فلاحی ادارے نعمت خداوندی – میری بات/روہیل اکبر
پاکستان میں فلاحی ادارے نعمت خداوندی سے کم نہیں اگر یہ نہ ہوں تو غریب لوگ سسک سسک کر مرجاتے اور ہمارے جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں غربت، بے روزگاری اور صحت و تعلیم کے مسائل سر اٹھائے کھڑے ہیں وہاں فلاحی ادارے کسی نعمت سے کم نہیں یہ ادارے ریاست کی ناکافی سہولیات کو سہارا دیتے ہیں اور ایسے طبقات تک بنیادی سہولیات پہنچاتے ہیں جن تک اکثر حکومت کی رسائی ممکن نہیں ہوتی لاہور کے رہنے والے زبیدہ ویلفیئر ہسپتال اور الاحسان آنکھوں کے ہسپتال سے بخوبی واقف ہونگے جو عوامی خدمت کے ریکارڈ توڑ رہے ہیں اسی طرح ایدھی فاؤنڈیشن سے لے کر چھیپا، سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ، انڈس ہسپتال، شوکت خانم میموریل ہسپتال اور اخوت جیسے ادارے اس ملک کے حقیقی ہیروز ہیں یہ سب ادارے کسی لالچ یا شہرت کے بغیر دن رات خدمتِ خلق میں مصروف رہتے ہیں عبدالستار ایدھی مرحوم نے جب ایک پرانی ایمبولینس سے خدمت کا آغاز کیا تھا تو شاید کسی نے سوچا بھی نہ ہوگا کہ ایک دن یہ ادارہ دنیا کا سب سے بڑا ایمبولینس نیٹ ورک بنا دے گا
اسی طرح اخوت نے سود کے بغیر قرض دینے کا ایسا ماڈل متعارف کرایا جو آج دنیا میں مثال بن چکا ہے لاکھوں افراد نے انہی چھوٹے قرضوں سے اپنا کاروبار شروع کیا روزگار پیدا کیا اور اپنے خاندان کو محتاجی سے نکالافلاحی اداروں کی خدمات نہ صرف مالی مدد تک محدود ہیں بلکہ یہ تعلیم، صحت، خوراک، رہائش، حتیٰ کہ آفات کے دوران ریسکیو آپریشنز میں بھی سب سے آگے نظر آتے ہیں سیلاب اور زلزلے جیسی آفات میں یہی ادارے سب سے پہلے متاثرہ علاقوں تک پہنچتے ہیں المیہ یہ ہے کہ ریاست کی طرف سے ان اداروں کو وہ پذیرائی نہیں ملتی جو ملنی چاہیے بیوروکریٹک رکاوٹیں، ٹیکس کے مسائل اور بعض اوقات بے جا نگرانی ان کے کام کو مشکل بنا دیتی ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر یہ ادارے نہ ہوں تو کروڑوں افراد غربت، بھوک اور بیماری کی دلدل میں پھنسے رہیں وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت ان فلاحی اداروں کو سہولت فراہم کرے، ان کے ماڈلز سے سیکھے اور انہیں قومی پالیسی کا حصہ بنائے تاکہ ریاست اور سول سوسائٹی مل کر ایک فلاحی معاشرہ تشکیل دے سکیں جیسا کہ قائداعظم نے خواب دیکھا تھا کیونکہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں حکومت کے وسائل محدود اور مسائل بے شمار ہیں وہاں فلاحی ادارے کسی رحمت سے کم نہیں
یہ ادارے ایسے وقت میں آگے بڑھ کر خدمات انجام دیتے ہیں جب ریاست اکثر بے بس دکھائی دیتی ہے ایدھی فاؤنڈیشن کی مثال لیجیے دنیا کا سب سے بڑا ایمبولینس نیٹ ورک رکھنے والا ادارہ جو سالانہ 123,962 مریضوں اور فوت شدگان کو ایمبولینس سروس فراہم کرتا ہے اس کے پاس تقریباً 1,800 ایمبولینسیں ہیں جو ملک کے ہر کونے میں موجود ہیں لاوارث لاشوں کی تدفین ہو، حادثات کے زخمیوں کو بچانا ہو یا مصیبت میں گھرے مریض کو ہسپتال پہنچانا ہو ایدھی کے رضاکار سب سے پہلے موجود ہوتے ہیں اسی طرح اخوت نے سود کے بغیر قرض دینے کا ماڈل متعارف کرایا جس نے لاکھوں گھرانوں کو غربت سے نکالا اب تک اخوت تقریباً 230 ارب کے قرضے فراہم کر چکی ہے اور اس کا ریکوری ریٹ تقریباً 99.9% ہے جو دنیا میں اپنی مثال آپ ہے یہ قرضے ایسے افراد کو معاشی خود کفالت فراہم کرتے ہیں جو بینک کے دروازے پر بھی نہیں جا سکتے تعلیم کے میدان میں دی سٹیزن فاؤنڈیشن (TCF) کی خدمات قابلِ تحسین ہیں۔ یہ ادارہ ملک بھر میں 2,000 سے زائد اسکولوں میں تین لاکھ سے زیادہ طلبہ کو معیاری تعلیم فراہم کر رہا ہے
ان اسکولوں میں لڑکیوں کا تناسب 50 فیصد سے زائد ہے جو تعلیم کے ذریعے ایک سماجی انقلاب کی بنیاد رکھ رہا ہے صحت کے شعبے میں انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک ہر سال 60 لاکھ سے زائد مریضوں کو بالکل مفت علاج فراہم کرتا ہے جبکہ شوکت خانم کینسر ہسپتال ہزاروں مریضوں کو مفت یا سبسڈائزڈ علاج مہیا کرتا ہے چھیپا ویلفیئر ٹرسٹ بھی اپنی خدمات میں کسی سے کم نہیں یہ ادارہ ہر ماہ 50 ہزار خاندانوں تک راشن اور خوراک پہنچاتا ہے اور ایمبولینس سروس میں ایدھی کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا نظر آتا ہے لاہور میں شالامار لنک روڈ پر زاہدہ ویلفیئر ہسپتال 50روپے میں مریضوں نہ صرف علاج کررہا ہے بلکہ اس ادارے نے سرکاری ہسپتالوں کے معیار کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے اس ہسپتال کے بانی ڈاکٹر توقیر اسلم نے یہ ہسپتال اس لیے بنایا کہ لاہور اور آس پاس کے غریبوں، بیماروں اور ضرورت مندوں کی مدد کی جا سکے
ڈاکٹر صاحب لاہور میں پیدا ہوئے اور 6 سال کی عمر میں اپنے والدین میاں محمد اسلم اور زاہدہ نسیم کے ساتھ برطانیہ چلے گئے انہوں نے لیڈز میں اسکول کی تعلیم مکمل کی اور 1981 میں برسٹل یونیورسٹی سے ڈاکٹر کے طور پر کوالیفائی کیا پھر وہ کینٹ کے چیتھم میں جنرل پریکٹیشنر بن گئے ڈاکٹر توقیر اسلم کو انسانی خدمت کا جنون ہے انہوں نے 1983 میں وشنگ ویل چیریٹی کے قیام سے آغاز کیا2000 میں ڈاکٹرتوقیر اسلم نے اپنی والدہ زاہدہ کے نام سے زاہدہ ویلفیئر ڈسپنسری شروع کی 2009 میں اس ڈسپنسری نے ایک بڑے ہسپتال کی شکل اختیار کرلی جو اب 50 بستروں پر مشتمل ایک غیر منافع بخش فلاحی ہسپتال ہے اور لاہور میں غریبوں اور ضرورت مندوں کو رعایتی طبی سہولیات فراہم کرنا ہے یہ تمام اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر یہ ادارے نہ ہوں تو کروڑوں لوگ غربت، بھوک اور بیماری کے ہاتھوں پس کر رہ جائیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ان اداروں کے کام کو آسان بنائے، ٹیکس میں رعایت دے، کاغذی کارروائی کم کرے اور ریاستی پالیسی میں ان کی شراکت داری کو یقینی بنائے تاکہ ہم اجتماعی طور پر ایک فلاحی ریاست کی جانب بڑھ سکیں یہی وہ خواب ہے جو قائداعظم نے دیکھا تھا اور جسے پورا کرنے کی ذمہ داری ہم سب پر عائد ہوتی ہے۔
