خیبرپختونخوا فوڈ اتھارٹی کا انسپکشن نظام جدید ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر منتقل، صوبہ بھر میں پیپر لیس اور کیش لیس فوڈ انسپکشن کے عملی کام کا آغازکردیا گیا
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے صوبہ بھر میں فوڈ انسپکشن کے نظام کو جدید ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر منتقل کرتے ہوئے FRAIMS (Food Quality Real-time Audit and Inspections Monitoring System) کو باضابطہ طور پر نافذ کر دیا ہے۔فوڈ اتھارٹی حکام کے مطابق FRAIMS کی باقاعدہ منظوری فوڈ اتھارٹی بورڈ نے دے دی ہے، جس کے بعد صوبہ بھر میں پیپر لیس اور کیش لیس فوڈ انسپکشن کا عملی طور پر آغاز کر دیا گیا ہے۔ نئے نظام کے تحت فیلڈ میں تعینات فوڈ سیفٹی اہلکار انسپکشن کے دوران باڈی وورن کیمرے اور جدید ڈیجیٹل آلات کا استعمال کریں گے۔حکام کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل ریکارڈ کے بغیر کی گئی کسی بھی فوڈ انسپکشن کو ناقابلِ قبول تصور کیا جائے گا، جبکہ بورڈ نے نئے انسپکشن ضوابط کی بھی منظوری دے دی ہے تاکہ شفافیت اور جوابدہی کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
فوڈ اتھارٹی حکام نے کہا کہ جرمانوں، فیسوں اور لائسنسنگ سے متعلق تمام ادائیگیاں اب صرف کیش لیس ذرائع کے ذریعے وصول کی جائیں گی، جس سے مالی امور میں شفافیت اور آسانی کو یقینی بنایا جا سکے گا۔دوسری جانب ڈائریکٹر جنرل خیبرپختونخوا فوڈ اتھارٹی واصف سعید نے بتایا کہ پراونشل فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری اینڈ سنٹر فار ریسرچ میں آئی ایس او سرٹیفکیشن کے حصول کے لیے تمام ضروری لوازمات مکمل کر لیے گئے ہیں اور سرٹیفکیشن کے حصول کا عمل آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ آئی ایس او سرٹیفکیشن سے مقامی سطح پر تیار ہونے والی مصنوعات کو یورپی اور مشرقِ وسطیٰ کی بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے میں مدد ملے گی، جس سے صوبے کی فوڈ انڈسٹری کو فروغ ملے گا۔
ڈی جی فوڈ اتھارٹی کے مطابق فوڈ ٹیسٹنگ نظام کو مزید جدید بنانے کے لیے لیبارٹری انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم (LIMS) کی تنصیب پر بھی تیزی سے کام جاری ہے، جس سے لیبارٹری کے امور میں شفافیت، رفتار اور معیار میں بہتری آئے گی۔انہوں نے مزید بتایا کہ فوڈ اتھارٹی بورڈ نے خوراک کے معیار اور عوامی صحت کے درمیان تعلق کو سائنسی بنیادوں پر جانچنے کے لیے 15 سالہ فوڈ سیفٹی و پبلک ہیلتھ ریسرچ پروگرام کی بھی منظوری دے دی ہے۔واصف سعید کا کہنا تھا کہ فوڈ اتھارٹی کے امور کو ڈیجیٹل نظام پر منتقل کرنے سے نہ صرف شفافیت میں اضافہ ہوگا بلکہ عوام کو معیاری اور آسان خدمات کی فراہمی بھی یقینی بنائی جا سکے گی۔
۔
۔
سال2021 میں 9.5 لاکھ لوگ پورے پاکستان میں بجلی 200 یونٹ سے کم استعمال کرتے تھے 2025 میں 200 یونٹس سے کم استعمال والے صارفین 20.7 لاکھ ہوگئے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم*
اسکا مطلب ہے کہ 38 فیصد آبادی کو جابرانہ بجلی بل کی وجہ سے استعمال کم کرنی پڑی ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم
پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز ) مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے بجلی استعمال بارے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کی حکومت میں عوام بے دھڑک بجلی استعمال کرتے تھے اور بانی پی ٹی آئی حکومت میں عوام کو بجلی کے بل کی فکر نا تھی۔ مزمل اسلم نے کہا کہ 2021 میں 9.5 لاکھ لوگ پورے پاکستان میں بجلی 200 یونٹ سے کم استعمال کرتے تھے جبکہ 2021 میں باقی صارفین 200 یونٹس سے زیادہ استعمال کرتے تھے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ اب 2025 میں 200 یونٹس سے کم استعمال والے صارفین 20.7 لاکھ ہوگئے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ 2021 میں صرف 34 فیصد افراد 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرتے تھے جبکہ 2025 میں 61 فیصد عوام 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کر رہے ہیں۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ اسکا مطلب ہے کہ 38 فیصد آبادی کو جابرانہ بجلی بل کی وجہ سے کھپت کم کرنی پڑی ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ اگر سولر کو شامل کر لیں تو شاید یہ 38 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ حکومتی سروے کے مطابق ملک میں پہلے ہی عوام دو وقت کی روٹی، دودھ اور دال والے ایک وقت پر آگئے ہیں گوشت تو عوام کو سونگھنے کے لئے بھی میسر نہیں ہے۔
