وفاقی وزیر برائے مواصلات عبدالعلیم، چیئرمین وزیراعظم انسپیکشن کمیشن مظفرعلی رانجھا، چیئرمین این ایچ اے اور سیکرٹری مواصلات آئندہ ہفتے چترال کا دورہ کریںگے، عبدالولی خان ایڈوکیٹ
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) وزیر اعظم پاکستان میان شہباز شریف کے حالیہ دورۂ چترال کے بعد خطے میں خوشحالی لانے کے لیے متعدد ترقیاتی منصوبوں پر عملی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔پاکستان مسلم لیگ لوئیر چترال کے صدر اور وزیراعظم معائنہ کمیشن کے کوارڈنیٹر عبد الولی خان ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کی ہدایات کے مطابق وزیر اعظم انسپیکشن ٹیم جس میں وائس چیئرمین مرزا عرفان بیگ، ڈپٹی ڈائریکٹر قیس الرحمٰن اور این ایچ اے نارتھ کے نمائندگان شامل تھے، نے چترال۔بونی ، مستوج شندور روڈ کا دورہ کیا۔ ٹیم نے ٹھیکیدار سے ملاقات کر کے کلورٹس، پلوں اور ریٹیننگ والز کی تعمیر کے حوالے سے تفصیلی رہنمائی فراہم کی۔ اس موقع پر انسپیکشن کمیشن نے اعلیٰ معیار برقرار رکھنے اور کام کی رفتار تیز کرنے پر زور دیا۔
رپورٹ کے مطابق دسمبر تک چترال تا بونی سڑک کی اسفالٹ کاری مکمل ہو جائے گی جبکہ چھ نئے پلوں کی تعمیر مختلف مقامات پر عمل میں لائی جائے گی۔
اسی ٹیم نے آج ایون۔بمبوریت روڈ کا بھی معائنہ کیا۔ اس موقع پر عبدالرزاق کی رابطہ کاری سے کالاش کمیونٹی کے نمائندوں کے ساتھ ملاقات ہوئی اور کالاش روڈ کے معائنے میں بھی شرکت کی گئی۔ بعد ازاں ڈپٹی کمشنر آفس چترال میں بریگیڈیئر رانجھا کے ساتھ ایک ویڈیو کانفرنس منعقد ہوئی جس میں چترال مین روڈ سے ایون چیک پوسٹ تک اسفالٹ کاری کو مقررہ وقت میں مکمل کرنے کے لیے احکامات جاری کیے گئے۔
مزید برآں، آئندہ بدھ کے روز وفاقی وزیر برائے مواصلات عبدالعلیم، چیئرمین وزیر اعظم انسپیکشن کمیشن مظفر علی رانجھا، چیئرمین این ایچ اے اور سیکرٹری مواصلات چترال کا دورہ کریں گے تاکہ وزیر اعظم کی ہدایات کے مطابق جاری ترقیاتی کاموں کا جائزہ لے سکیں اور ان کے معیار و رفتار کو یقینی بنایا جا سکے۔
چترال کی عوام کی جانب سے چیئرمین وزیر اعظم انسپیکشن کمیشن مظفر علی رانجھا اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کیا گیا جنہوں نے لواری اپروچ روڈ منصوبے کی کامیاب تکمیل میں اہم کردار ادا کیا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ چترال۔گرم چشمہ روڈ، تورکہو روڈ اور بروغل روڈ کے معاملات بھی متعلقہ وزراء کے سامنے پیش کیے جائیں گے تاکہ ان پر فوری توجہ دی جا سکے۔
آخر میں ڈپٹی کمشنر لوئر چترال راؤ ہاشم عظیم کے کردار اور خدمات کو خصوصی طور پر سراہا گیا جن کی بدولت ترقیاتی منصوبوں کی رفتار میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
ان جاری منصوبوں کے نتیجے میں چترال ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہے، اور ضروری ہے کہ تمام فریقین باہمی تعاون اور ہم آہنگی سے خطے کے بہتر مستقبل کے لیے مل کر کام کریں۔

