مشتاق احمد اس-رائیلی حراست میں محفوظ اور خیریت سے ہیں، دفتر خارجہ کی تصدیق
اسلام آباد(چترال ٹائمزرپورٹ )دفتر خارجہ نے اس-رائیلی قابض افواج کے ہاتھوں غیر قانونی طور پر حراست میں لیے گئے پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان سمیت دیگر پاکستانیوں کی واپسی سے متعلق بیان جاری کیا ہے۔صمود فلوٹیلا میں سوار پاکستانی شہریوں سے متعلق ترجمان دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں بتایا کہ ایک دوست یورپی ملک کے سفارتی ذرائع کے ذریعے ہم نے تصدیق کی ہے کہ سابق سینیٹر مشتاق احمد اسرائیلی قابض افواج کی تحویل میں محفوظ اور خیریت سے ہیں۔ہمیں مزید آگاہ کیا گیا ہے کہ مقامی قانونی طریقہ کار کے تحت سینیٹر مشتاق احمد کو عدالت میں پیش کیا جائے گا اور جب ملک بدری کے احکامات جاری ہوں گے تو ان کی واپسی کو فوری بنیادوں پر یقینی بنایا جائے گا۔
ترجمان کے مطابق پاکستان اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ فعال طور پر رابطے میں ہے تاکہ اسرائیلی قابض افواج کے ہاتھوں غیر قانونی طور پر حراست میں لیے گئے اپنے شہریوں کی سلامتی اور فوری واپسی کو یقینی بنایا جا سکے۔وزارت خارجہ پہلے ہی اْن افراد کی بحفاظت واپسی کے لیے اقدامات کر چکی ہے جنہوں نے پہلے مرحلے میں فلوٹیلا سے علیحدگی اختیار کی تھی۔ اس سلسلے میں ہم اْن برادر ممالک کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے ہمارے شہریوں کی واپسی میں مدد فراہم کی۔حکومت پاکستان بیرونِ ملک اپنے تمام شہریوں کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور توقع کی جاتی ہے کہ آئندہ چند دنوں میں واپسی کا یہ عمل مکمل ہو جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حماس کی غزہ کا انتظام عبوری فلسطینی انتظامیہ کے سپرد کرنے پر آمادگی، پاکستان کا خیر مقدم
اسلام آباد(سی ایم لنکس)پاکستان سمیت تمام وزرائے خارجہ نے حماس کی جانب سے غزہ کا انتظام ایک عبوری فلسطینی انتظامی کمیٹی کے سپرد کرنے کی آمادگی کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب، قطر اور مصر کے وزرائے خارجہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غزہ جنگ کے خاتمے سے متعلق تجویز پر مذاکرات کے آغاز سے متعلق حماس کے ردعمل کو خوش آئند قرار دیا ہے۔امریکی صدر کی جانب سے پیش کردہ تجاویز میں غزہ جنگ کے خاتمے، تمام یرغمالیوں کی رہائی اور نفاذ کے طریقہ کار سمیت دیگر شامل ہیں۔
جاری اعلامیہ کے مطابق وزرائے خارجہ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل سے بمباری فوری روکنے اور تبادلے کے معاہدے پر عمل درآمد شروع کرنے کے مطالبے کا خیر مقدم کیا، خطے میں امن کے قیام کے لیے ان کی کوششوں کو سراہا۔وزرائے خارجہ نے اس پیش رفت کو ایک جامع اور پائیدار جنگ بندی کے قیام اور غزہ کے عوام کو درپیش سنگین انسانی صورتحال کے حل کے لیے ایک حقیقی موقع قرار دیا۔انہوں نے اس بات پر زور دیا گیا کہ تجاویز کے تمام پہلوؤں پر جامع مذاکرات فوراً شروع کیے جائیں تاکہ ان کے نفاذ کے طریقہ کار پر اتفاق کیا جا سکے۔وزرائے خارجہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ تجاویز پر عمل درآمد، غزہ پر جاری جنگ کے فوری خاتمے اور ایک جامع معاہدے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھیں گے۔ان کوششوں کے ذریعے انسانی امداد کی بلا رکاوٹ ترسیل، فلسطینی عوام کی جبری بے دخلی کی ممانعت، شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانا، تمام یرغمالیوں کی رہائی، فلسطینی اتھارٹی کی غزہ واپسی، غزہ اور مغربی کنارے کا اتحاد، تمام فریقوں کی سلامتی کے لیے ایک متفقہ سیکیورٹی نظام، اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا، غزہ کی تعمیر نو اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ و پائیدار امن کا قیام ممکن ہو سکے گا۔
