غزہ کی استقامت – ایمان کی معراج اور فتح کی بنیاد – تحریر:ثناءاللہ مجیدی
دنیا کے شور و شر، سیاست کے فریب، اور میڈیا کے مکر سے اٹھتی اس فضا میں، اب شاید ’’استقامت‘‘ جیسے الفاظ اجنبی ہو چکے ہیں۔ آج کے دور میں نظریاتی پختگی ایک نایاب خوبی بن چکی ہے۔ یہ وہ زمانہ ہے جہاں نظریہ کمزور اور مفاد مضبوط ہے، جہاں ایمان وقتی نفع کے آگے بک جاتا ہے، اور جہاں اصول اکثر ذاتی فائدے کی قربان گاہ پر قربان کر دیے جاتے ہیں۔
ایسے ماحول میں اگر کوئی قوم اپنے نظریے پر ڈٹی رہے، تو یہ محض واقعہ نہیں، بلکہ ایمان کا معجزہ ہوتا ہے۔ اور یہ معجزہ آج غزہ کی مٹی میں رونما ہوا ہے وہ سرزمین جسے دنیا ایک محصور علاقہ سمجھتی رہی ہے، مگر حقیقت میں وہ ایمان و استقامت کا قلعہ ہے۔
گزشتہ دو برس سے غزہ کے افق پر بمباری کے طوفان اترے، مائیں بیٹے دفناتی رہیں بچے لاشوں کے درمیان کلمہ پڑھتے رہے گھروں کی اینٹیں اڑ گئیں بازار اجڑ گئے، مگر اہلِ غزہ کے دلوں سے یقین نہیں ٹوٹا۔انہوں نے دنیا کو یاد دلایا کہ طاقت بندوق میں نہیں یقین اور استقامت میں ہوتی ہے۔اصل قوت ٹیکنالوجی نہیں توحید ہے۔اور فتح کسی سیاسی میز پر نہیں، بلکہ حق پر ڈٹے رہنے میں ہے۔یہ وہ استقامت ہے جس نے ابراہیمؑ کو آگ میں ثابت قدم رکھا، موسیٰؑ کو فرعون کے سامنے بیخوف کھڑا کیا، اور نبیِ کریم ﷺ کو مکہ کے طوفان میں عزم سے بھرپور رکھا۔آج یہی استقامت اہلِ غزہ کے چہروں پر چمک بن کر ظاہر ہو رہی ہے۔اہلِ غزہ نے دنیا کو یاد دلایا کہ قوت کی بنیاد بندوق نہیں، یقین اور استقامت ہے۔طاقت کا سرچشمہ ٹیکنالوجی نہیں، توحید ہے۔اور اصل کامیابی کسی سیاسی معاہدے میں نہیں، بلکہ حق پر ڈٹے رہنے میں ہے۔”استقامت” یہ وہ لفظ ہے جو ظاہراً چھوٹا مگر معنویت میں پہاڑ ہے۔
دنیا جب ظلم کی انتہا پر پہنچ جاتی ہے تو اللہ ایسے لوگوں کو پیدا کرتا ہے جو امت کے ایمان کو جگا دیتے ہیں۔غزہ کے مرد و زن، بچے اور بوڑھے سب اس استقامت کے جیتے جاگتے استعارے ہیں۔ان کے لیے کامیابی کا مطلب یہ نہیں کہ دشمن پیچھے ہٹ جائے
بلکہ یہ کہ ایمان ایک لمحے لئے بھی کمزور نہ ہو۔
یہ وہ کامیابی ہے جس کا صلہ دنیا نہیں، عرشِ الٰہی دیتا ہے۔استقامت کا مفہوم سمجھنا ہر مؤمن کے لیے لازم ہے، کیونکہ یہ صرف جدوجہد کا نہیں، بلکہ یقین کے تسلسل کا نام ہے۔یہ وہ درخت ہے جس کی جڑیں زمین میں اور شاخیں آسمان میں ہوتی ہیں۔
طوفان آتے ہیں، پتے جھڑتے ہیں، مگر جڑیں باقی رہتی ہیں اور یہی اہلِ ایمان کی پہچان ہے۔
غزہ کے شہید بچوں کی مسکراہٹ، ان کی ماؤں کے آنسو، ان کے عظیم آباء و امہات کی خاموش دعائیں یہ سب دراصل استقامت کے مظاہر ہیں۔وہ دنیا کو بتا رہے ہیں کہ ایمان صرف عبادت کا نام نہیں بلکہ جدوجہد کا دوسرا نام ہے۔وہ جانتے ہیں کہ شاید وہ دنیاوی لحاظ سے تنہا ہیں مگر ان کے ساتھ وہ رب ہے جس نے وعدہ کیا:“إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا، تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ”(بے شک جو لوگ کہتے ہیں ہمارا رب اللہ ہے، پھر اس پر ثابت قدم رہتے ہیں، ان پر فرشتے اترتے ہیں۔)استقامت صرف محاذِ جنگ کی ضرورت نہیں، یہ زندگی کے ہر میدان کی بنیاد ہے۔یہی وہ صفت ہے جو انسان کو خوابوں سے حقیقت تک لے جاتی ہے۔
دنیا میں ہر بڑی تبدیلی کا آغاز انہی دلوں سے ہوتا ہے جو ڈگمگاتے نہیں۔اہلِ غزہ کی استقامت نے ثابت کیا کہ اگر نظریہ سچا ہو تو چھوٹی قومیں بھی تاریخ بدل سکتی ہیں۔انہوں نے دنیا کے اربوں انسانوں کو دکھا دیا کہ عزت اس قوم کی ہے جو ظلم کے مقابلے میں سر جھکاتی نہیں، بلکہ سینہ تان کر کھڑی رہتی ہے
بدقسمتی سے، آج امتِ مسلمہ کے بیشتر افراد نے استقامت کو نعرے تک محدود کر دیا ہے۔
ہم ایمان کے دعوے کرتے ہیں مگر مفاد کے وقت پسپا ہو جاتے ہیں۔ہم حق کی بات کرتے ہیں مگر دباؤ کے وقت خاموش ہو جاتے ہیں۔ہماری زبانوں پر اسلام ہے، مگر ہمارے فیصلوں میں دنیا۔یہی کمزوری ہے جو ہمیں غلام رکھے ہوئے ہے۔اگر ہم واقعی اہلِ غزہ سے کچھ سیکھنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اپنے اندر فکری استقامت پیدا کرنی ہوگی۔ہمیں اپنی سوچ کو مستحکم کرنا ہوگا۔
ہمیں اپنے اہل وعیال، اپنی محفلوں مجالس اور اپنے بچوں میں ایمان و استقامت کا چراغ روشن کرنا ہوگا۔
کیونکہ جب تک نظریہ مضبوط نہیں ہوتا، عمل کی بنیاد نہیں بنتی۔استقامت کا آغاز الفاظ سے نہیں، کردار سے ہوتا ہے۔یہ وہ روشنی ہے جو اندھیروں میں بھی راہ دکھاتی ہے۔یہ وہ آگ ہے جو کمزور دل کو فولاد بناتی ہے۔یہ وہ یقین ہے جو انسان کو دنیا کی نظروں میں شکستہ، مگر خدا کے نزدیک کامیاب بنا دیتا ہے۔
آج اگر ہم اپنے گھروں، اداروں اور قوم میں تبدیلی چاہتے ہیں تو ہمیں غزہ کے لوگوں کی طرح خلوصِ نیت سے ڈٹنا ہوگا۔ہمیں اپنی زبان سے زیادہ اپنے کردار کو بولنے دینا ہوگا۔ہمیں اپنے نظریے کو وقت، خوف یا دباؤ کے تابع نہیں کرنا۔کیونکہ جو قوم اپنی فکری سمت کھو دیتی ہے،وہ تلواریں ہونے کے باوجود شکست کھا جاتی ہے۔اہلِ غزہ نے ہمیں یاد دلایا ہے کہ استقامت یہ مؤمن کا سب سے بڑا ہتھیار ہے یہ وہ قوت ہے جو غلام کو قائد، کمزور کو فاتح، اور عام انسان کو تاریخ کا عنوان بنا دیتی ہے۔آج اگر ہم چاہتے ہیں کہ امت پھر سے سر اُٹھائے،تو ہمیں استقامت کو دوبارہ اپنی رگوں میں دوڑانا ہوگا۔غزہ کی گلیوں میں بہنے والا خون دراصل ایمان کی روشنائی ہے۔یہ وہ سرزمین ہے جہاں ویرانے اذان بن جاتے ہیں، اور ملبہ ایمان کی علامت۔یہاں بھوک عبادت ہے، صبر ہتھیار ہے، اور استقامت عبادتِ کبریٰ۔دو سالہ جدوجہد نے یہ سچ واضح کر دیا ہے کہ طاقت کا توازن ہتھیاروں سے نہیں، عزم سے قائم ہوتا ہے۔
غزہ کے لوگوں نے دنیا کو بتایا کہ جب دل اللہ پر ٹک جائے، تو دنیا کی کوئی طاقت سر نہیں جھکا سکتی۔
مذاکرات کی جانب اسرائیل کا جھکاؤ دراصل غزہ کے ایمان کے سامنے شکست کا اعتراف ہے۔یہ تاریخ کا وہ لمحہ ہے جب ظالم نے محسوس کیا کہ جنگ بندوق سے نہیں، ضمیر سے ہاری جاتی ہے۔غزہ ہمیں آئینہ دکھا رہا ہے کہ اگر دنیا میں کوئی قوت ہے جو قوموں کو زندہ رکھ سکتی ہے، تو وہ استقامت ہے۔اگر کوئی ہتھیار ہے جو ظلم کو مٹا سکتا ہے، تو وہ یقینِ کامل ہے۔
اور اگر کوئی راستہ ہے جو فتح کی طرف لے جاتا ہے، تو وہ ایمان پر ڈٹے رہنے کا راستہ ہے۔آج امت کے ہر فرد کو اپنے دل میں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم حالات کے جبر سے نہیں، ایمان کی قوت سے جئیں گے۔ہم مصلحتوں کے نہیں، اصولوں کے پیروکار بنیں گے۔اور ہم غزہ کے پیغام کو اپنی رگوں میں دوڑائیں گے کیونکہ جو قوم استقامت کو اپنا شعار بنا لے، اسے مٹایا جا سکتا ہے مگر ہرایا نہیں جا سکتاہے۔۔حبیب جالب:
ظلمت کو ضیاء، صرصر کو صبا، بندے کو خدا کیا لکھنا
ہم نے تو دل جلائے ہیں، ہم کو وفا کیا لکھنا