The Voice of Chitral since 2004
Thursday, 27 August 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

وکٹ کی دونوں طرف کھیلتی حکومت – تحریر: نجیم شاہ

Chitral Times

وکٹ کی دونوں طرف کھیلتی حکومت – تحریر: نجیم شاہ

وکٹ کی دونوں طرف کھیلتی حکومت – تحریر: نجیم شاہ

وکٹ کی دونوں طرف کھیلتی حکومت – تحریر: نجیم شاہ

حکومت اس وقت ایک ایسی سفارتی پچ پر کھڑی ہے جہاں گیند دونوں طرف سے آ رہی ہے، مگر بلّا ایک ہی ہے — اور وہ بھی لرزتا ہوا۔ ایک طرف واشنگٹن کی وکٹ ہے، جہاں مفادات کی گیند گھومتی ہے، دُوسری طرف فلسطین کی وکٹ ہے، جہاں اُصولوں کی گیند تیز رفتار یارکر بن کر آتی ہے۔ حکومت دونوں طرف کھیلنے کی کوشش کر رہی ہے، مگر یہ کھیل کرکٹ نہیں، اقتدار کا امتحان ہے — جہاں ایک غلط شاٹ پوری اننگز کو ختم کر سکتا ہے۔

یہی وہ لمحۂ ہوتا ہے جب قیادت کی اصل پہچان سامنے آتی ہے۔ یا تو وہ تاریخ میں اُصولوں کی علامت بن جاتی ہے، یا مصلحتوں کے ملبے تلے دفن ہو جاتی ہے۔ فلسطین کا مسئلہ محض ایک بین الاقوامی تنازع نہیں، بلکہ پاکستانی عوام کے دل کا معاملہ ہے۔ یہ وہ جذباتی رشتہ ہے جو مسجد اقصیٰ سے لے کر شہید بچوں تک پھیلا ہوا ہے۔ اور جب عوام کو محسوس ہوتا ہے کہ اُن کے جذبات کو واشنگٹن کی میز پر رکھ کر سودے بازی کی جا رہی ہے، تو ردعمل صرف احتجاج تک محدود نہیں رہتا، بلکہ بغاوت کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔

حکومت کی موجودہ حکمت عملی ایک سفارتی کرتب ہے — ایسا کرتب جس میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اقوام متحدہ میں فلسطینیوں کے حق میں بیانات، اسرائیلی مظالم کی مذمت، اور دو ریاستی حل کی حمایت وہ اقدامات ہیں جو اُصولی مؤقف کا تاثر دیتے ہیں۔ مگر ساتھ ہی ساتھ، امریکہ سے تعلقات کی بحالی، اقتصادی تعاون کی خواہش، اور خاموشی سے مفاہمت کے اشارے وہ پہلو ہیں جو مصلحتوں کی سیاست کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ دوہرا کھیل وقتی فائدہ تو دے سکتا ہے، مگر طویل المدت میں اعتماد کی دیواریں گرا دیتا ہے۔

عوام فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں — جذباتی طور پر، تاریخی طور پر، اور مذہبی طور پر۔ مگر حکومت مصلحتوں کے سائے میں دبکی ہوئی ہے۔ وہ بیانات تو دیتی ہے، مگر عملی قدم اُٹھانے سے گریزاں ہے۔ وہ مذمت تو کرتی ہے، مگر تعلقات کی راہ بھی کھلی رکھتی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں قیادت کو فیصلہ کرنا ہوتا ہے — کہ وہ عوام کے ساتھ کھڑی ہے یا عالمی دباؤ کے سامنے جھکی ہوئی ہے۔ کیونکہ دونوں طرف کھیلنے والا کھلاڑی بہت جلد آؤٹ ہو جاتا ہے۔

سوشل میڈیا، آزاد ذرائع ابلاغ اور عالمی رائے عامہ نے اب ہر حکومتی قدم کو عوامی عدالت میں لا کھڑا کیا ہے۔ اب کوئی فیصلہ پردے کے پیچھے نہیں رہتا۔ اگر حکومت فلسطین کے معاملے پر کوئی ایسا قدم اُٹھاتی ہے جو عوامی جذبات کے منافی ہو، تو اس کا ردعمل صرف سڑکوں پر نہیں، بیلٹ باکس میں بھی نظر آئے گا۔ اور اگر عالمی دباؤ کے تحت اُصولوں کی قربانی دی گئی، تو پاکستان کی ساکھ بین الاقوامی سطح پر بھی کمزور ہو جائے گی۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی کا اہم جزو ہوتے ہیں۔ مگر ان تعلقات کی بنیاد اگر قومی وقار کی قربانی پر رکھی جائے، تو وہ دیرپا نہیں رہتے۔ امریکہ کو خوش رکھنے کی کوشش میں اگر عوامی اعتماد کھو دیا جائے، تو وہ نقصان کسی بھی امداد یا تجارتی رعایت سے پورا نہیں ہو سکتا۔ حکومت کو یہ سمجھنا ہو گا کہ عوامی جذبات کو نظر انداز کر کے کوئی بھی سفارتی کامیابی مکمل نہیں ہوتی۔

یہ وہ لمحۂ ہے جب حکومت کو تنگ رسی پر چلنے کا کھیل ترک کرنا ہوگا۔ وکٹ کی دونوں طرف کھیلنے کی حکمت عملی اب نہ صرف فرسودہ ہو چکی ہے بلکہ خطرناک بھی۔ عوام اب مبہم بیانات سے نہیں بہلتے، وہ دوٹوک مؤقف چاہتے ہیں، واضح سمت چاہتے ہیں، اور سب سے بڑھ کر عملی اقدامات چاہتے ہیں۔ اُصول، عوامی اعتماد اور سفارتی تدبر — یہی وہ تین ستون ہیں جن پر ایک باوقار، خوددار اور مستحکم پاکستان کی عمارت کھڑی ہو سکتی ہے۔ بصورت دیگر، یہ سفارتی توازن ایک دن ایسا لڑکھڑائے گا کہ منظر ہی بدل جائے گا۔