گرم چشمہ میں برفانی چیتے کی پراسرار ہلاکت، پوسٹ مارٹم رپورٹ جاری
چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز) گرم چشمہ کی وادی کے ایک گاؤں میں پراسرار طور پر ہلاک ہونے والے برفانی چیتے کی پوسٹ مارٹم رپورٹ نے موت کی وجہ شدید اسہال (ڈائریا) اور پانی کی کمی کو قرار دیا ہے۔
رپورٹ میں مشاہدہ کیا گیا کہ معائنے کے وقت جسم انتہائی کمزور اور لاغر تھا اور جسم کے کسی حصے پر گولی کا کوئی زخم نہیں پایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق: ”منہ اور نتھنوں جیسے قدرتی سوراخوں سے کوئی غیر معمولی اخراج نوٹ نہیں کیا گیا۔ مقعد کے معائنے پر شدید اسہال کی علامات پائی گئیں جس کے نتیجے میں پانی کی کمی اور جسمانی کمزوری واقع ہوئی۔” رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ جسم پر کوئی بیرونی چوٹ یا خراش نہیں پائی گئی، جبکہ تمام اندرونی اعضاء نارمل تھے سوائے نظامِ ہضم کے، جہاں آنتوں کی سوزش نوٹ کی گئی۔
محکمہ لائیوسٹاک لوئر چترال کے ڈسٹرکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر غلام محمد، جنہوں نے پوسٹ مارٹم کیا، کے مطابق یہ نر چیتا تھا جس کی عمر 15 سال تھی اور اس کی موت سات دن سے زائد عرصہ قبل ہوئی تھی۔
یہ درندہ تقریباً دو ماہ قبل گرم چشمہ کے علاقے میں دیکھا گیا تھا جہاں اس نے 5 کلومیٹر کے قطر میں واقع چار مختلف دیہاتوں وخت، بیگوشت، اوویریک اور منور میں اپنے ٹھکانے بدلے اور تقریباً دو درجن بکریاں مار ڈالیں۔ علاقے کے مکینوں نے بارہا محکمہ جنگلی حیات سے مطالبہ کیا تھا کہ جانور کو بستی سے منتقل کیا جائے تاکہ ان کے مویشیوں کو بچایا جا سکے، کیونکہ یہ چیتا روزانہ کی بنیاد پر گاؤں کے اندر گھومتا پھرتا پایا جاتا تھا جس سے لوگوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔ چترال کے علاقے سے یہ جانور پراسرار طور پر غائب ہو گیا تھا اور گزشتہ بارہ سالوں سے یہاں نہیں دیکھا گیا تھا، تاہم گزشتہ سال نومبر میں یہ اچانک دوبارہ اس علاقے میں نمودار ہواتھا۔
