سیلاب سے مکمل منہدم گھروں کا معاوضہ بڑھا کر 10 لاکھ روپے، جزوی طور پر متاثرہ گھروں کا معاوضہ تین لاکھ روپے جبکہ پہلی دفعہ تباہ شدہ دکانوں کے مالکان کیلئے پانچ لاکھ روپے معاوضہ مقرر کیا گیا۔وزیراعلیٰ
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور سے اقوام متحدہ کے ایک وفد نے جمعہ کے روز اسلام آباد میں ملاقات کی۔ وفد کے اراکین میں یو این کے ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر برائے پاکستان محمد یحییٰ، یو این ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر آفس کی سربراہ افکے بوٹسمین اور یونائیٹڈ نیشنز آفس فار کوآرڈینیشن آف ہیومینیٹیرین افیئرز کے سربراہ کارلوس گیہا شامل تھے۔ ملاقات میں خیبر پختونخوا حکومت اور اقوام متحدہ کے مابین اشتراک کار، ترقیاتی منصوبوں اور باہمی دلچسپی کے اُمور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر خیبر پختونخوا حکومت اور اقوام متحدہ کے مابین اشتراک کار کو مزید وسعت دینے اور سیلاب متاثرین کی بحالی میں باہمی تعاون اور اشتراک کار پر اتفاق کیا گیا۔ وفد نے وزیر اعلیٰ سے خیبر پختونخوا میں حالیہ سیلابوں سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات پر تعزیت اور دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔
وزیر اعلیٰ نے وفد کو آگاہ کیا کہ خیبر پختونخوا کے آٹھ اضلاع حالیہ سیلابوں اور بارشوں سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں ، ان سیلابوں سے چار سو سے زائد افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 240 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ اسی طرح سیلابوں سے 664 گھروں کو مکمل اور2431 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا۔ مزید برآں سکولز، بنیادی مراکز صحت ، روڈز انفراسٹرکچر اور پینے کے پانی کی فراہمی کا نظام بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ متاثرین کو فوری ریلیف کی فراہمی کے بعد جانی و مالی نقصانات کے معاوضوں کی ادائیگی پر کام شروع کیا گیا ہے، صوبائی حکومت نے اموات کے معاوضوں کو 10 لاکھ فی کس سے بڑھا کر 20 لاکھ روپے، زخمیوں کا معاوضہ ڈھائی لاکھ روپے سے بڑھا کر پانچ لاکھ روپے کر دیا۔
اسی طرح مکمل منہدم گھروں کا معاوضہ 4 لاکھ روپے سے بڑھا کر 10 لاکھ روپے، جزوی طور پر متاثرہ گھروں کا معاوضہ ایک لاکھ روپے سے بڑھا کر تین لاکھ روپے کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلی دفعہ تباہ شدہ دکانوں کے مالکان کیلئے پانچ لاکھ روپے معاوضہ مقرر کیا گیا اور جن دوکانوں میں سیلابی ریلہ داخل ہوا تھا ان کی صفائی کیلئے ایک لاکھ روپے مقرر کیے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں صوبائی حکومت نے فصلوں، باغات اور مال مویشیوں کے نقصانات کیلئے بھی معاوضے دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ معاوضوں کی ادائیگی کے لیے ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم رائج کیا ہے، رواں ہفتے اتوار تک تمام ادائیگیاں مکمل ہو جائیں گی۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ایسے کمسن بچے جن کا کوئی نہیں بچا، ایسے بچوں کو معاوضوں کی ادائیگی کیلئے متعلقہ ڈپٹی کمشنر کے ہاں اکاو نٹس کھولے جارہے ہیں۔
صوبائی حکومت سیلاب متاثرین کی بحالی و ریلیف اور ادائیگیوں میں سو فیصد شفافیت کو یقینی بنا رہی ہے اور متاثرین کو بروقت ریلیف کی فراہمی اور بحالی کے کاموں کی موثر نگرانی کیلئے اضافی افرادی قوت فراہم کی گئی۔ وزیر اعلیٰ کا مزید کہنا تھا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں اضافی طبی عملے اور موبائل میڈیکل یونٹس بھی تعینات کئے گئے ہیں جبکہ مراکز صحت میں ضروری ادویات کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا۔ اسی طرح امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کیلئے کابینہ اراکین نے متاثرہ علاقوں کے دورے کئے جبکہ انہوں نے خود بھی بونیر، سوات اور صوابی کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرکے نقصانات اور امدادی کاموں کا جائزہ لیا۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ان کی کوشش ہے کہ متاثرین کو کم سے کم ممکنہ وقت میں دوبارہ اپنے پاﺅں پر کھڑا کریں اور تباہ شدہ انفراسٹرکچرز کو جلد ازجلد بحال کرکے معمولات زندگی کو نارمل کریں۔ اب سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں روڈز انفراسٹرکچر ، آبنوشی انفراسٹرکچر اور متاثرہ بنیادی مراکز صحت کی بحالی کا مرحلہ شروع ہو رہا ہے، جن علاقوں میں پینے کے پانی کا نظام متاثر ہوا ہے وہاں پر واٹر فلٹریشن پلانٹ لگائے ہیں۔
اسی طرح وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کوشش ہے کہ سیلاب کے خطرات سے مستقل طور پر دوچار آبادیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کریں تاکہ انہیں آئندہ اس طرح کے حادثات سے بچایا جاسکے۔ علی امین گنڈاپور نے مزید واضح کیا کہ فوری اور عارضی اقدامات کے علاوہ صوبائی حکومت مستقبل میں سیلابوں سے بچنے کے لیے مستقل منصوبہ بندی بھی کر رہی ہے، ہم کلاوڈ برسٹ سے متاثرہ اضلاع میں پہاڑوں پر جال لگانے کی منصوبہ بندی بھی کر رہے ہیں تاکہ سیلاب سے نقصانات کم سے کم ہوں، اس کے علاوہ فیزیبل مقامات پر مزید چھوٹے اور چیک ڈیمز تعمیر کرنے کی منصوبہ بندی بھی کر رہے ہیں جبکہ آبی گزرگاہوں میں سیلاب سے آنے والا ملبہ اور ریت کو ہٹانے کے لیے علیحدہ سے منصوبہ شروع کر رہے ہیں۔
وفد نے اس موقع پر اس عزم کا اظہار کیا کہ اقوام متحدہ سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں لوگوں کی بحالی کے لیے بھر پور تعاون فراہم کرے گی۔ وفد اراکین کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں سیلابوں سے ہونے والے نقصانات پر افسوس ہوا، اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے علاوہ دیگر پسماندہ اضلاع میں بھی تعاون فراہم کریں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ضلع پشاور اور خیبر کے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ، مختلف علاقوں سے 300 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز )وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے تیز بارشوں کی وجہ سے ضلع پشاور اور خیبر کے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کے پیش نظر متعلقہ ضلعی انتظامیہ، پی ڈی ایم اے اور ریسکیو کے اعلی حکام کو فوری طور پر متاثرہ علاقوں میں پہنچنے اور ریسکیو آپریشنز کی بذات خود نگرانی کرنے کی ہدایت کی۔ وزیر اعلی کی خصوصی ہدایات پر ضلعی انتظامیہ، پی ڈی ایم اے اور ریسکیو کے اعلی حکام ریسکیو ٹیموں کے ہمراہ میں پہنچ کر ان علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف آپریشنز کی نگرانی کی۔ ریسکیو ٹیموں نے مختلف علاقوں سے 300 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا جبکہ پی ڈی ایم اے کے اربن فلڈنگ منیجمنٹ یونٹ کی ٹیموں نے متاثرہ گھروں اور علاقوں سے ڈی واٹرنگ مشینوں کی مدد سے پانی نکالنے کے لئے بروقت آپریشنز شروع کیے۔
پشاور کے مختلف علاقوں شاہین کالونی، صفیہ ٹاون، ورسک روڈ، ریگی بالا، بڈھنی پل کے اطراف اور دیگر مقامات پر گھروں، سڑکوں اور گلی کوچوں سے بڑی مقدار میں پانی کو نکال لیا۔ اسی طرح ضلعی انتظامیہ کے اہلکاروں نے پشاور کے بڈھنی نالہ اور دارمنگی میں سیلابی صورتحال کی وجہ سے نشیبی علاقوں کی آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا اور لوگوں کو ندی نالوں سے دور رکھنے کے لئے مسجدوں میں اعلانات کئے گئے۔ ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کی بروقت رسپانس کے نتیجے میں پشاور اور خیبر میں اربن فلڈنگ سے ابھی تک کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ تاہم تیز بارشوں کی وجہ سے پشاور میں مکان کی چھت گرنے سے ایک بچہ جاں بحق ہوا۔۔ریسکیو ٹیموں نے بروقت پہنچ کر اس حادثے کے تین زخمیوں کو بروقت ہسپتال منتقل کیا۔
درایں اثنا وزیر اعلی نے متعلقہ حکام کو ریسکیو اور ریلیف آپریشنز ختم ہونے تک متاثرہ علاقوں میں موجود رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ صورتحال معمول پر آنے تک متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور امدادی ٹیموں کی موجودگی یقینی بنائی جائے، ضلعی انتظامیہ، پی ڈی ایم اے اور ریسکیو کے اعلی حکام ان علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف سرگرمیوں کی خود نگرانی کریں، اربن فلڈنگ سے متاثرہ علاقوں میں امدادی اشیاء کی بروقت ترسیل کے لئے اقدامات کئے جائیں اور متاثرہ گھرانوں کے لوگوں کے مکینوں کے لئے کھانے پینے اور عارضی رہائش کا بندوبست کیا جائے۔
وزیر اعلی نے مزید اربن فلڈنگ کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کو ہمہ وقت الرٹ رہنے اور اربن فلڈنگ کے خطرے سے دوچار نشیبی علاقوں میں خصوصی حفاظتی انتظامات کر نے کی بھی ہدایت کی۔ وزیر اعلی نے حکام کو ہدایت کی کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے ان علاقوں میں مشینری، کشتیوں اور دیگر آلات کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔
