سفید بھیڑئیے ۔ تحریر: سلمان ہاشمی
سیکیورٹی والی دو گاڑیاں انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ سائرن بجاتے ہوئیں سڑک کے بیچ سے جا رہی تھیں اور باقی راہ چلنے والی مسافروں کی گاڑیاں سڑک کے کنارے ہوتی۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے بہت بڑا کوئی واقعہ پیش آیا ہے یا آنے والا ہے ۔ جس کی ایک وجہ تو تیز رفتاری اور دوسری وجہ جدید اسلحوں سے لیس ، بلیٹ پروف جیکٹ زیب تن کیے سیکیورٹی کے نوجوان تھے جن کو دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا جیسے وُہ اپنی پوری آب و تاب اور جوش و جذبے سے دشمن پر وار کرنے جا رہے ہو۔ کیوں کہ بندوق کی نالیاں گاڑیوں کی چھتوں سے سورج کی روشنی پڑنے سے چمک رہی تھیں۔ جن کی نظریں ان پر پڑتی سب اپنے زاویۂ نگاہ سے ان پر اظہار خیال کرتے تھے۔
چند گھنٹے بعد وہی گاڑیاں پھر اُسی انداز میں نمودار ہوئیں البتہ واپسی کے وقت فرق یہ تھا کہ ان گاڑیوں کے بیچ ایک اور کالی شیشوں والی نہاعت عمدہ گاڑی تھی جو دیکھنے سے کسی سرکاری محکمے کی نہیں بل کہ کسی امیر زادے کی ذاتی گاڑی لگ رہی تھی۔ گاڑی اپنی نوعیت سے ذاتی تھی لیکن رعب اور دبدبے سے سرکاری ۔ کسی نے اُس گاڑی کی طرف دھیان ہی نہیں دیا جس کی وجہ یہ تھی کہ عام لوگ تو زندگی کی پیچیدگیوں میں الجھے اور قانون نافذ کرنے والے اُن غنڈوں کی گاڑیوں سے کالے شیشے اتارنے میں مصروف تھے جو صبح اُٹھ کر رزق کی تلاش میں سواریاں لے کر جا رہے تھے۔
اس کے پہنچتے ہی چند سرکاری افسراں جو عہدے اور عمر میں ان سے بڑے لیکن امارت میں چھوٹے تھے ان کی خدمت میں سلامی پیش کرنے اپنے سیکیورٹی اہل کاروں کو لے کر حاضر ہوئیں۔جو ان کی زبان میں ان سے باتیں کرنے پر فخر تو محسوس کرتے تھے لیکن باتیں نہیں کر سکتے تھے کیوں کہ وہ غیر ملکی تھا البتہ یہاں وُہ افسر ڈیوٹی پر لگایا گیا۔ جو غیر ملکی زبان کی شدھ بدھ رکھتا تھا، اور اسے اپنی خوش قسمتی بھی سمجھتا اور اس گورے سے باتیں کرتے ہوۓ اپنے دوسرے ساتھیوں کی طرف داد طلب نظروں سے بھی دیکھتا تھا ۔ اور ان کو بھی ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ کسی بڑی سعادت سے محروم ہو گئے ہیں ۔ یہ معما بھی اب واضح ہوا کہ وہ ملکی امیر زادوں سے بھی بڑھ کہ تھا جس کی عزت افزائی ذات سے بڑھ کرہو رہی تھی ۔ سب کی یہ خواہش تھی کہ کاش ان کی ڈیوٹی اس کے ساتھ لگتی۔ آخر کار اس خیال اور کشمکش سے بھی جوان نکل آئیں ۔ جن کی ڈیوٹی لگی وہ احساس برتری اور جو محروم رہے وہ احساس محرومی میں یوں چلے گئے جیسے کسی نعمتِ عظمیٰ سے محروم ہو گئے ہو البتہ چند جہاں دیدہ اور تجربہ کار افسراں ایسے بھی نظر آئیں جنہوں نے اس سے کنارہ کشی کو ہی غنیمت سمجھا ۔
اگلے روز علی الصبح سیکیورٹی کے جوان اپنی نیند پوری کیے بغیر جاگ کر بغیر ناشتے کے ڈیوٹی پر جا پہنچے جنہیں آج شاہی ڈیوٹی سونپی گئی تھی۔ میکلن بھی غیر ملکی لیکن اپنے قومی آدھے لباس میں ایک نہایت ہی جدید ہتھیار ہاتھ میں لیے وارد ہوا جس کے اوپر ایسا دور بین لگا تھا جو دور سے بھی سوئی کو ستون کی مانند دکھاتا تھا۔ اس بندوق کی نالی بھی کافی لمبی تھی جو آواز کو اپنے اندر حذف کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا۔ اب کے بار جب وُہ گاڑی میں سوار ہوا تو سیکیورٹی والوں کے ساتھ جنگلی حیات کے محافظ بھی ساتھ ہو لیے۔ ان کے جانے کا مقصد عوام کو اس راہ میں حائل ہونے سے روکنا تھا کیوں کہ یہ جو کام کرنے جا رہا تھا عوام الناس کے لیے بہت بھاری سزا اور غیر ملکیوں کے لیے فخر کی علامت تھی۔
گاڑیوں کا رخ اس جگہ کی طرف کی گئی جہاں انسان نہ ہونے کے باعث فطرت سانس لے رہی تھی ، جہاں حرص و لالچ اس لیے نہیں تھی کیوں کہ وہاں جانور رہتے تھے، جہاں شور و غوغہ اس لیے نہیں تھا کیوں کہ وہاں پرندے چہچہا رہے تھے۔ لیکن آج خدا جانے وہاں بھی ایسا ماحول بنا تھا جیسے انسانوں کی بستی کا ہو۔ ہر طرف ہو کا عالم تھا۔ پرندے اور دوسرے جنگلی حیات اپنی جان بچانے اور انسانوں کی شر سے بچنے کے لیےنقل مکانی کر گئے تھے۔ آج پرندوں کی چہچہاہٹ ڈالروں کی کھنکھناہٹ میں بدل گئی تھی ۔ جس کو سننے کے لیے سینکڑوں عہدیداروں کی کانیں ترس رہی تھی۔
پایاںِ کار وُہ بے بس جانور نظر آیا جس کو ہمارا قومی نام دیا گیا ہے۔ جو کئی سالوں سے اس خیالِ خام میں جی رہا تھا کہ جنگل کی خوبصورتی اور حفاظت کی وجہ وہی ہے ۔ لیکن آج اس کے محافظ خود اس کو بھیڑیوں سے بچا کر انسان کے حوالے کرنے جا رہے تھے۔ میکلن نے اس کو دیکھ کر ایک فخریہ مسکراہٹ چہرے پر سجایا لیکن کچھ کو یہ طنزیہ مسکراہٹ لگا جس کی وجہ یہ تھی کہ وُہ ڈالروں کے عوض قومی شناخت کو ٹھکانے لگانے جا رہا تھا۔ جس کے اردگرد محافظوں اور علاقے کے لوگوں کا ایک گروہ تھا جو ان کی بہادری اور اپنی حرص کا پیمانہ ناپنے آۓ تھے۔ ہر ایک اپنی طرف سے کارگر نسخہ پیش کر رہا تھا سب بے تاب تھے سب بے چین تھے اور اپنی نظریں اس خیال سے گورے پر لگاۓ کھڑے تھے کہ کب وُہ ان کی قومی نشانی کو خون میں لت پت کرے اور ان کو ڈالروں کی خوشبو سونگھاۓ۔ اسی دوران میکلن نے پوری توجہ سے اس کو نشانہ بنایا۔ جس کی وجہ سے وہ بھاگنے کی ناکام کوشش کر کے زمین پر گر پڑا۔ وہ پتھروں کے اوپر سے گرتا ہوا خون میں لت پت انتہائی دردناک آواز نکالے نیچے کی طرف گر رہا تھا اور لوگ تالیاں بجا بجا کر میلکلن کو داد دے رہے تھے ۔ لیکن دور سے اپنی ریوڑ سے جدا ہونے کے باعث جنگلی بکری کا بچہ اُن کی طرف دیکھ رہا تھا ۔ جو اپنی کم عمری کے باعث انسانوں سے بچ نکلا تھا۔ اسے بھی اپنی قسمت کے مکلن کا انتظار تھا شاید ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سب نے اپنی طرف سے مکلن کو داد دی اور باری باری اس کے اور اپنے مٹتے قومی نشان کے ساتھ تصویریں کھینچی۔ اب وہ سب اس جانور کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا انتظار کر رہے تھے کیوں کہ اس میں سب کے سب شریک تھے اور سب اپنا حصّہ مانگ رہے تھے کوئی اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کی کوشش میں تھا، کسی کو اپنی جیب گرم کرنے کی فکر تھی اور کوئی ایک سچے فاتح کی طرح سینہ تان کر اس بے سدھ پڑے قومی نشان کو مثا کر جشن منا رہا تھا۔ آخر کار میکلن کے شکار کردہ مظلوم جانور کا گوشت حاضرین میں بانٹ دی گئیں ۔ سب میکلن کی تعریفیں بیان کر رہے تھے ۔ وُہ خود بھی رخصت ہوا ایسا رخصت ہوا کہ پیچھے مڑ کر بھی نہیں دیکھا نا ہی اس نے شکار کا گوشت کھایا اور نہ کھال اور سینگوں کو توجہ دی اس سے یہ اندازہ لگ رہا تھا کہ وہ صرف اپنی خواہش کی تکمیل کے لیے ایک مظلوم اور بے زبان جانور کو اتنی بے دردی سے مار رہا تھا یا ہمیں ہماری بے بسی اور بھوک کی یاد دلانے آیا تھا۔
اگلی صبح کچھ لوگ آپس میں میکلن کی باتیں کر رہے تھے جو صرف عقل رکھتے تھے وٌہ ان کی حمایت اور جو عقل کے ساتھ دل بھی رکھتے تھے وُہ اس کی مخالفت کر رہے تھے۔ اتنے میں پھر سیکیورٹی کی دو گاڑیاں سائرن بجاتے ہوۓ انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ روانہ ہوئیں شاید کسی دوسرے میکلن کی آمد تھی۔
