اسماعیلی کمیونٹی کی یوم امامت کی تیاریاں! انسانیت کی خدمت بطور خوشی – اقبال عیسیٰ خان
شہزادہ شاہ رحیم آغا خان پنجمؑ کی سالگرۂ امامت، 4 فروری کو عقیدت واحترام سے منایا جائے گا۔ اس موقع کی مناسبت سے دنیا بھر میں اسماعیلی مسلمانوں کی تیاریاں دراصل خوشی سے بڑھ کر شکرگزاری، نظم و ضبط، اور اجتماعی ذمہ داری کے احساس کا اظہار ہیں۔ افریقہ کے دیہات ہوں، ایشیا کے پہاڑی علاقے، یورپ و شمالی امریکا کے جدید شہر ہوں یا مشرقِ وسطیٰ کے قدیم مراکز، ہر جگہ یہ جشن ایک ہی پیغام لیے ہوئے ہے، انسان کی عزت، علم کی روشنی، اور خدمتِ خلق۔
شاہ رحیم آغا خان پنجمؑ کی امامت ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ قیادت شور سے نہیں، بصیرت سے پہچانی جاتی ہے۔ یہ وہ قیادت ہے جو مذہب کو انسانیت سے جدا نہیں کرتی، جو روحانیت کو عمل سے جوڑتی ہے، اور جو ترقی کو صرف معاشی پیمانوں میں نہیں ناپتی بلکہ انسانی وقار، خواتین کے حقوق، تعلیم، عالم انسانیت کی بے لوث خدمت، صحت اور امن کے فروغ میں دیکھتی ہے۔ ان کی سالگرہ پر ہونے والی تقریبات میں نظم، سادگی اور مقصدیت اس بات کی علامت ہیں کہ خوشی بھی ذمہ داری کے ساتھ منائی جاتی ہے۔
اسماعیلی امامت کی روایت ایک فکری تسلسل رکھتی ہے، ایسا تسلسل جو علم، مکالمے اور تنوع کے احترام پر قائم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسماعیلی ادارے دنیا بھر میں ثقافتی ورثے کے تحفظ، جامعات کے قیام، تحقیق، اور بین المذاہب ہم آہنگی میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ تقریبات محض رسومات نہیں بلکہ ایک فکری تہذیب کا اظہار ہیں جہاں نوجوان نسل کو بتایا جاتا ہے کہ ایمان، عقل اور خدمت ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ لازم و ملزوم ہیں۔
آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک، جدید دنیا میں ایک منفرد مثال ہے۔ صحت کے شعبے میں معیاری ہسپتال، تعلیم میں اسکول اور جامعات، دیہی ترقی، ماحولیاتی تحفظ، ثقافت اور شہری بحالی، یہ سب منصوبے کسی ایک قوم یا مذہب تک محدود نہیں۔ یہاں خدمت کا معیار شناخت نہیں دیکھتا، ضرورت دیکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک کی خدمات کو عالمی سطح پر اعتماد، شفافیت اور پائیدار ترقی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ یہ ادارے ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ پیشہ ورانہ مہارت جب اخلاقی وژن کے ساتھ جڑ جائے تو نتائج صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ زندگیاں بدلتے ہیں۔
شاہ رحیم آغا خان پنجمؑ کی سالگرہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہم اپنی اپنی جگہ انسانیت کے لیے کیا کر رہے ہیں۔ اسماعیلی کمیونٹی کی عالمی تیاریاں رضاکارانہ خدمات، سماجی منصوبے، دعائیہ اجتماعات اور تعلیمی سرگرمیاں اس بات کا عملی ثبوت ہیں کہ خوشی کا سب سے خوبصورت اظہار دوسروں کے کام آنا ہے۔
یہ کالم کسی شخصیت کی مدح سے بڑھ کر ایک راستے کی نشاندہی ہے۔ ایک ایسا راستہ جہاں ایمان انسان کو انسان کے قریب لاتا ہے، جہاں قیادت خدمت کا دوسرا نام ہے، اور جہاں ترقی کا ہدف صرف آج نہیں بلکہ آنے والی نسلیں ہیں۔
یہ محض ایک سالگرہ نہیں، یہ عہدِ خدمت کی تجدید ہے۔ یہ صرف ایک مسرت کا موقع نہیں، یہ انسانیت کے ساتھ کیے گئے وعدے کی یاد دہانی ہے۔
سالگرہ مبارک نہ صرف ایک امام کو، بلکہ اس فکر کو جو انسانیت کو مرکز بناتی ہے۔

