آنحضرت ﷺ بحیثیت ِ رحمة للعالمين – تحریر: سردار علی سردارؔ
اللہ تعالیٰ نے بنی نوعِ انسان کی عقلانی، ذہنی اور روحانی پرورش کے لئے ایک عظیم ہستی کو رحمة للعالمين بنا کر ایک بے سرو سامان اور پریشان کن ماحول کی آبادکاری کے لئے مبعوث فرمایا۔ یہ ماحول خود ساختہ رسم و رواج ، ایک دوسرے کے خون کا پیاسا، ظلم و استبداد کا بازاراور قبائلی تغصب میں گرا ہوا تھا۔ لوگوں میں روحانی اور اخلاقی قدریں ختم ہوچکی تھیں اور انسانیت نام کی کوئی چیز باقی نہ رہی تھی۔چنانچہ ایسے ناگفتہ بہ حالات میں خدا کی طرف سے ایک رحمت نازل ہوئی جس نے حیاتِ انسانی کی کشتی کو بھنور سے نکال کر جاودانی زندگی عطا کی۔ یہ عظیم ہستی اپنی زات میں خدا کا بے بدل شاہکار، رحمت للعالمین، دانائے سبل اور ہادی جزو کل محمد مصطفیٰ ﷺ کی مبارک زات عالی صفات ہیں۔
آپ ﷺ کی زاتِ اقدس کا بیان کوئی بھی انسان نہیں کرسکتا کیونکہ آپ کی عظیم شخصیت اور پاکیزہ ہستی ایک گہرے سمندر کی طرح وسیع ہے جس کی وسعتوں اور گہرائی کا اندازہ نہیں لگا یا جا سکتا۔ جب سے آپ ﷺ کی بعثت ہوئی ہے لوگ آپ کی تعریف اور صفات بیان کرتے آئے ہیں کیونکہ آپﷺ کی حمدو ثنا سے ہی دلوں کو راحت اور روح کو سکون ملتا ہے ۔ غالبؔ نے ایک دفعہ کہا تھا
غالبؔ ثنائے خواجہ بہ یزدان گزاشتیم
کان زاتِ پاک مرتبہ دانِ محمد است۔
ترجمہ: غالب نے آقا کی ثنا خوانی خدائے بزرگ وبرتر پر چھوڑ دی ہے اس لئے کہ اللہ پاک خود ہی محمد ﷺ کی قدر و منزلت کو صحیح طور پر جاننے والا ہے۔
مختصر یہ کہ ایسے عظیم المرتبت ہستی کی صفات بیان کرنے والا خدا کی زات کے سوا کوئی نہیں ہوسکتا کیونکہ وہی زات ہی اپنے حبیب کی ثنا خونی خوب بیان کرسکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ رب العزت نے اپنے کلام میں آپ ﷺ کو رحمة للعالمين کے عظیم ٹائٹل سے یاد فرمایا ہے ارشاد ِ خداوندی ہے وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِيْنَ۔ آپ (ﷺ) سارے جہانوں کیلئے پیکر رحمت بناکر بھیجے گئے ہیں (الانبیاء: ۱۰۷)
اس آیتِ ربانی سے یہ حقیقت واضح ہے کہ آپ ﷺ کسی ایک خطہ یا کسی ایک قوم کے لئے نہیں آئے بلکہ آپ ﷺ پوری دنیا کے لئے رحمت بن کر تشریف لائے ہیں۔ آپﷺ دین و دنیا کے لئے رحمت ہیں، جِنّات اور انسانوں کے لئے رحمت ہیں، مومن و کافر کے لئے رحمت ہیں، حیوانات، نباتات اور جمادات کے لئے رحمت ہیں الغرض عالَم میں جتنی چیزیں داخل ہیں ان سب کے لئے رحمت ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ آپ صلعم کی تعلیمات سے پوری انسانیت یکسان طور پر فیضیاب ہیں۔اللہ تبارک و تعالیٰ کی ربوبیت کا تقاضا یہ ہے کہ آپ تمام مخلوقات کے خالق و مالک ہیں اس طرح آپ کے محبوب پیغمبر حضرت محمد ﷺ تمام عالم کے لئے رحمت ہیں۔ آپ ﷺ کے رحمت کے دروازے سب کے لئے کھلے ہیں۔یہ آپﷺ کی رحمت ہی تو ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو عزاب اور گمراہیوں سے بچایا ہے جیسا کہ ارشادس خداوندی ہے وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْؕ8: 33
ترجمہ: اور اللہ کی یہ شان نہیں کہ وہ انہیں عزاب دے جب کہ آپ ان میں موجود ہوں۔
اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو اپنے بندوں کے لئے معلم بنا کر بھیجا ہے یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺکی زات میں علوم و معارف کے بے شمار خزانے بکھرے موتیوں کی صورت میں چھپے ہوئے ہیں۔یہی علوم و معارف جب چشمہ ء فیضان بن کر انسانوں کے دلوں میں اترتے ہیں تو تزکیہ نفس کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔مختصر یہ کہ آپ ﷺ کی تعلیمات اور علوم و معارف سے عام طور پر عالمِ انسانیت کو فیض پہنچ رہا ہے اور مومنین پربالخصوص کمال مہربان ہیں اور رؤف رحیم ہیں کیونکہ آپﷺ کے فیضان نظر سے عاشقان ِ رسول صلعم کو ہر طرف سے خوشبو ملتی رہتی ہے گویا اس کی مثال ایسی ہے کہ کوئی بندہ جب پھولوں کے پاس سے گزرتا ہے تو پھولوں کی مہک سے وہ بندہ بھی معطر ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آپﷺ کی تعلیمات سے فیض یافتہ انسان بھی دوسروں کو اپنے علم سے فیضیاب کرا تا رہتا ہے اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری و ساری ہے۔
الغرض آج عید میلادالنبی ہے اور پیغمبرِ اسلام حضرت محمد ﷺ کی ولادت کی خوشی کا جشن ہے۔ آئیں تہیہ کریں کہ حضور ﷺ کی محبت کو اپنے دلوں میں جگہ دیں اور اپنے اندر احترامِ انسانیت، قوت برداشت،معافی عدل و انصاف،حلیمی اور اخلاقی اقدار جیسی صفات پیدا کریں۔آج پوری دنیا میں معاشی بد حالی، مہنگائی، بیروزگاری اور بیراہ روی کا بازار گرم ہے۔ ایسے حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی تعلیمات اور اس کے علوم و معارف سے فیض اٹھاتے ہوئے ایک پر امن معاشرہ قائم کریں جہاں غریبوں اور بے سہارہ لوگوں کی مدد ہوں تاکہ نبی کریم صلعم کی محبت اور اس پر ایمان لانے کی پختگی کا اثر ہو تاکہ خدا اور اس کا رسول ہم سے راضی ہوں۔ علامہ محمد اقبال ر ح نے کیا خوب فرمایا۔
بہ مصطفیٰ برسان خویش را کہ دین ہمہ اوست
اگر بہ او نہ رسیدی تمام بو لہبی است۔
ترجمہ: اگر آپؐ مصطفیٰ سے محبت کرنا چاہتے ہیں تو اپنے تمام وجود کو اُس کے لئے وقف کردے اگر ایسا نہیں کرسکتے تو تیری یہ محبت ابو لہب کی محبت جیسی ہے۔
6 ستمبر 2025
