دیا لاہور کی ثقافت، روایات اور زندہ دلی کو اْجاگر کرتے ہوئے یہ باور کرایا گیا کہ تہوار تبھی تہوار ہوتے ہیں جب وہ کسی کے لیے خوف یا نقصان کا باعث نہ بنیں ڈی جی پی آر کی تیار کردہ معلوماتی مہمات، سوشل میڈیا کنٹینٹ اور پریس بریفنگز نے عوام کو شریکِ سفر بنایا محض تماشائی نہیں ڈی جی پی آر اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان مربوط رابطہ بھی اس کامیابی کی ایک بڑی وجہ بنا ٹریفک پلان، حفاظتی ہدایات، پتنگ بازی سے متعلق ضابطہ اخلاق اور ہنگامی نمبرز کی تشہیر نے شہریوں کو باخبر رکھا نتیجتاً بسنت کا جشن بدنظمی کے بجائے نظم اور خوف کے بجائے خوشی کی علامت بن کر سامنے آیایہ بھی حقیقت ہے کہ آج کے دور میں جنگ میدانوں میں نہیں بلکہ بیانیوں میں لڑی جاتی ہے ڈی جی پی آر نے اس محاذ پر بھرپور کامیابی حاصل کی سوشل میڈیا پر منفی خبروں اور افواہوں کے مقابل مثبت اور مصدقہ معلومات کی فراہمی نے ثابت کیا کہ اگر ریاستی ادارے جدید تقاضوں کے مطابق کام کریں تو عوامی سوچ کو درست سمت دی جا سکتی ہے لاہور میں بسنت کا پْرامن انعقاد اس بات کا ثبوت ہے کہ محکمہ اطلاعات محض ایک دفتری ادارہ نہیں بلکہ ایک فکری و سماجی ذمہ داری نبھانے والا ستون ہے
ڈی جی پی آر نے یہ ثابت کر دیا کہ درست معلومات، مثبت سوچ اور بروقت رابطہ کسی بھی بڑے عوامی ایونٹ کو کامیاب بنا سکتا ہے آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اگر بسنت کا پہلا دن رنگوں، مسکراہٹوں اور امن کے ساتھ یاد رکھا جائے گا تو اس کے پس منظر میں ڈی جی پی آر کی خاموش مگر مؤثر محنت شامل ہوگی یہی وہ کردار ہے جو نظر کم آتا ہے مگر اثر بہت گہرا چھوڑ جاتا ہے اور لاہور نے اس اثر کو دل سے محسوس کیا یہاں اس بات کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ بسنت جیسے رنگا رنگ اور حساس تہوار کے موقع پر سیکریٹری اطلاعات پنجاب جناب طاہر رضا ہمدانی اور ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز پنجاب فرید احمد شیخ کی پیشہ ورانہ میڈیا مینجمنٹ قابلِ تحسین رہی ان کی بروقت حکمتِ عملی، متوازن اطلاعاتی پالیسی اور ذمہ دارانہ رہنمائی کے باعث بسنت کی تقریبات کو مثبت، پْرامن اور تہذیبی رنگ میں اجاگر کیا گیاڈی جی پی آر کی ٹیم نے نہ صرف افواہوں اور منفی تاثر کا مؤثر تدارک کیا بلکہ قومی و بین الاقوامی میڈیا تک پنجاب حکومت کا واضح مؤقف، عوامی سہولتوں اور حفاظتی اقدامات کو مؤثر انداز میں پہنچایا سیکریٹری اطلاعات کی نگرانی میں اطلاعاتی نظام نے یہ ثابت کیا کہ ریاستی سطح پر تہواروں کو بھی نظم و ضبط، ذمہ داری اور عوامی اعتماد کے ساتھ منایا جا سکتا ہے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ طاہر رضا ہمدانی اور فرید احمد شیخ کی میڈیا اسٹریٹجی نے بسنت کو محض ایک تہوار نہیں بلکہ پنجاب کی زندہ دلی، ثقافتی شناخت اور مثبت تشخص کے طور پر اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
