وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی نے سی آئی ٹی ای ایس مینجمنٹ اتھارٹی کے ذریعے 2025–26 کے لئے ٹرافی ہنٹنگ کوٹہ کی منظوری دے دی
اسلام آباد( نمائندہ چترال ٹائمز)وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی نے پاکستان کی سی آئی ٹی ای ایس مینجمنٹ اتھارٹی کے ذریعے 2025–26 کے لئے ٹرافی ہنٹنگ کوٹہ کی منظوری دے دی ہے، یہ فیصلہ مستند آبادیاتی سرویز اور سائنسی شواہد کی بنیاد پر کیا گیا ہے جو پاکستان میں شفاف اور شواہد پر مبنی وائلڈ لائف گورننس کی جانب ایک اہم پیشرفت ہے۔پیر کو وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی سے جاری بیان کے مطابق پاکستان حیاتیاتی تنوع کے کنونشن اور جنگلی حیات و نباتات کی بقا ء کے خطرے سے دوچار اقسام کی بین الاقوامی تجارت بارے کنونشن (سی ائی ٹی ای ایس) کا دستخط کنندہ ہے اور پائیدار اور سائنسی بنیادوں پر مبنی تحفظِ فطرت کے طریقہ کار کے ذریعے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی مکمل پاسداری کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔
2025–26 کے لئے منظور شدہ ٹرافی ہنٹنگ کوٹہ جن اقسام کے لئے مختص کیا گیا ہے ان میں مارخور، ہمالیان ابیکس، سندھ آئی بیکس، بلینڈفورڈ یوریئل، پنجاب یوریئل، بلو شیپ اور کینیون گزیلی شامل ہیں،یہ کوٹے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ پائیدار استعمال کے اصولوں کے مطابق ہیں اور صوبائی وائلڈ لائف محکموں کی جانب سے فراہم کردہ آبادیاتی اعداد و شمار کے محتاط جائزے پر مبنی ہیں۔وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق مسعود ملک کی قیادت میں وزارت نے کوٹہ الاٹمنٹ کے عمل کو مزید مؤثر اور منظم بنایا ہے تاکہ شفافیت، جوابدہی اور شواہد پر مبنی فیصلہ سازی کو فروغ دیا جا سکے اور تحفظِ فطرت سے متعلق فیصلے انتظامی روایت کی بجائے مستند سائنسی معلومات کی بنیاد پر کئے جائیں۔
وزارت ملک بھر میں وائلڈ لائف سروے کے طریقہ کار کو مضبوط اور معیاری بنانے کے لئے بھی کوشاں ہے تاکہ آبادی سے متعلق زیادہ مستحکم اور قابلِ اعتماد اعداد و شمار حاصل کئے جا سکیں، ان اقدامات کا مقصد جنگلی حیات کے تحفظ کے بہتر نتائج کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی کو بھی فائدہ پہنچانا ہے جہاں کمیونٹی بیسڈ کنزرویشن کو پاکستان کے وائلڈ لائف مینجمنٹ فریم ورک کا اہم ستون قرار دیا گیا ہے۔یہ اقدام پائیدار وائلڈ لائف استعمال، بین الاقوامی تحفظِ فطرت کے تقاضوں کی پاسداری اور ایسے جامع تحفظی ماڈلز کے لئے پاکستان کے عزم کی عکاسی کرتا ہے جو ماحولیاتی توازن اور سماجی و معاشی فوائد کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرتے ہیں۔

