خواتین کے حق میں بڑا فیصلہ، زچگی کی چھٹی کے دوران خاتون کو نوکری سے نکالنا صنفی امتیاز قرار
اسلام آباد( چترال ٹائمزرپورٹ)وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسانی نے خواتین کے حق میں بڑا فیصلہ سناتے ہوئے زچگی کی چھٹی کے دوران خاتون کو نوکری سے نکالنا صنفی امتیاز قرار دے دیا۔فوسپا نے زچگی کی چھٹی کے دوران خاتون کو نوکری سے نکالنے پرنجی کمپنی پر 10 لاکھ روپے جرمانہ عائد کردیا۔وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسانی فوزیہ وقار نے زینب زہر اعوان کی درخواست پر فیصلہ سنا دیا۔فوسپا نے نجی کمپنی کو ہدایت دی کہ وہ 8 لاکھ روپے متاثرہ خاتون کو معاوضے کے طور پر ادا کرے، 2 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کرائیں جائیں۔فوسپا نے اپنے فیصلے میں کہا کہ برطرفی کا حکم کالعدم قرار دے کر زینب زہرہ کو ان کی ملازمت میں بحال کر دیا گیا۔وفاقی محتسب فوزیہ وقار نے کہا کہ ماں بننا کسی عورت کے کیریئر کے لیے رکاوٹ نہیں ہونا چاہیے، زچگی کے دوران نوکری کا تحفظ خواتین کا بنیادی حق ہے، محفوظ زچگی ہر عورت کا بنیادی حق ہے۔زینب زہرہ اعوان کو زچگی کی چھٹی کے دوران ملازمت سے برخاست کردیا گیا تھا۔
………………
فیصل مسجد میں نامناسب لباس میں داخلے اور ویڈیوز بنانے پر پابندی کی درخواست پر نوٹسز جاری
اسلام آباد(سی ایم لنکس)فیصل مسجد میں نامناسب لباس میں داخلے اور ویڈیوز بنانے پر پابندی کی درخواست پر ہائی کورٹ نے نوٹسز جاری کردیے۔ عدالت عالیہ نے انچارج فیصل مسجد، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد، چیئرمین سی ڈی اے اور وزارت مذہبی امور کو بھی نوٹس جاری کیے ہیں۔ علاوہ ازیں صدر انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی، آئی جی پولیس اسلام آباد اور اسٹیٹ کو بھی نوٹس جاری کرکے جواب طلب کیے گئے ہیں۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے ایک شہری مشرف زین کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے نوٹس جاری کیے۔ دوران سماعت درخواست گزار اپنے وکیل کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔عدالت نے استفسار کیا کہ ہم اس حوالے سے کس کو ڈائریکشن دیں؟، جس پر وکیل نے جواب دیا کہ انچارج فیصل مسجد سمیت دیگر کو فریق بنایا ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز سے مشاہدے میں آیا کہ کچھ لوگ مسجد کے احاطے میں غیر شائستہ وڈیوز بناتے ہیں۔ موسیقی اور رقص کے ساتھ بنائی گئی وڈیوز سے مسجد کی حرمت اور وقار مجروح ہوتا ہے۔درخواست گزار کے مطابق مسجد کے احاطے میں نیم عریاں لباس کے ساتھ بنائی گئی ویڈیوز مسجد کے تقدس کے خلاف ہیں۔ مسجد کی بے حرمتی آئین کے آرٹیکل 20 کے تحت مذہبی آزادی کے حق کی خلاف ورزی ہے۔ مسجد کے انچارج، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور چیئرمین سی ڈی اے کو تحریری شکایات بھجوائیں، کوئی کاروائی نہیں ہوئی۔عدالت میں دائر درخواست میں بتایا گیا ہے کہ وزیر مذہبی امور، صدر انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اور آئی جی اسلام آباد کو بھی تحریری شکایات بھجوائی جا چکی ہیں۔ عدالت سے استدعا ہے کہ فحش یا نامناسب لباس میں مسجد میں داخلے اور رقص و موسیقی کے ساتھ وڈیوز بنانے پر پابندی عائد کی جائے۔
