اپر چترال پولیس کی اہم کارروائی، شہلا یعقوب کیس کا مرکزی ملزم گرفتار
اپرچترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) اپر چترال پولیس نے حال ہی میں پیش آنے والے شہلا یعقوب کے مقدمے میں اہم پیش رفت حاصل کر لی ہے۔ ڈی پی او اپر چترال حمید اللہ کی خصوصی ہدایات پر تشکیل دی گئی تفتیشی ٹیم نے آج مرکزی ملزم جنید ولد محمد ہاشم کو گرفتار کر لیا ہے۔
جاری پریس ریلیز کے مطابق 14 اگست کو نیشکو سے تعلق رکھنے والی شہلا یعقوب اپنے گھر سے لاپتہ ہو گئی جس پر ان کے والد محمد یعقوب شاہ نے تھانہ مورکہو میں گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی۔ بعد ازاں 21 اگست کو ان کے اغوا کا شبہ ظاہر کیا گیا جس پر فوری طور پر دفعہ 365B PPC کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی۔
افسوسناک طور پر 24 اگست کو شہلا یعقوب کی نعش ایون لوئر چترال کے قریب دریا سے برآمد ہوئی۔ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق موت کی وجہ Asphyxia/Drowning قرار دی گئی۔ تفتیش کے دوران پولیس نے اہم شواہد اکٹھے کیے، جن میں متوفیہ کی چپل اور ایک رقعہ شامل ہیں، جنہیں فارنزک لیبارٹری بھیجا گیا ہے۔
27 اگست کو متوفیہ کے والد نے مقدمے میں جنید ولد محمد ہاشم کو نامزد کیا اور اسے قتل کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ جس پر پولیس نے مقدمہ میں دفعہ 302 PPC کا بھی اضافہ کیا۔ پولیس کی خصوصی ٹیم نے ملزم کی گرفتاری کے لیے بھرپور کوششیں کیں اور بالآخر اسے آج گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کر لی۔
پریس ریلیز میں ڈی پی او اپر چترال کا کہنا ہے کہ کیس کی میرٹ پر مبنی تفتیش کے لیے ایس پی انویسٹی گیشن اجمل خان کی سربراہی میں ایک سپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (SIT) تشکیل دی گئی ہے جو تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔
انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار حمید نے اپر چترال پولیس کی کارروائی کی تعریف کرتے ہوئے ڈی پی او کو اس کیس کی غیر جانبدارانہ تفتیش کی ہدایت کی تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کئے جا سکیں۔
