خیبرپختونخوا حکومت کا ایسوسی ایٹ ڈگری کے حامل امیدواروں کو نوکری کے لیے اہل قرار دینے کا فیصلہ
پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز) خیبرپختونخوا حکومت نے اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ایک اہم اقدام اٹھاتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ایسوسی ایٹ ڈگری کے حامل امیدوار سرکاری ملازمتوں کے لیے اہل ہوں گے۔ اس فیصلے کا مقصد طلبہ کو تعلیم کے ساتھ ساتھ روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنا ہے۔اس سلسلے میں خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے کہا کہ صوبے کے مختلف سرکاری کالجز میں 250 سے زائد بی ایس پروگرامز میں ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرامز کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صرف وہی پروگرامز ایسوسی ایٹ ڈگری میں تبدیل کیے گئے ہیں جن میں وقت کے ساتھ ساتھ طلبہ کی تعداد کم ہوتی جا رہی تھی۔انہوں نے کہا کہ چار سمسٹرز یعنی دو سال مکمل کرنے پر طلبہ ایسوسی ایٹ ڈگری حاصل کر سکیں گے، اور یہ ڈگری ایچ ای سی کی پالیسی کے مطابق بی ایس پروگرام میں ضم ہو سکے گی۔ طلبہ چاہیں تو بعد میں اپنی ڈگری کسی بھی کالج یا یونیورسٹی سے بی ایس پروگرام کے باقی سمسٹرز مکمل کر کے چار سالہ ڈگری بھی حاصل کر سکتے ہیں۔مینا خان آفریدی نے مزید کہا کہ جن پروگرامز میں طلبہ کی تعداد اطمینان بخش ہے، وہاں حسبِ معمول چار سالہ بی ایس ڈگری جاری رہے گی۔ تاہم، ایسوسی ایٹ ڈگری رکھنے والے طلبہ کو نوکری حاصل کرنے کا پورا موقع ملے گا کیونکہ صوبائی کابینہ کو سفارشات بھیج دی گئی ہیں کہ جہاں بھی 14 سالہ تعلیم لازمی ہوگی وہاں ایسوسی ایٹ ڈگری ہولڈرز بھی اہل تصور کیے جائیں۔صوبائی وزیر نے کہا کہ یہ اقدام طلبہ کے تعلیمی سفر میں آسانی پیدا کرے گا، وقت اور وسائل کی بچت کرے گا اور انہیں کم مدت میں روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرے گا۔
………………………………………….
حکومت نے کسانوں سے گندم لے کر ذخیرہ اندوزوں کے پاس رکھوا دی اب گندم کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہونا شروع ہو گیا ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم
گندم کی قیمتوں میں 50 فیصد اضافہ ہوگیا ہے۔ کیا 50 فیصد اضافہ مذاق ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم
پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز) مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم کا گندم اور آٹے کے نرخ میں اضافہ بارے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ 2022 میں اخری دفعہ پاکستان میں گندم کی بمپر کارپس آئی تھی پاکستان کے کسان بیچارے اس کے بعد سے مسلسل عذاب میں ہیں جب کسان عذاب میں آتا ہے تو پورا پاکستان 25 کروڑ آبادی متاثر ہو جاتی ہے۔ جب تک کسان خوشحال نہیں ہوگا تو پاکستان خوشحال نہیں ہو سکتا۔ مزمل اسلم نے کہا کہ حکومت گندم سستا کرنے کا بڑا کریڈٹ لے رہی تھی اور حکومت نے کسانوں سے گندم لے کر ذخیرہ اندوزوں کے پاس رکھوا دی اب گندم کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہونا شروع ہو گیا ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ گندم 40 کلوگرام کا نرخ 3943 روپے ہوگء ہے جو 72 ہفتوں کا بلند ترین سطح ہے جس کا مطلب ہے کہ گندم کی قیمتوں میں 50 فیصد اضافہ ہو گیا ہے کیا 50 فیصد اضافہ مذاق ہے۔
مزمل اسلم نے کہا کہ عوام کو 70 روپے کا آٹا 120 روپے میں ملنا شروع ہو گیا ہے حکومت کہہ رہی ہے مہنگائی ختم ہو گئی ہے جبکہ مہنگائی نے غریب کا بیڑا غرق کر دیا۔ مزمل اسلم نے کہا کہ سیلاب کا گندم سے کیا لینا دینا ہے گندم کی فصل کٹ گئی ہے اگلے سال تک کی گندم پڑی ہوئی ہے اور گندم کے فصل میں کونسے آخری دو ماہ رہ گئے کہ ذخیرہ کم ہوگیا ہے ابھی تو گندم کی اگلی فصل میں سات آٹھ مہینے پڑے ہیں۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ ملک میں وافر گندم موجود ہے لیکن اس کے پیچھے ایک مافیا ہے گندم مافیا کیلئے کسی کی سرپرستی لازمی بات ہے سرپرستی انکی ہے جن کی پالیسیز ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ گندم نرخ میں اضافہ سیلاب سے جوڑنا ایک بہانہ ہے جو کام کرنا تھا وہ کر گئے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ چینی اسکینڈل آپ کے سامنے ہیں چینی میں بھی ایسا ہوا پہلے چینی برآمد کردی اب کہہ رہے ہیں کہ درآمد کرنی ہے۔
مزمل اسلم نے کہا کہ خیبرپختونخوا سے بھی پوچھا جا رہا ہے کہ کتنے چینی کی ضرورت ہے خیبرپختونخوا کھبی بھی چینی اپنی ضرورت کے مطابق پیدا نہیں کرتا تھا وہ پاکستان میں مارکیٹوں سے لیتا ہے اور ابھی بھی مارکیٹ سے لے گا۔ مزمل اسلم نے کہا کہ وفاقی حکومت کھبی پانچ اور کھبی تین لاکھ ٹن چینی درآمد کی بات کرتا ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ وفاقی حکومت کہہ رہی ہے کہ جو چینی درآمد کی جائے گی وہ ڈیوٹی فری ہوگی تاکہ لوگوں کو سستی نرخ پر ملے مگر کہہ رہے ہیں کہ ڈیوٹی فری چینی کی بھی لینڈڈ کاسٹ 170 روپے ہوگی پھر اس میں دوسرے خرچے ملا کر 200 روپے تک فی کلو ہو جائے گی۔
