محکمہ ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ کا پشاور میں، الیکٹرک رکشے چلانے کے منصوبے پر غور
پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی ہدایات پر صوبائی دارالحکومت پشاور میں جدید، ماحول دوست اور پائیدار ٹرانسپورٹ نظام کے فروغ کے لیے 10 ہزار الیکٹرک رکشوں (E-Rickshaws) کے تعارف سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت سیکرٹری ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ ڈیپارٹمنٹ خیبر پختونخوا نے کی۔اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی، منیجنگ ڈائریکٹر خیبر پختونخوا اربن موبیلٹی اتھارٹی، چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹرانس پشاور اور بینک آف خیبر کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں پشاور شہر میں الیکٹرک رکشوں کے مرحلہ وار تعارف، مالی معاونت، تکنیکی پہلوؤں، آپریشنل فریم ورک، روزگار کے مواقع اور ماحولیاتی اثرات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا وژن ہے کہ صوبے میں جدید، کم لاگت اور ماحول دوست سفری سہولیات فراہم کی جائیں، تاکہ نہ صرف شہریوں کو بہتر آمدورفت میسر آ سکے بلکہ فضائی آلودگی میں نمایاں کمی بھی لائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ الیکٹرک رکشوں کا منصوبہ پشاور کے ٹرانسپورٹ نظام میں ایک انقلابی قدم ثابت ہو سکتاہے، جو پائیدار ترقی اور گرین ٹرانسپورٹ کے صوبائی اہداف سے ہم آہنگ ہے۔سیکرٹری ٹرانسپورٹ نے مزید کہا کہ پشاور میں روزانہ لاکھوں شہری سفری سہولیات استعمال کرتے ہیں، جہاں ایندھن سے چلنے والی گاڑیوں کے باعث فضائی آلودگی، شور اور ایندھن کے اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الیکٹرک رکشوں کے تعارف سے نہ صرف ایندھن پر انحصار کم ہوگا بلکہ غریب اور متوسط طبقے کے لیے سفری اخراجات میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔
اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے ڈی جی سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی نے بتایا کہ الیکٹرک رکشوں کے لیے جدید بیٹری ٹیکنالوجی، اسمارٹ مانیٹرنگ سسٹمز اور ڈیجیٹل رجسٹریشن کا نظام متعارف کرایا جائے گا، تاکہ گاڑیوں کی کارکردگی، چارجنگ اسٹیٹس اور روٹ آپریشنز کو مؤثر انداز میں مانیٹر کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں جدید آئی ٹی سلوشنز شامل کر کے شفافیت اور کارکردگی کو یقینی بنایا جائے گا۔منیجنگ ڈائریکٹر کے پی اربن موبیلٹی اتھارٹی نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ الیکٹرک رکشوں کو شہری ٹرانسپورٹ کے مجموعی نظام سے مربوط کیا جائے گا، تاکہ بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) اور دیگر سفری ذرائع کے ساتھ مربوط نیٹ ورک تشکیل دیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے پشاور میں“لاسٹ مائل کنیکٹیوٹی”کے مسئلے کو حل کرنے میں مدد کے ساتھ شہریوں کو گھر سے اپنی منزل تک بہتر سفری سہولت فراہم ہو سکے گی۔سی ای او ٹرانس پشاور نے اجلاس میں بتایا کہ الیکٹرک رکشوں کو بی آر ٹی روٹس اور فیڈر سروسز کے ساتھ ہم آہنگ کر کے شہری ٹریفک کے دباؤ کو کم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانس پشاور اس منصوبے میں تکنیکی معاونت، روٹ پلاننگ اور آپریشنل مینجمنٹ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
سیکرٹری ٹرانسپورٹ نے اجلاس کے اختتام پر کہا کہ یہ منصوبہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے عوام دوست اور ماحول دوست اقدامات کا تسلسل ہے، جس کا مقصد شہریوں کو بہتر سفری سہولیات فراہم کرنا، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا اور صوبے کو گرین انرجی کی جانب گامزن کرنا ہے۔ انہوں نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ باہمی تعاون سے منصوبے کو جلد از جلد عملی شکل دینے کے لیے واضح لائحہ عمل تیار کریں۔
