کمپنی اور ذمہ داروں کے خلاف لگائے گئے الزامات بے بنیاد اور حقائق کی منافی ہیں، یکسرمسترد کرتے ہیں۔ ٹونی پاک کمپنی کا جوابی وضاحت
چترال (چترال ٹائمز رپورٹ) ٹونی پاک کمپنی نے چترال کے ایک شہری محی الدین ثانی کی جانب سے گزشتہ دنوں کی جانے والی پریس کانفرنس میں لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد اور حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے انھیں یکسر مسترد کر دیا ہے۔چترال ٹائمز کو جاری ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ اُن کے خلاف پریس کانفرنس میں محی الدین ثانی نے خود کو فرنٹیئر مائنز اونر ایسوسی ایشن کا انفارمیشن سیکرٹری ظاہر کیا تھا۔ تاہم، ایسوسی ایشن نے باقاعدہ تحریری وضاحت کی ہے کہ وہ نہ تو اس کے رکن ہیں اور نہ ہی کسی عہدے پر فائز ہیں۔اس کے باوجود، ثانی نے کمپنی پر کرپشن، غیر قانونی برآمدات، بلیک لسٹنگ، نیب کیسز اور ڈائریکٹرز کے خلاف سنگین الزامات عائد کیے۔ ٹونی پاک منرلز نے ان الزامات کو بے بنیاد اور ہتک آمیز قرار دیتے ہوئے سختی سے تردید کی ہے۔
کمپنی نے اپنے وضاحتی بیان میں کہا کہ اس کے تمام ایکسپلوریشن اور ریکونیسنس لائسنس قانونی طور پر جاری ہوئے ہیں اور اس کے آپریشنز مکمل طور پر معدنی قوانین کے مطابق ہیں۔ کمپنی نے وضاحت کی کہ 413 ٹن اینٹمونی اوور حکومت کی جانب سے منظور شدہ 500 ٹن پائلٹ پراجیکٹ پرمٹ کے تحت برآمد کیا گیا، جس کے لیے 206,546 امریکی ڈالر کا درست لیٹر آف کریڈٹ بھی موجود ہے۔ 96 فیصد ریکوری کی تصدیق شدہ رپورٹ جمع کرائی جا چکی ہے اور فضلہ باقاعدہ طور پر تلف کر دیا گیا ہے۔
مزید کہا گیا کہ نیب سے متعلق کارروائیاں چند مخصوص افراد کے خلاف تھیں، کمپنی کے خلاف نہیں۔ ایس آئی ایف سی سیکرٹریٹ نے ایس ای سی پی ریکارڈ سے کمپنی پر عائد تمام پابندیاں ختم کر دی ہیں۔ کمپنی نے واضح کیا کہ اسے کبھی بھی کسی سرکاری ادارے نے بلیک لسٹ نہیں کیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ڈاکٹر اسحاق، جو کمپنی کے چینی پارٹنر ہیں، کو چترال منصوبے پر کام کرنے کی مکمل قانونی اجازت حاصل ہے اور وہ معدنیات کی قانونی برآمدات میں مصروف ہیں، جن میں ایف ڈبلیو او کے تحت بڑے پیمانے پر کاپر کانسینٹریٹ کی برآمد بھی شامل ہے، جس کی ہر کھیپ کی مالیت تقریباً 20 لاکھ امریکی ڈالر ہے۔ کمپنی2011 سے مقامی ملازمین کو باقاعدگی سے ماہانہ تنخواہیں ادا کرتی رہی ہے اور گاوں و زمین مالکان کے ساتھ طے شدہ معاہدوں کے مطابق کرایہ بھی ادا کرتی ہے۔
پریس ریلیز میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس کا کیس اس وقت ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق مائنرل ٹائٹل کمیٹی (ایم ٹی سی) میں زیر غور ہے اور متعلقہ ایکسپلوریشن ایریا حتمی فیصلے تک قانونی تحفظ میں ہے۔ اب تک تقریباً 50 لاکھ امریکی ڈالر (1.42 ارب روپے) کی سرمایہ کاری کی جا چکی ہے جبکہ مزید 11 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی تجویز حکام کو فیصلے کے لیے پیش کی جا چکی ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ جھوٹے بیانات اور جعلی نمائندگی اس کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں، اور وہ ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔
دریں اثنا ڈاکٹر محمد اسحاق نے بھی ان پرلگائے گئے الزامات کو جھوٹا، من گھڑت اور بدنیتی پر مبنی قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ اپنے باضابطہ بیان میں انہوں نے وضاحت کی کہ یہ تمام الزامات بے بنیاد ہیں اور بظاہر عوام کو گمراہ کرنے کی ایک سوچی سمجھی مہم کا حصہ ہیں۔
ڈاکٹر اسحاق نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے محی الدین کو باقاعدہ قانونی نوٹس جاری کر دیا ہے اور اپنے وکیل کو ہتک عزت کے مقدمے کے لیے کارروائی کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے اس پریس کانفرنس کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے معاملات جو عدالت میں زیر سماعت ہیں، انہیں توڑ مروڑ کر عوام کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات نہ صرف ذاتی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ چترال کے عوام کی عزت اور ریاستی اداروں کی ساکھ کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ جھوٹے بیانیے پھیلانے والوں سے ہوشیار رہیں تاکہ معاشرے میں بلا وجہ بداعتمادی اور نفرت نہ پھیلے۔
