چترال کے معدنیات سے مالامال علاقہ ارکاری ویلی حکمرانوں اور انتظامیہ کی آنکھوں سے اوجھل ، علاقے کے مکین سڑکوں کی صفائی اپنی مدد آپ کے تحت شروع کردی
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز)چترال کا دورافتادہ اور پسماندہ مگر معدنیات سے مالامال علاقہ ارکاری ویلی ہمیشہ حکمرانوں کی نظروں سے اوجھل رہا ہے۔ سب سے زیادہ سڑکوں کی ناگفتہ بہ حالت نے اس علاقے کو مزید پسماندگی کی طرف دھکیل دیا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس علاقے میں قیمتی معدنی ذخائر موجود ہیں اور غیر مقامی لوگ ان معدنیات سے استفادہ بھی کر رہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اربوں روپے کے قیمتی پتھر انہی سڑکوں کے ذریعے بیرونِ ملک پہنچ چکے ہیں اور چند افراد ان سے خوب فائدہ بھی اٹھا رہے ہیں، تاہم مجال ہے کہ اس سڑک کی حالت پر کوئی توجہ دے۔
ارکاری ویلی کی اس سڑک کو دنیا کی خطرناک اور عجوبہ سڑک کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ اس سڑک کی مرمت اور صفائی کا کام ہمیشہ سے علاقے کے رضاکار ہی کرتے آئے ہیں۔ گزشتہ دنوں ہونے والی برف باری کے بعد بھی انہی رضاکاروں نے مذکورہ سڑک کی صفائی کا کام دوبارہ شروع کیا ہوا ہے، جسے مختلف مکاتبِ فکر نے سراہا ہے۔
ارکاری ویلی کے باسی ابتدا ہی سے اجتماعی فلاحی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے آئے ہیں۔ چاہے سڑکوں کی مرمت ہو، صفائی ستھرائی کا کام ہو یا دیگر عوامی مسائل، مقامی لوگ ہمیشہ اپنی مدد آپ کے تحت عملی اقدامات کرتے نظر آتے ہیں۔ حالیہ صفائی مہم بھی اسی تسلسل کی ایک نمایاں مثال ہے، جس میں نوجوانوں، بزرگوں اور سماجی کارکنوں نے بھرپور شرکت کی۔
علاقے کے لوگوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ آئندہ بھی اپنی مدد آپ کے تحت ایسے فلاحی کام جاری رکھیں گے اور ارکاری ویلی کو ایک صاف ستھرا، خوشحال اور مثالی علاقہ بنانے کے لیے متحد رہیں گے۔
دریں اثنا، علاقے کے بعض مکاتبِ فکر نے شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامیہ اور صوبائی حکومت کو چاہیے کہ جو کمپنیاں یا افراد اس علاقے سے معدنیات نکال رہے ہیں، انہیں کم از کم اس سڑک کی مرمت کا پابند بنایا جائے تاکہ علاقے میں رسائی آسان ہو۔ یا پھر حکومت اس علاقے سے حاصل ہونے والی معدنی آمدنی کا کچھ حصہ اس عجوبہ سڑک کی کشادگی اور مرمت پر خرچ کرے، تاکہ علاقے کے عوام کو سفری مشکلات میں کمی آ سکے۔

