موسم، موسمیاتی تبدیلی اور کچھ باتیں – شاہ عالم علیمی
ہر سال کے مقامی موسم کا اجتماعی ذہنی ریکارڈ رکھنا ضروری ہے۔ اسی طرح ہم موسم میں تغیر کو سمجھنے اور پھر اس سے نبرد آزما ہونے کی صلاحیت حاصل کر سکیں گے۔ اسی طرح ہم بروقت بہتر فصلوں کی پیداوار کر سکتے ہیں۔
پچھلے موسم گرما یعنی مئی سے ستمبر تک روزانہ بارش ہوتی رہی اور بادل آسمان پر موجود رہے۔ جس کی وجہ سے فصلیں کمزور اور بعد ازاں خراب ہوئیں۔ پھر موسم خزاں میں یعنی ستمبر سے دسمبر تک دھوپ نکلتی رہی۔ نئے سال یعنی 2025ء کی شروعات برف باری سے ہوئی۔ البتہ سرما کے باقی دن دھوپ نکلتی رہی۔ یہ میں غذر خاص کی بات کررہا ہوں۔
نیا سال مقامی ریفرنس سے بہت نارمل سال رہا ہے۔ جس کے لیے ہم سب پر فرض ہے کہ ہم الحمدللہ کہیے۔ سرما میں جب بھی بارش ہوئی خوب ہوئی جبکہ باقی ماندہ دن بغیر بادل کے صاف اور دھوپ نکلی ہوئی۔ پھر یکم اپریل کو خوب برف باری ہوئی اور تقریباً دو فٹ کے قریب (اندازاً) برف پڑی۔ البتہ چند دن میں پگھل گئی۔ موسم بہار اور گرما دونوں گرم مرطوب رہے۔ گندم کی فصیلیں بہت اچھی اور وقت سے پہلے ہوئیں۔ آلو کی پیداوار میں نمایاں کمی (چھ بوری کے مقابلے دو بوری) ہوئی۔ اور مکئی نارمل۔ پھل اور میوے خوب ہوئے۔
اگر میں بچپن کی یادیں تازہ کروں تو ہمارے سکول سے واپسی پر راستے میں پھول کھل رہے ہوتے۔ یہ پھول عموماً جولائی کے پہلے ہفتے میں اپنے جوبن پر ہوتے۔ لیکن اس سال کے مشاہدے سے میں نے اندازہ لگایا کہ یہ پھول ایک مہینے پہلے نکلے ہوئے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موسم میں پورے ایک مہینے کا فرق آیا ہے۔ اس کی قابل ذکر بات پھل دار پودوں کا بھی ہے۔ پھلدار درختوں کے پھول جب نکل رہے ہوتے تو عموماً ہوا نکلتی اور زیادہ تر پھولوں کو لے اڑاتی لیکن اس سال ایسا نہیں ہوا۔ پھول نکلے اور پھل ظاہر ہونا شروع ہوگئے اسی طرح جیسے کہ مذکور ہوا پھلدار درختوں پر اس سال زبردست پھل لگے۔ جس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ زیادہ تر پھل پودوں پر ہی سوکھ گئے۔ گندم کی فصل بھی ماشاءاللہ بہت اچھی ہوئی۔ لوگوں کو اس سے فائدہ ہوا۔
گلگت بلتستان اور چترال میں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے اپنی طرف سے جتنا ہوسکتا ہے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ان میں سر فہرست پودے لگانا ہے۔ سمینٹ اور تیل کا کم سے کم استعمال نئے ثواب کے زمرے میں آتا ہے۔ ان محدود پہاڑی علاقوں میں سیمنٹ کا استعمال کرتے رہیں گے تو وہ دن دور نہیں جب دریاؤں میں بھی پانی نہیں آئے گا۔ جہاں تک پودے لگانے کی بات ہے ہمیں فرض سمجھ کر پودے لگانا چاہیے اور بچوں کو بچپن سے اس کی عادت ڈالنا چاہیے۔ ہمیں اس سلسلے میں نئے روایات کی تشکیل کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے ہم اپنی لوک داستانوں اور کہانیوں سے مدد لے سکتے ہیں اور مقامی زبان و ادب اور تہذیب و تمدن میں نئے روایات کی جدید تقاضوں کے مطابق تشکیل کرسکتے ہیں۔ اسی طرح ہم موسمیاتی تبدیلی کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ اس سے مقابلے کرنے اور نئے موسمی حالات اور تغیرات سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔ جی بالکل سائنس و ٹیکنالوجی سے مدد لینا بھی بہت ضروری ہے۔
