آیون میں دریائے چترال کی طغیانی کا مذید خطرہ، حکومتی عدم توجہ پر عوام میں شدید تشویش، فوری اقدامات کا مطالبہ، بصورت دیگر اگلے سال مکمل گاوں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ عوامی حلقے
چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) چترال کا زرخیز، قدرتی حسن سے مالا مال اور سیاحتی طور پر معروف علاقہ آیون حکومتی عدم توجہ اور ادارہ جاتی بے حسی کے باعث شدید تباہی کے خطرے سے دوچار ہو گیا ہے۔ مقامی افراد کے مطابق خدشہ ہے کہ آئندہ سال دریائے چترال میں طغیانی کی صورت میں وسیع زرعی اراضی کے ساتھ ساتھ موڑدہ، تھوڑیاندہ اور بالخصوص درخناندہ کے متعدد مکانات بہہ سکتے ہیں، تاہم اس سنگین صورتحال کے باوجود صوبائی حکومت، ایریگیشن فلڈ ڈویژن اور این ڈی ایم اے کی جانب سے تاحال کوئی مؤثر حفاظتی اقدامات نظر نہیں آ رہے۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال موسمِ سرما میں چینلائزیشن کے نام پر مختص فنڈز مبینہ طور پر کرپشن کی نذر ہو گئے۔ چند دنوں کے لیے ایسکیویٹر کے ذریعے کام تو کیا گیا، مگر نہ تو دریا کا اصل بہاؤ درست کیا گیا اور نہ ہی ملبے کی مکمل صفائی عمل میں لائی گئی۔ نتیجتاً طغیانی کے دوران دریا کا رخ بدل گیا، جس سے قریبی دیہات، زرعی زمینوں اور کھڑی فصلوں کو شدید نقصان پہنچا۔ اس کے بعد سے دریائے چترال نے مستقل طور پر اپنا رخ انہی تین دیہات کی جانب کر لیا ہے، مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ اب تک حکومتی سطح پر خطرات کے تدارک کے لیے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔
مقامی سطح پر آیون گول کے سنگم پر دریائے چترال میں جمع شدہ ملبہ صاف کر کے پانی کی روانی بحال کرنے کی بات تو کی جا رہی ہے، تاہم موجودہ مشینری کے ذریعے خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آ سکے۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے اسی صورت فائدہ ممکن ہے جب موجودہ موسم میں، جب دریا کا پانی اپنی کم ترین سطح پر ہے، ہیوی ایسکیویٹرز کے ذریعے بڑے پتھروں اور ملبے کو دریا کے اندر سے نکال کر راستہ مکمل طور پر صاف کیا جائے، تاکہ دریا کا بہاؤ بغیر رکاوٹ کے بحال ہو اور مصنوعی سیلابی ڈیم کے باعث ہونے والے نقصانات سے بچا جا سکے۔
آیون کے متاثرین نے صوبائی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ موڑدہ آیون کے مقام پر دریائے چترال کا رخ، جو اس وقت تھوڑیاندہ اور درخناندہ کی طرف براہِ راست ہو رہا ہے، فوری طور پر چینلائزیشن کے ذریعے سنٹر میں ڈالا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ موڑدہ چھتان کے سامنے مضبوط حفاظتی پشتے تعمیر کیے جائیں تاکہ تھوڑیاندہ اور درخناندہ کو ممکنہ تباہی سے بچایا جا سکے اور علاقے کے عوام کو مستقل تحفظ فراہم ہو۔
