ارندو گول، چترال میں جنگلات کی کٹائی اور لکڑی کی اسمگلنگ کے الزامات بے بنیاد قرار، جبکہ وفاقی حکومت نے رپورٹ طلب کر لی
پشاور(نمائندہ چترال ٹائمز) محکمہ موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات خیبرپختونخوا نے ارندو گول، ضلع چترال میں جنگلات کی مبینہ کٹائی اور لکڑی کی اسمگلنگ سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کو حقائق کے منافی اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ صوبے بھر میں غیر قانونی کٹائی پر مکمل اور بلاامتیاز پابندی نافذ ہے، جس پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جا رہا ہے۔اس حوالے سے منعقدہ ایک اجلاس میں سیکرٹری جنگلات خیبرپختونخوا جنید خان نے کہا کہ صوبائی حکومت کی لکڑی کی اسمگلنگ کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی ہے اور اس ضمن میں کسی قسم کی رعایت یا چشم پوشی نہیں برتی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ جنگلات قومی اثاثہ ہیں اور ان کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
جاری پریس ریلیز کے مطابق سیکرٹری جنگلات کے مطابق ارندو کا معاملہ گزشتہ دو دہائیوں سے زیر التوا چلا آ رہا ہے، جس کے تاریخی، جغرافیائی اور سماجی پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک جامع، پائیدار اور مشاورتی پالیسی ترتیب دی جا رہی ہے، تاکہ مسئلے کا دیرپا اور قانونی حل ممکن بنایا جا سکے۔
محکمہ جنگلات نے بتایا کہ ارندو اور اس سے ملحقہ علاقوں میں لکڑی کی غیر قانونی نقل و حمل کی روک تھام کے لیے متعدد چیک پوسٹس فعال ہیں جبکہ جدید نگرانی کے نظام کے تحت مسلسل مانیٹرنگ بھی کی جا رہی ہے، تاکہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کو بروقت روکا جا سکے۔ مزید بتایا گیا کہ ارندو پالیسی کی تیاری کے عمل میں تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز جن میں مقامی آبادی، منتخب نمائندے اور متعلقہ ادارے شامل ہوں گے کو اعتماد میں لیا جائے گا، تاکہ فیصلے شفاف، متوازن اور عوامی مفاد کے مطابق ہوں۔
سیکرٹری جنگلات جنید خان نے اس موقع پر یہ بھی واضح کیا کہ اپ اسکیلنگ گرین پاکستان پراجیکٹ (UGPP) کو ارندو گول کے حوالے سے آزادانہ جائزہ رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ یہ ٹیم موقع کا تفصیلی معائنہ کر کے اپنی رپورٹ محکمہ موسمیاتی تبدیلی کو ارسال کرے گی، تاکہ حقائق کی روشنی میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جا سکے۔ محکمہ جنگلات نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ شفافیت، احتساب، قانون کی بالادستی اور ماحولیاتی تحفظ صوبائی حکومت کی مجموعی حکمتِ عملی کا بنیادی حصہ ہیں۔ جنگلات کے تحفظ کے لیے تمام قانونی وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور کسی کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔ آخر میں محکمہ موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات خیبرپختونخوا نے واضح پیغام دیا کہ “سرسبز خیبرپختونخوا محفوظ مستقبل” صوبائی حکومت کا غیر متزلزل عزم ہے، جس کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔
۔
۔
ارندو میں جنگلات کی کٹائی اور لکڑی اسمگلنگ: وفاقی حکومت نے رپورٹ طلب کر لی
دریں اثنا وفاقی حکومت نے چترال کے علاقے ارندو میں غیر قانونی درختوں کی کٹائی اور لکڑی کی مبینہ اسمگلنگ پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومت سے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے۔ وزیراعظم انسپکشن کمیشن کے مطابق ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے میں جنگلات کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے، جس سے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔
وزارتِ موسمیاتی تبدیلی نے ضلعی انتظامیہ اور خیبر پختونخوا فارسٹ ڈیپارٹمنٹ کو معاملے کی فوری جانچ اور قانونی کارروائی کی ہدایت دیتے ہوئے سات دن کے اندر تفصیلات ارسال کرنے کا حکم دیا ہے۔ ادھر سیکرٹری جنگلات نے غیر قانونی کٹائی پر مکمل پابندی اور زیرو ٹالرنس پالیسی کا اعادہ کیا ہے، جبکہ معاملے پر جامع پالیسی اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد تیار کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔
