The Voice of Chitral since 2004
Tuesday, 11 August 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

تجھے دیوانہ کیوں نہ کہوں؟؟؟ – تحریر: ابوسفیان ظاہر الدین چترالی

Chitral Times

تجھے دیوانہ کیوں نہ کہوں؟؟؟ – تحریر: ابوسفیان ظاہر الدین چترالی

تجھے دیوانہ کیوں نہ کہوں؟؟؟ – تحریر: ابوسفیان ظاہر الدین چترالی

تجھے دیوانہ کیوں نہ کہوں؟؟؟ – تحریر: ابوسفیان ظاہر الدین چترالی

زندگی کتنی عزیز اور قیمتی ہے جو صرف ایک ہی بار ملتی ہے۔ لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو دیوانگی میں اپنی خوشگوار اور حسین زندگی کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ ایسا ہی ایک دیوانہ ہم نے بھی دیکھا جو پاکستان کے چوک چوراہوں میں ہزاروں میل دور غزہ کے مظلوم باشندگان کے لیے چیختا، چلاتا اور تڑپتا ہے۔ کبھی تن تنہا حکومت کے سامنے کھڑے ہوکر فریاد کرتا ہے کہ

خدارا!
ان معصوم فلسطینیوں کا قتلِ عام بند کرو اور ان کی مدد کرو۔
کبھی غیر ملکی سفارت خانوں کے دروازے کھٹکھٹاتا ہے مگر نہ کوئی اس کی آواز سننے پر آمادہ ہے اور نہ ہی اپنوں نے اس کا ساتھ دیا۔
زندگی میں بے شمار یار و دوست تھے مگر کسی نے قدم سے قدم ملانے کی جرأت نہ کی۔ جس پارٹی کے لیے انہوں نے زندگی نچھاور کی اس نے بھی سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا اور نظریں چرا لیں۔

رشتہ دار بھی منہ موڑ گئے کیونکہ آخر اپنی زندگی سب کو عزیز جو ہے۔
ہر کوئی اس جیسا دیوانہ تھوڑی ہوتا ہے؟؟؟
وہ چاروں طرف پکارتا رہا لیکن کارواں میں کوئی شامل نہ ہوا تب وہ اپنی اہلیہ اور بچوں سمیت اسلام آباد کے بدلتے موسم میں دھرنا دیے بیٹھے رہیں، حالات سخت ہوئے پولیس کے نوخیز افسران نے ڈرایا دھمکایا مگر اس بوڑھے شیر کی دھاڑ میں ذرا بھی کمی نہ آئی۔
اس نے بین الاقوامی اداروں کو للکارا جو خود کو تحفظِ انسانیت اور امن کے علَم بردار کہتے ہیں۔ ان کو جھنجھوڑا کہ کیا اہلِ غزہ انسان نہیں؟ یا آپ کے تعاون اور منصوبے صرف مخصوص قوموں کے تحفظ کے لیے ہیں؟ کہاں ہے عالمی برادری؟ کہاں ہیں آغا خانی ادارے؟ کہاں ہیں ایدھی فاؤنڈیشن؟ کہاں ہیں وہ این جی اوز جو خدمتِ انسانیت کے نام پر اپنے مقاصد حاصل کرتی ہیں؟
مگر یہ صدا کسی کے کانوں تک نہ پہنچی نہ کسی کے دل پر اثر ہوا۔
اس مردِ مجاہد کے دل میں تڑپ اور ایمان کی حرارت مزید بڑھتی رہی چنانچہ حدیثِ نبوی صلی اللّٰه علیہ وسلم المؤمنون كرجل واحد إذا اشتكى عینه اشتكى كله، وإذا اشتكى رأسه اشتكى كله پر عمل کرتے ہوئے اس نے فیصلہ کیا کہ غزہ کا محاصرہ توڑ کر اہلِ غزہ تک دوائیں اور خوراک پہنچانا ہے لہٰذا وہ گلوبل صمود فلوٹیلا کا حصہ بن گیا۔
ارے دیکھو دیکھو!
یہ کیسا دیوانہ ہے؟ جو پرائے لوگوں کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈال رہا ہے۔
اپنے گھر بار، بیوی بچوں اور آرام و آسائش کو چھوڑ دیا۔ کیا اسے زندگی عزیز نہیں؟ کس مٹی سے بنا ہے یہ انسان؟
ان کی خیر خواہ حکومت نے اسے روکنے کی کوشش کی کیونکہ وہ ان کی جان بچانا چاہتی تھی مگر انہوں نے کسی کی نہ سنی اور سمندر کی موجوں پر سوار ہو کر نکل کھڑا ہوا۔ کیونکہ انہیں یقین تھا کہ

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی بے
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی بے

دو ہفتے سمندر کے طوفانی موجوں سے لڑتے رہیں آخر کار وہ دن آگیا کہ سامنے اسرائیل کے مسلح درندے نمودار ہوئے اور موت سر کے اوپر منڈلانے لگیں مگر اس کے لہو کا درجۂ حرارت مزید بڑھ گیا۔
موت و زندگی کے کشمکش میں بھی وہ اپنی سوئی ہوئی قوم کو جگانے کی صدا لگاتا رہا۔
پتہ نہیں کس خمیر سے بنا ہے یہ شخص؟ کس گھاٹ کا پانی پیا ہے اس نے؟
یقیناً یہ کوئی عام دیوانہ نہیں یہ انسانیت کا محسن دیوانہ ہے جسے دنیا سینیٹر مشتاق احمد کے نام سے جانتی ہے اور ت

اقیامت یاد بھی رکھے گی۔

اللّٰه تعالیٰ سینیٹر مشتاق سمیت دیگر قافلے والوں کی حفاظت فرمائیں اور اہلِ غزہ کو اسرائیلی درندوں سے نجات عطا فرمائیں آمین ثم آمین یا ربّ العالمین۔