The Voice of Chitral since 2004
Monday, 24 August 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

لال مسجد اور حقیقت کا انکار — سچ دفن نہیں ہوتا ۔ تحریر: ثناءاللہ مجیدی

Chitral Times

لال مسجد اور حقیقت کا انکار — سچ دفن نہیں ہوتا ۔ تحریر: ثناءاللہ مجیدی

لال مسجد اور حقیقت کا انکار — سچ دفن نہیں ہوتا ۔ تحریر: ثناءاللہ مجیدی

لال مسجد اور حقیقت کا انکار — سچ دفن نہیں ہوتا ۔ تحریر: ثناءاللہ مجیدی

اٹھارہ برس گزر گئے مگر لال مسجد کا المیہ اب بھی تاریخ کی پیشانی پر ایک نہ مٹنے والا داغ ہے۔ وہ داغ جو وقت گزرنے کے باوجود زخم کی طرح تازہ ہے۔ جب کبھی اس سانحے کا ذکر ہوتا ہے تو کئی گھروں کی ویرانیاں، ماؤں کی سسکیاں، بہنوں کے آنسو اور باپوں کی ٹوٹی ہوئی کمر آنکھوں کے سامنے پھر لوٹ آتی ہے۔ لیکن افسوس کہ اس قوم کی تاریخ میں ایسے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے وقتاً فوقتاً ان پر نمک چھڑکا جاتا رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں ایک بہت بڑے ادارے جامعۃ الرشید کے مہتمم حضرت مفتی عبد الرحیم صاحب نے اپنے بیان میں کہا کہ “لال مسجد آپریشن میں ایک بھی طالبہ شہید نہیں ہوئی۔” یہ جملہ صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ ان خاندانوں کے لیے درد ناک صدمہ ہے جن کے پیارے اس آپریشن کی نذر ہوئے۔

یہ دعویٰ نہ صرف ناقابلِ یقین ہے بلکہ اس قوم کی اجتماعی یادداشت کی توہین بھی ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ واقعہ جسے سرکاری اعداد و شمار میں بھی سو سے زائد طلبہ و طالبات کی شہادت قرار دیا گیا جسے بی بی سی، الجزیرہ سی این این اور دیگر عالمی میڈیا نے رپورٹ کیا، جس کے حوالے ویکی پیڈیا پر آج بھی تفصیل سے درج ہیں، اور جسے پاکستانی سرکاری چینلز نے براہِ راست دکھایا اُسے محض ایک جملے میں جھٹلا دیا جائے؟ کیا یہ علمی دیانت ہے یا تاریخ سے کھلا انحراف؟

تاریخ محض الفاظ اور دعوؤں کا نام نہیں بلکہ شواہد مشاہدات اور قربانیوں سے بنتی ہے۔ لال مسجد کے واقعے کو اگر کوئی شخص محض ایک بیان سے جھٹلا دے تو یہ نہ صرف سچائی کی توہین ہے بلکہ ان خاندانوں کی بھی توہین ہے جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا۔ کیا کسی کو زیب دیتا ہے کہ وہ سنی سنائی باتوں پر اتنا بڑا دعویٰ کرے اور اس کے نتیجے میں ان والدین کے دل دُکھائے جو اپنی بیٹیوں کے جنازے اٹھا چکے ہیں؟ وہ جنازے، وہ قبریں، وہ والدین کی چیخیں، وہ زخمیوں کی ایمبولینسیں یہ سب کیا تھے؟ کیا یہ سب محض سراب تھے؟ کیا اتنے ناقابلِ تردید شواہد کو نظر انداز کر دینا علمی دیانت ہے یا بے حسی؟

سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر یہ معاملہ واقعی اتنا ہی ضروری تھا تو گزشتہ اٹھارہ برسوں تک خاموشی کیوں اختیار کی گئی؟ اور اب اچانک ایسی کون سی دینی یا قومی ذمہ داری آن پڑی کہ یہ بیان دینا ناگزیر سمجھا گیا؟ تاریخ کے حساس اور خون آلود ابواب پر غیر ذمہ دارانہ لب کشائی صرف زخموں کو ہرا کرنے اور قوم کے اعتماد کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔

مفتی صاحب کا یہ جملہ محض ایک انفرادی رائے نہیں بلکہ بہت سے شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے۔ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ان کی زبان پر یہ بیان کیوں آیا؟ کیا یہ ان کا ذاتی مشاہدہ ہے یا کسی اور کی زبان ان کے ذریعے بول رہی ہے؟ کیا ایک عالمِ دین کے شایانِ شان ہے کہ وہ تحقیق، شہادت اور سرکاری اعداد و شمار کو پسِ پشت ڈال کر ایسا غیر ذمہ دارانہ اور بچگانہ دعویٰ کریں جو تاریخ اور حقیقت دونوں کے برعکس ہو؟

علماء کا مقام امت کی رہنمائی ہے۔ ان کا منصب یہ ہے کہ وہ سچ کے ساتھ کھڑے ہوں، چاہے اس کی قیمت کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو۔ لیکن جب کسی عالم کی زبان سے ایسا بیان آئے جو مظلوم کے زخموں کو تازہ کرے اور ظالم کے بیانیے کو تقویت دے تو یہ صرف تاریخ کے ساتھ زیادتی نہیں بلکہ دین کی روح سے بھی انحراف ہے۔

یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ لال مسجد آپریشن میں جانیں ضائع ہوئیں، نوجوان شہید ہوئے اور خاندان اُجڑ گئے۔ اس کی گواہی صرف متاثرین ہی نہیں بلکہ ریاست کے اپنے ریکارڈ اور بین الاقوامی ادارے بھی دے رہے ہیں۔ پمز اسپتال کے باہر والدین کی آہ و بکا، زخمی طلبہ وطالبات کی لاشوں کو ایمبولینسوں میں ڈالنے کے مناظر مختلف شہروں میں ایک ہی دن میں کئی جنازے اٹھنے کی خبریں جیسے کہ دیر بالا میں 13جنازے انکے وارثین آج بھی موجود بلکہ مفتی صاحب کے بیان کے بعد ابھی کسی نے ان وارثین سے تصدیقی ویڈیو بنائی — یہ سب ریکارڈ پر ہیں۔ اگر یہ سب جھوٹ ہے تو سوال یہ ہے کہ وہ لاشیں کس کی تھیں؟ وہ جنازے کن کے تھے؟ وہ قبریں کس کی ہیں جو آج بھی گواہی دے رہی ہیں؟

یہ درست ہے کہ بعض لوگوں نے اُس وقت “ہزاروں شہیدوں” کا دعویٰ کیا تھا جو تحقیق میں درست ثابت نہ ہوا۔ مگر مبالغہ الگ چیز ہے اور حقیقت کا انکار الگ۔ اگر ایک بھی بے گناہ مسلمان مارا گیا تو وہ بھی ظلم ہے، وہ بھی خونِ ناحق ہے۔ اور اس کا انکار انصاف و انسانیت دونوں کے ساتھ بے وفائی ہے۔ ایک مسلمان کا خون اتنا قیمتی ہے کہ قرآن کہتا ہے: “جس نے ایک جان کو قتل کیا گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا۔” (المائدہ: 32) تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ “ایک بھی نہیں” کہہ کر اس ظلم کو سرے سے جھٹلا دیا جائے؟

علماء کا منصب یہ ہے کہ وہ مظلوم کے ہم نوا اور سچ کے پرچم بردار ہوں، نہ کہ ظالم کے وکیل اور طاقت کے ترجمان۔ تاریخ ہمیشہ یہ سوال دہراتی رہے گی کہ جب کمزور کراہ رہے تھے تو علماء کہاں تھے؟ کیا انہوں نے مرہم رکھا یا زخموں کو نمک زَدہ کیا؟ کیا وہ حق کے علمبردار بنے یا جبر کے نقیب؟

تاریخ کا یہ اٹل اصول ہے کہ سچ دبایا تو جا سکتا ہے مگر مٹایا نہیں جا سکتا۔ کربلا سے لے کر لال مسجد تک، ہر دور کے سانحات اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ وقتی طور پر طاقتور کامیاب دکھائی دیتے ہیں، مگر وقت کا سیلاب ان کی عمارتوں کو بہا لے جاتا ہے اور سچائی کا چراغ ہمیشہ روشن رہتا ہے۔

لال مسجد کے شہداء کی قبریں آج بھی زندہ گواہی دے رہی ہیں، ان ماؤں کی آنکھوں کے آنسو اور بہنوں کی سسکیاں اب بھی اعلان کر رہی ہیں کہ ظلم ہوا تھا، خون بہایا گیا تھا اور معصوم جانیں خاک میں سلائی گئی تھیں۔

اصل سوال یہ نہیں کہ کتنے افراد شہید ہوئے، بلکہ یہ ہے کہ کیا مظلوم کی سسکیوں کو جھٹلایا جا سکتا ہے؟ کیا شریعت یہ اجازت دیتی ہے کہ ہم طاقتور کے بیانیے کا سہارا لے کر مقتول کی لاش سے نظریں چرائیں؟ ہرگز نہیں! دین تو یہ کہتا ہے کہ اگر زمین پر ایک قطرہ خونِ ناحق بھی گرا تو اس کا حساب لازم ہوگا۔

آج کے علماء کے لیے لمحۂ فکریہ ہے کہ وہ سوچیں تاریخ انہیں کن الفاظ میں یاد کرے گی—مظلوموں کے حامیوں میں یا ظالموں کےوکیلوں میں؟ اور روزِ قیامت جب ترازو نصب ہوں گے تو سوال یہی ہوگا:”جب مظلوم رو رہا تھا، اُس وقت تم کہاں تھے؟”

مفتی صاحب سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ جب سے نیا بورڈ ان کی سربراہی میں آیا ہے، مسلسل ایسے بیانات سامنے آ رہے ہیں جو تنقید اور اختلاف کا سبب بنے ہیں۔ ان کے اپنے طلبہ اور اساتذہ تک کا کہنا ہے کہ ایک بیان کی وضاحت ابھی باقی ہوتی ہے کہ دوسرا بیان آ جاتا ہے، اور پھر دفاع کی گنجائش بھی باقی نہیں رہتی۔ میری رائے یہ ہے کہ حضرت کو اپنے اصل مشن پر توجہ دینی چاہیے، اپنی علمی و دینی کاوش کو آگے بڑھانا چاہیے اور ایسے حساس موضوعات سے احتراز کرنا چاہیے جو انتشار اور افتراق کو جنم دیتے ہیں۔ بادی النظر میں محسوس ہوتا ہے کہ یہ بیانات کسی مخصوص دباؤ یا مراعات کے نتیجے میں دیے جا رہے ہیں، جو ایک عالمِ دین کے شایانِ شان نہیں۔

خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں
ترا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں