حالیہ سیلاب میں مجموعی طور پر 12 ہزار سے زائد خاندان متاثر ہوئے ، 571 گھر مکمل طور پرمنہدم جبکہ 1983 گھر وں کوجزوی نقصان پہنچا۔ وزیراعلیٰ
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈا پور نے کہا ہے کہ ملاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن میں کلاﺅڈ برسٹ کے نتیجے میں آنے والے سیلابی ریلوں، بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ سے صوبے کے متعدد اضلاع متاثر ہوئے ہیں جن میں بونیر، شانگلہ، سوات، بٹگرام، باجوڑ اور صوابی سب سے زیادہ متاثرہ ہیں۔اُنہوں نے کہاکہ سیلابوںسے ہونے والے حادثات میں 411 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، 132 افراد زخمی جبکہ 12 تاحال لاپتہ ہیں۔ مجموعی طور پر 12 ہزار سے زائد خاندان متاثر ہوئے ہیں جبکہ 571 گھر مکمل طور پرمنہدم ہوئے جبکہ 1983 گھر وں کوجزوی نقصان پہنچا۔
اسی طرح سیلابی ریلوں سے 1996 دکانیں، 413 سڑکیں، 72 پل، 589 سرکاری عمارتیں اور بجلی کے 99 فیڈرز بھی متاثر ہوئے ہیں۔پیرکے روز اسلام آباد میں سینئر صحافیوں کے ساتھ منعقدہ غیر رسمی نشست کے دوران گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ ریلیف سرگرمیوں میں حصہ لینے والا صوبائی حکومت کا ایک ہیلی کاپٹر بھی حادثے کا شکار ہوا جس میں عملے کے پانچ افراد نے جامِ شہادت نوش کیا۔
وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبائی حکومت کے بروقت اقدامات کے نتیجے میں ریسکیو اداروں اور ضلعی انتظامیہ نے 6700 افراد کو زندہ بچایا جبکہ اس مقصد کیلئے 2500 ریسکیو اہلکار، 1000 سول ڈیفنس رضا کار، پاک فوج کے تین یونٹس اور پانچ ہیلی کاپٹرز تعینات کئے گئے۔ 15 اگست سے متاثرہ اضلاع میں فوری ایمرجنسی نافذ کی گئی اور متاثرہ علاقوں میں ایمبولینس ،فائر فائٹر ز وہیکل اور کشتیوں سمیت 176 گاڑیاں فوری طور پر پہنچائی گئیں۔ متاثرہ علاقوں میں 176 ریسکیو گاڑیاں، 200 ہیوی مشینری، میڈیکل کیمپس اور چار موبائل ہسپتال بھی قائم کئے گئے۔ اب تک ڈھائی لاکھ افراد کو پکا پکایا کھانا، 140 ٹرک نان فوڈ آئٹمز اور 15 واٹر فلٹریشن پلانٹس فراہم کئے جا چکے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے صوبائی حکومت کے ریلیف اقدامات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ اموات کی صورت میں معاوضہ 10 لاکھ سے بڑھا کر 20 لاکھ روپے، زخمیوں کیلئے ڈھائی لاکھ سے بڑھا کر 5 لاکھ روپے، مکمل منہدم گھروں کیلئے 4 لاکھ سے بڑھا کر 10 لاکھ روپے اور جزوی طور پر متاثرہ گھروں کیلئے ایک لاکھ سے بڑھا کر 3 لاکھ روپے کیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ پہلی بار تباہ شدہ دکانوں کیلئے بھی 5 لاکھ روپے فی کس معاوضہ مقررکیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اب تک 411 اموات میں سے 352 متاثرہ خاندانوں کو 704 ملین روپے، 136 میں سے 60 زخمیوں کو 30 ملین روپے، 571 میں سے 367 مکمل منہدم گھروں کے مالکان کو 367 ملین روپے، 1983 میںسے 1094 جزوی متاثرہ گھروں کے مالکان کو 328 ملین روپے اور1996 میں سے 253 تباہ شدہ دکانوں کے مالکان کو 126 ملین روپے ادا کئے جا چکے ہیں جبکہ 8000 خاندانوں کو فوڈ اسٹیمپ کی مد میں 1500 روپے فی خاندان فراہم کئے گئے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ متاثرین کے مال مویشیوں کے نقصانات کیلئے بھی معاوضے دیئے جائیں گے اور ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے۔ تمام متاثرین کو آئندہ ایک دو دنوں میں ہر قسم کے معاوضوں کی ادائیگی مکمل کر دی جائے گی۔بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ متاثرہ تمام 99 بجلی فیڈرز بحال کئے جا چکے ہیں، 406 متاثرہ سڑکوں میں سے 376 بحال ہو چکی ہیں، 77 پلوں میں سے 65 بحال کر دیئے گئے ہیں جبکہ 386 متاثرہ واٹر سپلائی اسکیموں میں سے 234 مکمل یا جزوی طور پر بحال کر دی گئی ہیں۔وزیر اعلیٰ نے مزید بتایا کہ صوبائی حکومت نے ریلیف اور بحالی کے لئے 4 ارب روپے جاری کر دیے ہیں جبکہ مزید 5 ارب روپے بھی جلد جاری کر دیئے جائیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈ اپور کا پڑوسی ملک افغانستان کے مختلف علاقوں میں زلزلے سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات پر افسوس کا اظہار
پشاور ( چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈ اپور نے پڑوسی ملک افغانستان کے مختلف علاقوں میں زلزلے سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سینکڑوں انسانی جانوں کے ضیاع پر افغان حکومت، عوام اور متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے ۔ وزیراعلیٰ نے جاںبحق افراد کی مغفرت اور پسماندگان کیلئے صبر جمیل کی دُعا کی ہے۔
وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کی حکومت اور عوام متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ اللہ تعالیٰ متاثرین کو اس سخت صورتحال کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ عطا فرمائے۔صوبائی حکومت مشکل کی اس گھڑی میں افغان بہن بھائیوں کی مدد کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ افعان حکومت اور متاثرین کو جو بھی تعاون اور مدد درکار ہوگی وہ صوبائی حکومت فراہم کرے گی۔
