سیاسی پناہ: مظلومیت کی دکان اور ضمیر کا دیوالیہ- تحریر: نجیم شاہ
یہ دُنیا اب صرف رہنے کی جگہ نہیں، ایک اسٹیج ہے۔ کردار بدلتے ہیں، مکالمے وہی رہتے ہیں۔ فیس بُک پر سیاسی پناہ کے موضوع پر اپنی ہی ایک پرانی پوسٹ نظر سے گزری۔ پڑھ کر دل میں وہی پرانی خراش جاگی جو ہر بار اس منافقانہ تماشے کو دیکھ کر محسوس ہوتی ہے۔ سوچا، کیوں نہ پھر سے لکھا جائے …. شاید کچھ بدلے نہ، لیکن کچھ جھنجھوڑا جا سکے۔
سیاسی پناہ، جسے کبھی مظلوموں کے لیے تحفظ کی علامت سمجھا جاتا تھا، آج ایک چالاکی، ایک کاروبار، ایک دھندہ بن چکا ہے۔ ترقی پذیر ممالک کے شہری اب مظلومیت کی جعلی رسیدیں بنا کر مغربی دُنیا کے دروازے کھٹکھٹاتے ہیں۔ کہانی کچھ یُوں ہوتی ہے: ’’مجھے مارا گیا، مجھے دھمکایا گیا، مجھے مذہب، نسل یا نظریئے کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا۔‘‘ اور پھر وہی پُرانا اسکرپٹ، وہی گھسا پٹا ڈرامہ، بس کردار نئے ہوتے ہیں۔
وکیل حضرات بھی اِس کھیل کے ماہر ہو چکے ہیں۔ فیس کے عوض وہ ایسی کہانیاں گھڑتے ہیں کہ عدالتیں بھی دھوکہ کھا جاتی ہیں۔ سچائی؟ وہ تو اب صرف لغت میں رہ گئی ہے۔ عدالتوں میں جو پیش ہوتا ہے، وہ ایک جذباتی فلم کا اسکرپٹ ہوتا ہے، جس کا مقصد صرف ایک ہوتا ہے: ’’ڈی پورٹ نہ کرو، گلے لگا لو۔‘‘ اور مغرب، جو اِنسانی حقوق کا علمبردار بنا بیٹھا ہے، اِس جذباتی بلیک میلنگ کے جال میں اکثر پھنس جاتا ہے۔
افغانستان، پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا …سبھی اِس دوڑ میں شامل ہیں۔ ہر ملک سے نکلنے والے ہزاروں لوگ مظلوم بن کر مغرب کی دہلیز پر جا بیٹھتے ہیں۔ طالبان کو جابر، سیاسی جماعتوں کو قاتل، مذہبی گروہوں کو انتہا پسند بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ اور خود کو؟ خود کو ایسا مظلوم کہ فرشتے بھی رو پڑیں۔ یہ وہ مظلوم ہیں جن کے پاس ہر ظلم کی تفصیل ہوتی ہے، بس ضمیر کی کوئی خبر نہیں ہوتی۔
یہ سب کچھ صرف اِس لیے ہو رہا ہے کہ دُنیا میں انصاف کی آنکھوں پر پٹی نہیں، بلکہ اب چشمہ بھی دھندلا ہو چکا ہے۔ اصل مظلوم کی آواز ان جعلی چیخوں میں دب جاتی ہے۔ ادارے ہر درخواست کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یوں وہ لوگ جو واقعی خطرے میں ہوتے ہیں، ان کی مدد میں تاخیر ہو جاتی ہے یا انہیں رد کر دیا جاتا ہے۔ یہ وہ المیہ ہے جس پر اب صرف افسوس نہیں، ایک سنجیدہ مکالمہ ہونا چاہیے۔
ترقی پذیر ممالک میں سیاسی عدم استحکام، معاشی بدحالی اور سماجی ناہمواری نے عوام کو اس حد تک مجبور کر دیا ہے کہ وہ عزت، سچ اور ضمیر کو بیچ کر صرف ایک ویزا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ لوگ جعلی دستاویزات بناتے ہیں، جھوٹی کہانیاں گھڑتے ہیں، اور پھر عدالتوں میں مظلوم بن کر پیش ہوتے ہیں۔ اور افسوس، اکثر کامیاب بھی ہو جاتے ہیں۔ یہ کامیابی نہیں، ایک اجتماعی دھوکہ ہے۔ ایک ایسا دھوکہ جس میں قانون بھی بے بس ہے اور اخلاقیات بھی شرمندہ۔
وکلاء؟ اُن کا کردار بھی کسی فلمی ولن سے کم نہیں۔ پیسے کے عوض وہ ایسی کہانیاں ترتیب دیتے ہیں کہ عدالت بھی دھوکہ کھا جائے۔ اُن کے لیے سچ یا جھوٹ کوئی معنی نہیں رکھتا۔ بس کیس جیتنا ہے، فیس لینی ہے، اور اگلا کلائنٹ پکڑنا ہے۔ قانون کی رُوح مر چکی ہے، اور اس کی لاش پر مفادات کا رقص جاری ہے۔ یہ وہ منظر ہے جسے دیکھ کر شرم بھی شرمندہ ہو جاتی ہے۔
سیاسی پناہ کا قانون اب ایک جذباتی بلیک میلنگ کا ذریعہ بن چکا ہے۔ یہ وہ دھندہ ہے جس میں سچائی کا خون ہوتا ہے، اور ہمدردی کو بیچا جاتا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ عالمی ادارے اِس قانون پر نظرِ ثانی کریں۔ سچ اور جھوٹ میں فرق کرنے والا نظام بنائیں۔ ورنہ یہ جعلی مظلومیت، یہ قانونی فراڈ، ایک ایسا ناسور بن جائے گا جو انسانیت کو اندر سے کھوکھلا کر دے گا۔
ہم مظلوم ہیں یا مظلومیت کا کاروبار کر رہے ہیں؟ یہ سوال اب محض فکری مشق نہیں، ایک اجتماعی آئینہ ہے۔ جب ہر شخص مظلوم بننے پر تُلا ہو، تو اصل مظلوم کہیں دَب جاتا ہے۔ ہم نے ہمدردی کو اِتنا نوچا ہے کہ رحم بھی شرمندہ ہے، اور قانون کو اِتنا استعمال کیا ہے کہ انصاف بھی تھکا ہوا لگتا ہے۔ اگر مظلومیت بھی بکنے لگے، تو سمجھ لیجیے انسانیت کا جنازہ نکل چکا ہے … اور ہم سب اِس جنازے میں خاموش شریک ہیں۔
