شہلا کو انصاف دو، سوشل میڈیا پرٹرینڈ، اپرچترال سے تعلق رکھنے والی طالبہ شہلا کی مبینہ خودکشی ، عوام سراپا احتجاج، ڈی پی او کا شہلا کے اہل خانہ سے ملاقات، جلد انصاف دلانے کی یقین دہانی

اپرچترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) اپرچترال کے نیشکو سے تعلق رکھنے والی طالبہ شہلا کی مبینہ خودکشی کا واقعہ اور لاش دریائے چترال سے برآمد ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر شہلا کے لواحقین کو انصاف دلانے کے حوالے سے انتہائی موثر ٹرینڈ چالو ہے ، مختلف فورم اور انسانی حقوق تنظیموں کی طرف سے ضلعی انتظامیہ اپرچترال سے پرزور مطالبہ جاری ہے ۔سوشل ایکٹوسٹس کا کہناہے کہ چترال میں بڑھتی ہوئی خودکشی کے واقعات کی ایک وجہ خودکشی کی کسی بھی مقدمے میں اُس کی تہہ تک پہنچنے سے پہلے کیس داخل دفتر ہوجاتی ہے ۔ اور فائل بند کی جاتی ہے ،لہذا شہلا کی مبینہ خودکشی کے محرکات اور اس کے پس پردہ عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لانا وقت کی اشد ضرورت ہے ۔ہادرے کہ شہلہ گرلز ڈگری کالج سے بی ایس کرچکی تھی۔
دریں اثنا ضلعی پولیس سربراہ چترال اپر حمیداللہ PSP اور ایس پی انویسٹی گیشن اجمل خان نے شہلا مرحومہ کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور مرحومہ کے ایصالِ ثواب کے لیے دعائے مغفرت کی۔ اس موقع پر تعزیت گاہ میں موجود عوام سے خطاب کرتے ہوئے ڈی پی او چترال اپر نے کہا کہ پولیس ہر پہلو سے اس کیس کی باریک بینی سے تفتیش کر رہی ہے اور انشاء اللہ العزیز بہت جلد اس کیس میں ملوث ملزم کو گرفتار کرکے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق 14 اگست 2025 کو شہلا رضا دختر محمد یعقوب شاہ سکنہ نیشکوکی گمشدگی کی رپورٹ تھانہ موڑکہو میں درج کی گئی، جس پر پولیس نے ابتدائی انکوائری کا آغاز کیا۔ بعد ازاں شہلا کے والد نے اپنی بیٹی کے اغواء کی بابت دوبارہ رپورٹ درج کروائی، جس پر 21 اگست 2025 کو تھانہ موڑکہو میں علت نمبر 59، بجرم 365-B پی پی سی کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی اور حسبِ ضابطہ تفتیش شروع ہوئی۔
تفتیش کے دوران شہلا مرحومہ کی چپل لبِ دریا سے برآمد ہوئی جبکہ ایک رقعہ، جسے مرحومہ کی اپنی تحریر قرار دیا جا رہا ہے، پولیس نے قبضے میں لیا۔ اس تحریر کا باقاعدہ فرانزک ٹیسٹ کیا جائے گا تاکہ عدالت میں بطور شہادت پیش کیا جا سکے۔ بعد ازاں مورخہ 24 اگست 2025 کو شہلا مرحومہ کی نعش بھی آیون کے سامنے سے دریا سے برآمد ہوئی، جس کا باقاعدہ پوسٹ مارٹم کرایا گیا۔ مختلف اعضاء مزید تجزیہ کے لیے متعلقہ اداروں کو بھیجے جا چکے ہیں، جبکہ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق شہلا کی موت asphyxia یعنی drowning سے واقع ہوئی۔
ڈی پی او چترال اپر نے کہا کہ اپر چترال پولیس جدید تکنیکی وسائل اور شواہد کی روشنی میں کیس کی تفتیش کو آگے بڑھا رہی ہے۔ سی ڈی آر سمیت اہم شواہد حاصل کیے جا چکے ہیں، جن سے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
ڈی پی او حمیداللہ PSP نے واضح کیا کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں۔ اپر چترال پولیس میرٹ کو ہر حال میں مقدم رکھے گی اور اس کیس میں ملوث ملزم کو ضرور کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔


