اپرچترال؛ افغان مہاجرین کے انخلاء سے متعلق افغان انخلاء کمیٹی کا آخری اجلاس، 6 فروری حتمی تاریخ مقرر
اپرچترال (نمائندہ چترال ٹائمز ) اپر چترال میں افغان مہاجرین کے انخلاء کے سلسلے میں افغان انخلاء کمیٹی کا ایک اہم اور آخری اجلاس ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریلیف اینڈ ایچ آر) اپر چترال محمد انور کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنرمستوج سمیت کمیٹی کے تمام اراکین نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران افغان باشندوں کے انخلاء سے متعلق اب تک کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کی جانب سے بتایا گیا کہ فائنل مرحلے کے لیے افغان مہاجرین کا تازہ ترین ڈیٹا مکمل طور پر تیار کر لیا گیا ہے، تاہم پولیس کی جانب سے مطلوبہ تعاون اور نفری کی عدم دستیابی کے باعث انخلاء کا عمل متاثر ہو رہا ہے۔ اجلاس میں آگاہ کیا گیا کہ روزانہ کی بنیاد پر افغان باشندوں سے رابطہ کر کے انہیں واضح طور پر بتایا جا رہا ہے کہ انخلاء ہر صورت لازم ہے اور اس ضمن میں کسی قسم کی رعایت یا استثنا باقی نہیں رہا، تاہم پولیس نفری کی عدم دستیابی کے باعث عملدرآمد میں مطلوبہ سختی پیدا نہیں ہو پا رہی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ فہرست کے مطابق بونی میں 11 جبکہ بونی سے باہر 17 افغان خاندان مقیم ہیں، اس طرح مجموعی طور پر 28 افغان خاندان بنتے ہیں جنہیں آخری اور فیصلہ کن مرحلے میں 6 فروری تک اپر چترال سے واپس روانہ کیا جائے گا۔
اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد انور نے کمیٹی کے تمام اراکین اور پولیس حکام کو سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ افغان مہاجرین کی واپسی سے متعلق تمام تر انتظامات ہر صورت 6 فروری سے قبل مکمل کیے جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ مقررہ تاریخ کے بعد کسی قسم کا عذر یا کوتاہی قابل قبول نہیں ہوگی اور غفلت کے مرتکب سرکاری اہلکاروں اور پولیس افسران کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ مکان مالکان فوری طور پر افغان کرایہ داروں کو آخری نوٹس جاری کریں اور نوٹس کی مدت مکمل ہونے کے بعد متعلقہ قوانین کے مطابق کارروائی کا آغاز کیا جائے۔
اجلاس کے اختتام پر اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ افغان مہاجرین کے انخلاء کی حتمی تاریخ 6 فروری مقرر ہے، جس کے بعد کسی بھی صورت مزید مہلت نہیں دی جائے گی۔

