پاکستان بھر میں عمران خان کی قیادت میں حقیقی آزادی کی جدوجہد پوری قوت کے ساتھ جاری ہے جس کا بنیادی مقصد آزاد میڈیا، آزاد عدلیہ اور قانون کی بالادستی کے اصولوں کا تحفظ ہے۔ وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کا کراچی کے مختلف مقامات پر عوامی اجتماع سے خطاب
کراچی ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے واضح کیا ہے کہ پاکستان بھر میں عمران خان کی قیادت میں حقیقی آزادی کی جدوجہد پوری قوت کے ساتھ جاری ہے جس کا بنیادی مقصد آزاد میڈیا، آزاد عدلیہ اور قانون کی بالادستی کے اصولوںکا تحفظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک عمران خان کی وہ دلی خواہش، جس کا مقصدملک کی خودمختاری، عوام کی خوشحالی اور آئین کی بالادستی ہے، پوری نہیں ہو جاتی، ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ اسی عزم کے تحت اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کے لیے ہر غیرت مند اور باشعور شہری تک پہنچا جائے گا اور انہیں اس جدوجہد میں شامل ہونے کی دعوت دی جائے گی، جب بھی عمران خان کال دیں گے تو عوام بھرپور ساتھ دیں گے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دورہ سندھ کے دوران ضلع جامشورو میں سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے سربراہ سید زین شاہ کی جانب سے دیے گئے استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ جامشورو آمد پر جس والہانہ محبت اور خلوص کے ساتھ ان کا استقبال کیا گیا، اس پر وہ تمام دوستوں اور کارکنان کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک خوش آئند حقیقت ہے کہ سندھ یونائیٹڈ پارٹی سندھ کے عوام اور ان کے بنیادی حقوق کی جدوجہد میں سرگرم کردار ادا کر رہی ہے، جو جمہوری اقدار کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ سندھ کی سیاسی صورتِ حال پر گفتگو کرتے ہوئے محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ آصف علی زرداری نے بینظیر بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو کی سیاست کو عملاً ختم کر دیا ہے، اور آج سندھ زرداری کے قبضے میں ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جو جماعت خود کو آئین اور اٹھارویں ترمیم کی علمبردار قرار دیتی ہے، اسی نے 26ویں اور 27ویں ترامیم کے ذریعے آئین کے بنیادی ڈھانچے میں تبدیلیاں کیں، جو جمہوری روح کے منافی ہیں۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ جناح باغ کے گیٹس پر تالے لگا دیے گئے ہیں، مگر اس کے باوجود ہم جلسہ کر کے رہیں گے اور پوری دنیا کو یہ پیغام دیں گے کہ سندھ عمران خان کا تھا اور عمران خان کا ہی رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام اب حکمرانوں کے اصل چہرے دیکھ چکے ہیں، وہ تبدیلی چاہتے ہیں اور مزید انہیں برداشت کرنے کو تیار نہیں۔ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ جو لوگ عمران خان کے نام سے خوفزدہ ہیں، وہ اس کا نام لینے سے بھی گریز کرتے ہیں اور اشاروں کنایوں میں بات کرتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر نام لینے میں کیا قباحت ہے، اور واضح کیا کہ یہی خوف اس بات کا ثبوت ہے کہ عوامی طاقت اور تبدیلی کی آواز ناقابلِ تردید ہو چکی ہے۔
قبل ازیں کراچی کے دورے کے دوران وزیرِ اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے قیوم آباد، کورنگی میں کارکنان سے خطاب اور بعد ازاں حیدرآباد روانگی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے مختلف علاقوں میں کارکنان اور عوام کی جانب سے جس والہانہ محبت اور جوش و خروش کے ساتھ استقبال کیا گیا، وہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عمران خان نہ صرف زندہ سیاسی حقیقت ہیں بلکہ آج بھی ملک کے مقبول ترین قائد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ دعویٰ کرتے تھے کہ عمران خان کا سیاسی کردار ختم ہو چکا ہے، مگر کراچی کی گلیاں، بازار اور عوامی اجتماعات اس دعوے کی کھلی تردید کر رہے ہیں۔
وزیرِ اعلیٰ نے واضح کیا کہ اتوار کے روز جناح گراو ¿نڈ میں ایک عظیم الشان عوامی جلسہ منعقد کیا جائے گا جو کراچی کی تاریخ کا ایک بڑا اجتماع ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ناحق قید کیے گئے قیدی نمبر 804 کی ایک آواز پر عوام سڑکوں پر نکلنے کے لیے تیار ہیں، کیونکہ عمران خان نے جیل سے اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کا واضح پیغام دے دیا ہے۔وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ کارکنان کے جذبے اور عوامی ردِعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ کراچی پہلے ہی اس تحریک کے لیے پوری طرح آمادہ ہے، اور یہ شہر عمران خان کا تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا۔
خطاب کے دوران محمد سہیل آفریدی نے تاریخی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ حالات بدلنے کے لیے نہ تو محمد بن قاسم اور نہ ہی طارق بن زیاد دوبارہ آئیں گے، بلکہ ہمیں خود اپنے اندر طارق بن زیاد جیسا حوصلہ اور عزم پیدا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کشتیوں کو جلانے کا مطلب یہ ہے کہ واپسی کے تمام راستے بند کر کے حق اور آئین کی بالادستی کی جدوجہد میں پوری قوت کے ساتھ آگے بڑھا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسٹریٹ موومنٹ کسی ایک شہر یا مقام تک محدود نہیں ہوگی بلکہ پورے پاکستان کے عوام کو نکلنا ہوگا اور ہر شہر کو ڈی چوک کی صورت دینا ہوگی۔

درایں اثناحیدرآباد روانگی کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ مزار قائد کے قریب جلسے کے لئے تاحال این او سی موصول نہیں ہوئی، البتہ سندھ حکومت کی جانب سے جلسے کے انعقاد کے لیے مثبت رویہ سامنے آیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اجازت ملے یا نہ ملے، جلسے کی تمام تیاریاں مکمل کی جائیں گی کیونکہ عوامی طاقت کسی این او سی کی محتاج نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم عوامی نمائندے ہیں اور جب عوام کی طرف سے محبت اور پروٹوکول ملتا ہے تو یہ ہمارے لیے باعثِ فخر ہوتا ہے۔محمد سہیل آفریدی نے پنجاب حکومت کے سابقہ رویے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ رویہ آج بھی ہمارے ذہنوں پر نقش ہے، اس کے برعکس سندھ حکومت کا طرزِ عمل اچھا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ عمران خان نے انہیں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کی ذمہ داری سونپی ہے جو جلد اپنے عروج کو پہنچے گی۔ احتجاج یا مذاکرات کے حوالے سے فیصلہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کرے گی اور جو بھی فیصلہ ہوگا، اس کی مکمل حمایت کی جائے گی۔وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے تیسری مرتبہ ان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے اور اس اعتماد کے جواب میں صوبے میں مفت ہیلتھ کوریج جیسی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ میں مقیم خیبر پختونخوا کے عوام سے ملاقاتیں کی جائیں گی، ان کے مسائل سنے جائیں گے اور ان معاملات پر وزیرِ اعلیٰ سندھ سے براہِ راست بات چیت کی جائے گی تاکہ ان کے جائز مسائل کا حل نکالا جا سکے۔

دریں اثنا وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے حیدرآباد ہائی کورٹ میں وکلاء برادری سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم ظلم کے خلاف، آزاد عدلیہ کی بحالی اور حقیقی آزادی کے لیے پوری استقامت کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری کو عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈال کر جعلی حکمرانوں کو ملک پر مسلط کیا گیا، جس سے جمہوری اقدار کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ خیبر پختونخوا واحد صوبہ ہے جہاں عوامی مینڈیٹ کی حامل حکومت قائم ہے۔وزیرِ اعلیٰ نے واضح کیا کہ ہماری جدوجہد کسی فرد یا جماعت کے مفاد کے لیے نہیں بلکہ جمہوریت کو مضبوط بنانے، آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے تحفظ کے لیے ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئین اور قانون کے تحفظ کی بنیادی داری وکلاء برادری پر عائد ہوتی ہے، اور موجودہ حالات میں یہ ذمہ داری مزید بڑھ گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ 27ویں ترمیم کے بعد متعارف کرائی جانے والی آئینی ترامیم اس سے بھی زیادہ خطرناک ہیں اور ریاستی ڈھانچے کے توازن کو متاثر کر رہی ہیں۔ محمد سہیل آفریدی نے وکلاء برادری پر زور دیا کہ وہ آئین کی مضبوطی اور عدالتی خودمختاری کے لیے منظم تحریک کا آغاز کریں، جس میں پاکستان تحریک انصاف کا ہر کارکن مکمل اور غیرمشروط حمایت فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اسٹریٹ موومنٹ میں وکلاء کا فعال اور فیصلہ کن کردار ناگزیر ہے تاکہ آئین شکن اقدامات کے سامنے مؤثر مزاحمت کی جا سکے۔ وزیرِ اعلیٰ نے حیدرآباد کی وکلاء برادری کو خیبر پختونخوا کے دورے کی دعوت دیتے ہوئے بین الصوبائی ہم آہنگی اور آئینی جدوجہد میں باہمی تعاون پر زور دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کے پانی کے مسئلے پر پاکستان تحریک انصاف ہمیشہ فرنٹ فٹ پر سندھ کے عوام کے ساتھ کھڑی رہی ہے اور آئندہ بھی صوبوں کے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔

